لاہور کے شیر

Monday,24 August 2009
از :  
زمرات : متفرق

مزاح لکھنا آسان نہیں ہے، مزاح لکھنے کے لئے انسان کا ڈفر یا پھر رانا ہونا ضروری ہے، ویسے تو بلو یا بلا سے بھی کام چل جاتا ہے ۔
میرے جیسے انسان مزاح میں بھی “گیس پیپر” کا سہارا لینے کی کوشش کرتے ہیں یا پھر “بوٹیاں” لے کر مزاح لکھتے ہیں، جیسے میرا ایک تکیہ کلام بلکہ کئی ایک “تکیے” بوٹیوں کی بدولت ہیں، زیادہ تر مزاحیہ بوٹیاں میں نیویارک کے ایک اردو کالم نگار کے کالموں سے اڑاتا ہوں نام یاد نہیں آ رہا اور فی الوقت میرے پاس اخبار موجود نہیں، شائد وجاہت کر کے نام ہے ۔ (وجاہت علی عباسی ۔ ترمیم)
ویسے تو میں نے سُنا ہے کہ پنجابی کے فی البدیہہ واہیات ڈرامے جنہیں مزاحیہ کہہ کر بیچا اور دیکھا جاتا ہے وہ بھی یونس بٹ یا گل نو خیز اختر جیسے لوگوں کی بوٹیاں ہی لگاتے ہیں، جب سے میں نے گل نو خیز اختر کی ٹائیں ٹائیں فِش پڑھی ہے، مجھے یقین ہے یہی بندہ پنجابی ڈراموں کی جگتیں لکھتا ہے ۔
ویسے حقیقت میں مجھے سمجھ بھی انہی کی جگتوں ، معاف کجیئے گا مزاح کی آتی ہے، نہیں تو عطاء الحق قاسمی یا مشتاق احمد یوسفی کے مزاح پر تو ایک دن بعد بلکہ بعض اوقات ہفتہ بھر بعد اُس کی کسی سے تشریح کروا کر ہنسی آتی ہے ۔
دماغی حالت کا اندازہ اس بات سے کیا جا سکتا ہے کہ ہماری ایک نئی نویلی اردو بلاگر عنیقہ یا انیقہ؟ ناز کی تحریریں پڑھنا شروع کروں تو لگتا ہے سب کچھ سمجھ آ رہا ہے، تحریر کے اختتام تک پہنچ کر تبصرہ کرنے لگو تو دماغ ساتھ چھوڑ جاتا ہے کہ کہا کیا گیا ہے ۔
“اینی وے” مزاح کے لئے میں ابھی ایک ویڈیو کی بوٹی لگا رہا ہوں، کچھ لوگوں کو یہ جگتیں یا چوولیں بھی لگ سکتی ہیں، پر میرا تو ہاسا نکل جاتا ہے عزیزی انکل کی باتیں سُن کر ۔



تبصرہ جات

“لاہور کے شیر” پر 10 تبصرے کئے گئے ہیں
  1. یہ جو عینک اور گیٹس والا شخص ہے اس کا نام کیا ہے ؟ کیا یہی گل نوخیز اختر ہے ؟

  2. واقعی مزاح لکھنا بہت مشکل ہے مگر اس سے بھی مشکل مزاح کو سمجھنا اور پھر ہنسنا. نیٹ کی دنیا میں کئی دفعہ ایسا ہوا ہے کہ آپ نے مزاحیہ فقرہ لکھا اور صاحب مخاطب آپ کے پیچھے پڑ گئے. یہی وجہ ہے کہ لوگ احتیاط کے طور پر مزاحیہ فقرے کیساتھ ہاہاہاہاہاہاہا جیسے اضافے لگا دیتے ہیں تا کہ کوئی کنفیوژن پیدا نہ ہو.

    • کیا بات لکھ دی میرا پاکستان جی
      صحیح بات ہے سمائلیز نا ہوں تو بعض دفعہ ”پچھے ای پے“ جاتے ہیں لوگ
      سمائلیز دراصل لکھی گئی بات کو لہجی بخشتے ہیں لیکن کچھ پڑھنے والوں کی نظر پھر بھی بڑی کمزور ہوتی ہے
      😀

  3. ڈاکٹر یونس بٹ بھی خاص کر اسی طرح لکھتے ہیں کہ ہر دو سطروں کے بعد ایک مکمل بوٹی موجود ہو تاکہ مستقل ری سائیکل ہوتی رہے. ایک کتاب میں سے تو فقرہ مکررہ اگر نکال دیا جاتا تو صفحات کی تعداد آدھی ہوجاتی لیکن آپ نے درست کہا کہ اس سے اسٹیج ڈرامہ کرنے والوں کو بڑی آسانی ہوگئی ہے اور کم از کم اسٹیج کے ناظرین کو آخر تک یہ آسرا رہتا ہے کہ مزاحیہ پروگرام ہی دیکھا ہے.

  4. تو آپ کو اس بات کا یقین ہے کہ شروع میں موجود ہوتا ہے.
    🙂

  5. جعفر says:

    یہ جی آفتاب اقبال کے زور قلم کا نتیجہ ہے
    بہت مزے کا لکھتا ہے جی
    جو سمجھ بھی آجاتا ہے

  6. عبداللہ says:

    مزاح تو کوئی خاص نہ تھا سوائے ایک جملے کے کہ وہ شیر یہ کہ کر چلاگیا ہے، میں اچھا بھلا شیر آں یہ لوگ مجھے کھوتی ریڑھی پر لگا لیں گے 🙂
    ویسے پروگرام مین جو اصلی شیر دکھایا گیا وہ تو نون لیگ ہوگئی مگر جو دوسرا جانور تھا وہ کیا عوام تھے یہ تو ہم عوام کی سراسر توہین ہے 🙁

  7. بہت خوب!

    واقعی مزاح نگاری بہت مشکل اور حساس کام ہے کہ ذرا سے لفظ کے ادھر سے ادھر ہونے سے تحریر اپنے معیار سے نیچے آ جاتی ہے۔

    یہ ویڈیو شاید دنیا نیوز کے پروگرام حسبِ حال کا ہے، سہیل احمد کی کامیڈی شروع سے متاثر کن ہیں، خاص طور پر ایک ٹی وی سیریل “ہوم سوئٹ ہوم” میں انہوں نے بہت لاجواب کام کیا ہے جو دیکھنے سے تعلق رکھتاہے۔

تبصرہ کیجئے

اس بلاگ پر آپ کے تبصرہ کی حوصلہ افزائی کی جاتی ہے
اگر آپ اپنے تبصرہ کے ساتھ تصویر لگانا چاہتے ہیں، تو یہاں جا کر تصویر لگائیں ۔