<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?><rss version="2.0"
	xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"
	xmlns:dc="http://purl.org/dc/elements/1.1/"
	xmlns:atom="http://www.w3.org/2005/Atom"
	xmlns:sy="http://purl.org/rss/1.0/modules/syndication/"
		>
<channel>
	<title>Comments on: مُحاسبہ</title>
	<atom:link href="http://www.urdujahan.com/blog/assorted/2008/accountability/feed/" rel="self" type="application/rss+xml" />
	<link>http://www.urdujahan.com/blog/assorted/2008/accountability/</link>
	<description>جہانزیب اشرف</description>
	<lastBuildDate>Thu, 26 Aug 2010 07:44:53 +0000</lastBuildDate>
	<sy:updatePeriod>hourly</sy:updatePeriod>
	<sy:updateFrequency>1</sy:updateFrequency>
	<generator>http://wordpress.org/?v=3.0.1</generator>
	<item>
		<title>By: جہانزیب</title>
		<link>http://www.urdujahan.com/blog/assorted/2008/accountability/#comment-1334</link>
		<dc:creator>جہانزیب</dc:creator>
		<pubDate>Wed, 22 Oct 2008 20:03:25 +0000</pubDate>
		<guid isPermaLink="false">http://www.urdujahan.com/blog/?p=280#comment-1334</guid>
		<description>کچھ تبصروں کو پڑھنے کے بعد مجھے محسوس ہوا ہے کہ شائد میں درست طریق سے اپنی بات سمجھا نہیں پایا، اس تحریر کا مقصد یہ نہیں تھا کہ عربوں کا رویہ ہمارے ساتھ کیسا ہے، تحریر کا اصل مقصد یہ تھا کہ ہم میں عصبیت، قومیت، اور خاندانی تفریق کوٹ کوٹ کر بھری ہوئی ہے ۔ ابھی خود دیکھ لیں ایک صاحب نے پٹھانوں کا ذکر کر دیا ۔خود تو ہم شکلیں دیکھ کر اندازہ لگاتے ہیں کسی کے بارے میں، کہ پٹھان ہے تو ایسا ہو گا، پنجابی ہے تو ویسا ہو گا اور معترض ہیں عربوں پر ۔
نعمان کسی حد تک کراچی اور شہروں میں یہ نسبتاً کم ہے، تحریر میں کنڈیکٹر کو تھپڑ مارنے کا واقعہ کراچی ہی کا ہے، پھر کراچی میں بھی سیٹھ اپنے ملازمین کو قریب نہیں آنے دیتے، گھروں میں کام کرنے والی آیاؤں عرف عام میں ماسیوں کے کھانے تک کے برتن الگ رکھے جاتے ہیں، تعمیراتی مزدور ، جس عمارت میں کام کرتے ہیں، سردیوں اور گرمیوں میں وہیں ہی سونے پر مجبور ہیں، پھر گر آپ نے اوپر تصویر والی حالت کراچی میں دیکھنا ہو تو وہ بھی میں آپ کو بتا سکتا ہوں ۔ ڈیفنس فیز فائیو میں توحید کمرشل ایریا سے عبداللہ شاہ غازی کے مزار کی طرف جاتے ہوئے ایک چھوٹی سی کالونی آتی ہے، شائد نیلم کالونی نام ہے، ڈیفنس اور کلفٹن میں گھروں میں کام کرنے والے وہاں رہتے ہیں، اور بالکل ایسے ہی شواہد آپ کو وہاں ملیں گے ۔ پھر پاکستان میں جو ایک اور کلچر جو پروان چڑھ رہا ہے، اب ڈیویلپمنٹ کے نام پر امیرانہ طرز کے رہائشی علاقوں کے گردا گرد دیوار بنا کر ایک سیکورٹی گیٹ بنا کر غریبوں اور امیروں کی تفریق کو بڑھاوا دیا جا رہا ہے ۔ جو کسی صورت بھی بہتر نہیں ہے، ایک قسم سے یہ غرباء کا مذاق اڑانے والی بات ہے ۔</description>
		<content:encoded><![CDATA[<p>کچھ تبصروں کو پڑھنے کے بعد مجھے محسوس ہوا ہے کہ شائد میں درست طریق سے اپنی بات سمجھا نہیں پایا، اس تحریر کا مقصد یہ نہیں تھا کہ عربوں کا رویہ ہمارے ساتھ کیسا ہے، تحریر کا اصل مقصد یہ تھا کہ ہم میں عصبیت، قومیت، اور خاندانی تفریق کوٹ کوٹ کر بھری ہوئی ہے ۔ ابھی خود دیکھ لیں ایک صاحب نے پٹھانوں کا ذکر کر دیا ۔خود تو ہم شکلیں دیکھ کر اندازہ لگاتے ہیں کسی کے بارے میں، کہ پٹھان ہے تو ایسا ہو گا، پنجابی ہے تو ویسا ہو گا اور معترض ہیں عربوں پر ۔<br />
نعمان کسی حد تک کراچی اور شہروں میں یہ نسبتاً کم ہے، تحریر میں کنڈیکٹر کو تھپڑ مارنے کا واقعہ کراچی ہی کا ہے، پھر کراچی میں بھی سیٹھ اپنے ملازمین کو قریب نہیں آنے دیتے، گھروں میں کام کرنے والی آیاؤں عرف عام میں ماسیوں کے کھانے تک کے برتن الگ رکھے جاتے ہیں، تعمیراتی مزدور ، جس عمارت میں کام کرتے ہیں، سردیوں اور گرمیوں میں وہیں ہی سونے پر مجبور ہیں، پھر گر آپ نے اوپر تصویر والی حالت کراچی میں دیکھنا ہو تو وہ بھی میں آپ کو بتا سکتا ہوں ۔ ڈیفنس فیز فائیو میں توحید کمرشل ایریا سے عبداللہ شاہ غازی کے مزار کی طرف جاتے ہوئے ایک چھوٹی سی کالونی آتی ہے، شائد نیلم کالونی نام ہے، ڈیفنس اور کلفٹن میں گھروں میں کام کرنے والے وہاں رہتے ہیں، اور بالکل ایسے ہی شواہد آپ کو وہاں ملیں گے ۔ پھر پاکستان میں جو ایک اور کلچر جو پروان چڑھ رہا ہے، اب ڈیویلپمنٹ کے نام پر امیرانہ طرز کے رہائشی علاقوں کے گردا گرد دیوار بنا کر ایک سیکورٹی گیٹ بنا کر غریبوں اور امیروں کی تفریق کو بڑھاوا دیا جا رہا ہے ۔ جو کسی صورت بھی بہتر نہیں ہے، ایک قسم سے یہ غرباء کا مذاق اڑانے والی بات ہے ۔</p>
]]></content:encoded>
	</item>
	<item>
		<title>By: نعمان</title>
		<link>http://www.urdujahan.com/blog/assorted/2008/accountability/#comment-1333</link>
		<dc:creator>نعمان</dc:creator>
		<pubDate>Wed, 22 Oct 2008 15:28:02 +0000</pubDate>
		<guid isPermaLink="false">http://www.urdujahan.com/blog/?p=280#comment-1333</guid>
		<description>میرے خیال میں کراچی میں ایسا کافی کم ہوتا ہے.

