ایک اور سوال

Wednesday,10 December 2008
از :  
زمرات : پاکستان, متفرق

ہمارے معاشرے میں اگر ایک پچاس پچبن سالہ شخص کی بیوی یا کسی بیوی کا شوہر اگر اگے جہاں روانہ ہو جائے اور وہ دوسری شادی کر لیں، تو اسے اچھی نظر سے کیوں نہیں دیکھا جاتا؟
ہمارے قریب ایک پاکستانی انکل ہیں، ان کی بیوی دس بارہ سال قبل انتقال کر گئی تھیں، اب سب بچوں کی شادیاں کرنے کے بعد انہوں نے ایک بیوہ خاتون سے شادی کر لی، تو بچے ہی ان کے خلاف ہو گئے ہیں ۔ میری نظر میں تو یہ ان کا شرعی حق ہے آپ کیا کہتے ہیں؟

ہمارے ہوتے کوئی ہماری ماں کی جگہ لے، یہ ہم سے برداشت نہیں ہوتا والی سوچ کس قسم کی سوچ ہے؟

تبصرہ جات

“ایک اور سوال” پر 13 تبصرے کئے گئے ہیں
  1. میرے خیال میں ان صاحب کی اولاد کو یہ سوچنا چاہئے کہ اگر سب بچوں کی شادیاں کرنے کے بعد انہوں نے ایک بیوہ خاتون سے شادی کر لی تو کیا غلط کیا؟ اس طرح اس بیوہ خاتون کو بھی سہارا مل گیا اور وہ انکل کو بھی کوئی گھر سنبھالنے والا مل گیا، کیونکہ ان کے بچے یقنن اپنی اپنی دنیا مے مصروف ہو گئے ہوں گے اور ان کو وقت نھیں دیتے ہوگے.

  2. اس کی وجہ دین اسلام سے بیگانگی اور خودغرضی کے سوا کچھ نہیں

  3. اس کی وجہ جاہلیت ہے. کل کو اگر ان کی بیویوں‌ نے بوڑھے کی خدمت سے انکار کر دیا تو پھر وہ کیا کریں‌گے؟ یہ معاشرے کے دباؤ کا نتیجہ ہے. جب لوگ ایسی حرکت پر ایسے خاندان کا مذاق اڑاتے ہیں تو اولاد باپ کی دوسری شادی پر شرمندہ ہونے لگتی ہے حالانکہ انہیں حالات کا مقابلہ کرنا چاہیے اور کہنا چاہیے کہ ان کے باپ کا عمل اسلام کے عین مطابق تھا.

  4. ظاہر ہے کہ اولاد کا عمل اسلامی تعلیمات کے برخلاف ہے. بجائے اس کے کہ بچے اس بات کو سراہیں کہ باپ نے انکی شادیاں ہونے تک دوسری شادی نہیں کی وہ ان کے خلاف ہوگئے..
    ایک صاحب نے بتایا تھا کہ کچھ بچے اس لیے بھی خلاف ہوجاتے ہیں کہ جائداد میں ایک حصے دار کا اضافہ ہوگیا. واللہ اعلم باالصواب

  5. ڈفر says:

    یہ ہمارے معاشرے میں ایک لعنت ہے جسکا ہم پچھلے 40-50 سال میں پوری طرح شکار ہو چکے ہیں۔ ایک بیوی تک کو یہ تو منظور ہے کہ میاں حرام توپیاں کرتا پھرے لیکن اسکو دوسری شادی نہیں کرنے دیتی۔اگر بس میں ہو تو اپنے مرنے کے بعد بھی نا کرنے دے۔ میاں کے ساتھ ساتھ اپنی آخرت بھی برباد کرتی ہے اور معاشرے میں گندگی پھیلنے کا ایک بڑا سبب بھی۔

  6. رضوان says:

    اسلام اسلام کا راگ الاپنے سے کچھ نہیں ہوتا ہم حقیقتاُ وہی پسند کرتے ہیں جو ہمارے رسم و رواج ہوتے ہیں۔ مثلاً ونی، کاری، لڑکیوں کو تعلیم سے بے بہرہ رکھنا اور پسند کی شادی پر ڈز۔
    رہا آپ والا سوال تو بڑے صاحب بیوہ کو گھر لانے کے بجائے خود کسی بیوہ کے گھر چلے جاتے تو وارثین اوپر اوپر سے شورو غوغا کر کے چُپ اور مطمئن ہوجاتے (ہاں بیوہ کے وارثین کے پیٹ میں پھر مروڑ اُٹھتی)۔