ابوشامل کی طرح میں کم از کم پوری کوشش کرتا ہوں کہ محنت کش طبقے سے بہت اچھی طرح پیش آؤں. یہی محنت کش لوگ ہیں جن کے زور بازو سے ساری دنیا کا کام رواں دواں ہے. اگر کوئی ان کے کام کی قدر نہیں کرتا تو بیوقوف ہے.</description>
		<content:encoded><![CDATA[<p>میرے خیال میں کراچی میں ایسا کافی کم ہوتا ہے.</p>
<p>ابوشامل کی طرح میں کم از کم پوری کوشش کرتا ہوں کہ محنت کش طبقے سے بہت اچھی طرح پیش آؤں. یہی محنت کش لوگ ہیں جن کے زور بازو سے ساری دنیا کا کام رواں دواں ہے. اگر کوئی ان کے کام کی قدر نہیں کرتا تو بیوقوف ہے.</p>
]]></content:encoded>
	</item>
	<item>
		<title>By: ساجداقبال</title>
		<link>http://www.urdujahan.com/blog/assorted/2008/accountability/#comment-1332</link>
		<dc:creator>ساجداقبال</dc:creator>
		<pubDate>Tue, 21 Oct 2008 04:42:43 +0000</pubDate>
		<guid isPermaLink="false">http://www.urdujahan.com/blog/?p=280#comment-1332</guid>
		<description>اور میں آپکو بتاؤں کہ دبئی میں میں ایسے لوگوں کے ساتھ رہا بھی ہوں. لمبی کہانی ہے، دبئی کے معیشت کہتے ہیں سیاحت پر چلتی ہے، میں کہتا ہوں ظلم پر چلتی ہے....ایسی معیشتوں کا وہی انجام ہوتا ہے جو پاکستان کا ہو رہا ہے.</description>
		<content:encoded><![CDATA[<p>اور میں آپکو بتاؤں کہ دبئی میں میں ایسے لوگوں کے ساتھ رہا بھی ہوں. لمبی کہانی ہے، دبئی کے معیشت کہتے ہیں سیاحت پر چلتی ہے، میں کہتا ہوں ظلم پر چلتی ہے&#8230;.ایسی معیشتوں کا وہی انجام ہوتا ہے جو پاکستان کا ہو رہا ہے.</p>
]]></content:encoded>
	</item>
	<item>
		<title>By: ڈفر</title>
		<link>http://www.urdujahan.com/blog/assorted/2008/accountability/#comment-1331</link>
		<dc:creator>ڈفر</dc:creator>
		<pubDate>Mon, 20 Oct 2008 13:37:34 +0000</pubDate>
		<guid isPermaLink="false">http://www.urdujahan.com/blog/?p=280#comment-1331</guid>
		<description>میں مڈل ایسٹ میں مزدور طبقے کے ساتھ روا رکھے جانے والے گھٹیا تریں سلوک کا خود چشم دید گواہ ہوں۔ وہاں جنوبی ایشیا، فلپائن اور تھائی لوگوں کوسرکاری سطح پر انتہائی کم درجے کا شہری بلکہ جانور سمجھا جاتا ہے۔ اور یہ جو تصویر آپنے لگائی ہے بالکل وہاں پر کام کرنے والے مزدوروں کا یہی حال ہے۔ کتنے ہی لوگ تو اپنی کتنی ہی عمر گزارنے کے بعد بھی وہ علاقہ نہیں دیکھ پاتے جہاں وہ وقت گزار چکے ہوتے ہیں۔
ہمارے لوگوںبلکہ کہنا چاہیے اپنے مسلمان بھائیوں کے ساتھ یہ سلوک کرنے والے یہی عربی گوروں کے“ تھلّے لگے“ رہتے ہیں۔ لیکن عربی کے لئے جو بات دوسرے عربی کی ہے کسی دوسرے کی ہو ہی نہیں سکتی، پٹھانوں سے بھی زیادہ</description>
		<content:encoded><![CDATA[<p>میں مڈل ایسٹ میں مزدور طبقے کے ساتھ روا رکھے جانے والے گھٹیا تریں سلوک کا خود چشم دید گواہ ہوں۔ وہاں جنوبی ایشیا، فلپائن اور تھائی لوگوں کوسرکاری سطح پر انتہائی کم درجے کا شہری بلکہ جانور سمجھا جاتا ہے۔ اور یہ جو تصویر آپنے لگائی ہے بالکل وہاں پر کام کرنے والے مزدوروں کا یہی حال ہے۔ کتنے ہی لوگ تو اپنی کتنی ہی عمر گزارنے کے بعد بھی وہ علاقہ نہیں دیکھ پاتے جہاں وہ وقت گزار چکے ہوتے ہیں۔<br />
ہمارے لوگوںبلکہ کہنا چاہیے اپنے مسلمان بھائیوں کے ساتھ یہ سلوک کرنے والے یہی عربی گوروں کے“ تھلّے لگے“ رہتے ہیں۔ لیکن عربی کے لئے جو بات دوسرے عربی کی ہے کسی دوسرے کی ہو ہی نہیں سکتی، پٹھانوں سے بھی زیادہ</p>