  7. شگفتہ says:

    السلام علیکم

    جہانزیب بھائی ، شرعی حق ہی ہے. دراصل اولاد بہت خود غرض ثابت ہوتی ہے والدین کے لیے کسی نہ کسی بات کو وجہ بنا کر.

    آپ کا یہ سوال پڑھ کر ایک فیملی یاد آ گئی ہمارے پڑوس میں رہتی تھی . انھوں نے ایک اچھی مثال قائم کی ہے . میں لکھتی ہوں اس بارے میں .

  8. بےکار says:

    برصغیر پاک و ہند میں ہم نے اسلام تو صدیوں پہلے قبول کر لیا مگر اس جاہلانہ سوچ سے پیچھا آج تک نہ چھڑا سکے اور رسم و رواج کو اسلام سے مقدم ہی جانا۔ مرد کی دوسری شادی کو واہیات، طلاق کو کلنک کا ٹیکا، طلاق یافتہ عورت کو اچھوت، پسند کی شادی کو عزت پر داغ اور مرد کی اپنے سے بڑی عمر کی عورت سے شادی کو اس عورت کی مکاری کا نتیجہ سمجھنا اسی سوچ کی وجہ سے ہی ہے۔ اور تو اور مغربی اقوام کی نقل میں ہم پرہیزگاری اور پردے کو دقیانوسی قرار دیتے ہیں۔ اسلام قبول کرنا تو آسان تھا اس سوچ سے پیچھا چھڑانا بہت مشکل۔ اللہ ھم سب کو اس کی ہمت اور جراٰت عطا فرماےء۔ آمین۔
    اّف۔ اردو لکھنا اتنا کٹھن تو کبھی نہ تھا۔ صدیاں بیت گیںٰ اتنا سا لکھتے لکھتے۔ تھوڑے کو بہت جانیے۔ اللہ حافظ۔

  9. جاگیردارانہ سوچ ہمارے تمام اعمال پر حاوی ہے۔ یہاں بھی یہی سوچ کام کر رہی ہے کہ باپ کی جائیداد میں نئے حصے دار پیدا ہوں گے اور اسی کی مخالفت کی جاتی ہے ورنہ ان کے والد کا یہ عمل تو قابل ستائش و تقلید ہے۔ ہمارے ہاں رشتہ کے حوالے سے انہی جکڑ بندیوں نے معاشرتی برائیاں پیدا کی ہیں، مطلقہ اور بیوہ کی شادی کا تصور ناپید ہوتا جا رہا ہے۔ یہی فضول عقائد و بے جا روایات ہیں جن کی وجہ سے خاندانی نظام انتشار کا شکار ہے۔

  10. تلخابہ says:

    بھائیوں لوگوں ہمارے چچا نے یہی کیا۔ بیٹے جنگ پر تیار ہوگئے ۔ تاہم ہم نے کچھ معقول بڑوں کو بیچ میںڈال کر چچا کی دوسری نئی زندگی کی گاڑی کسی طرح چلوادی

  11. بلا says:

    ہم سب کو چاہیئے کہ ہم مل کر معاشرے میں ایک ایسی تحریک چلائیں جس سے ایسے لوگوں چاہے وہ مرد حضرات ہوں یا خواتین دونوں کی اخلاقی مدد اور حمایت کی جاسکے. اور اس کام کا آغاز ہم سب کو اپنے اپنے گھر، خاندان ، محلے اور شہر کی سطح پر کرنا ہو گا. صرف باتیں بنانے سے کچھ نہیں ہو گا.

تبصرہ کیجئے

اس بلاگ پر آپ کے تبصرہ کی حوصلہ افزائی کی جاتی ہے
اگر آپ اپنے تبصرہ کے ساتھ تصویر لگانا چاہتے ہیں، تو یہاں جا کر تصویر لگائیں ۔