]]></content:encoded>
	</item>
	<item>
		<title>By: ابوشامل</title>
		<link>http://www.urdujahan.com/blog/assorted/2008/accountability/#comment-1330</link>
		<dc:creator>ابوشامل</dc:creator>
		<pubDate>Mon, 20 Oct 2008 11:56:30 +0000</pubDate>
		<guid isPermaLink="false">http://www.urdujahan.com/blog/?p=280#comment-1330</guid>
		<description>انسانی رویے کسی بھی معاشرے کے روبہ زوال یا عروج ہونے کے اشاریے (indicators) ہوتے ہیں۔
میری اہلیہ ہمیشہ معترض رہتی ہیں کہ آپ ٹیکسی والے کو من مانے پیسے کیوں دیتے ہیں؟ میرا جواب ہمیشہ یہی ہوتا ہے کہ یہ ٹیکسی ڈرائیور اس اعلٰی عہدے پر فائز راشی افسر سے کہیں زیادہ لائقِ عزت ہے کیونکہ یہ اپنی محنت سے اپنے لیے رزق حاصل کر رہا ہے کسی کا خون نہیں چوس رہا۔ اور اس کی مرضی کے دس بیس روپے اس دورِ خانہ خراب میں اس کی ثابت قدمی کے لیے بہت کم ہیں۔ کوشش ہوتی ہے کہ ایسے لوگوں سے عزت کے ساتھ پیش آؤں جو معاشرے میں ذلیل کیے جاتے ہیں۔ روزانہ ملنے والے ایک دو کنڈیکٹروں سے دوستی بھی ہے میری :)</description>
		<content:encoded><![CDATA[<p>انسانی رویے کسی بھی معاشرے کے روبہ زوال یا عروج ہونے کے اشاریے (indicators) ہوتے ہیں۔<br />
میری اہلیہ ہمیشہ معترض رہتی ہیں کہ آپ ٹیکسی والے کو من مانے پیسے کیوں دیتے ہیں؟ میرا جواب ہمیشہ یہی ہوتا ہے کہ یہ ٹیکسی ڈرائیور اس اعلٰی عہدے پر فائز راشی افسر سے کہیں زیادہ لائقِ عزت ہے کیونکہ یہ اپنی محنت سے اپنے لیے رزق حاصل کر رہا ہے کسی کا خون نہیں چوس رہا۔ اور اس کی مرضی کے دس بیس روپے اس دورِ خانہ خراب میں اس کی ثابت قدمی کے لیے بہت کم ہیں۔ کوشش ہوتی ہے کہ ایسے لوگوں سے عزت کے ساتھ پیش آؤں جو معاشرے میں ذلیل کیے جاتے ہیں۔ روزانہ ملنے والے ایک دو کنڈیکٹروں سے دوستی بھی ہے میری <img src='http://www.urdujahan.com/blog/wp-includes/images/smilies/icon_smile.gif' alt=':)' class='wp-smiley' /> </p>
]]></content:encoded>
	</item>
	<item>
		<title>By: عوام</title>
		<link>http://www.urdujahan.com/blog/assorted/2008/accountability/#comment-1329</link>
		<dc:creator>عوام</dc:creator>
		<pubDate>Mon, 20 Oct 2008 06:38:46 +0000</pubDate>
		<guid isPermaLink="false">http://www.urdujahan.com/blog/?p=280#comment-1329</guid>
		<description>جناب
آپ نے بالکل درست فرمایاعرب ممالک میں تو ان مزدوروں کو بعض دفعہ “کلب“ یعےی کتا کیئا جاتا ہے</description>
		<content:encoded><![CDATA[<p>جناب<br />
آپ نے بالکل درست فرمایاعرب ممالک میں تو ان مزدوروں کو بعض دفعہ “کلب“ یعےی کتا کیئا جاتا ہے</p>
]]></content:encoded>
	</item>
	<item>
		<title>By: راشد کامران</title>
		<link>http://www.urdujahan.com/blog/assorted/2008/accountability/#comment-1328</link>
		<dc:creator>راشد کامران</dc:creator>
		<pubDate>Mon, 20 Oct 2008 02:35:44 +0000</pubDate>
		<guid isPermaLink="false">http://www.urdujahan.com/blog/?p=280#comment-1328</guid>
		<description>عصبیت اور نسل پرستی اتنی غلیظ بیماری ہے کہ جس کو لاحق ہوجائے اس کے رویے پر ماتم کرنے کو دل چاہتا ہے اور جیسا کے آپ نے بیان کیا عربوں اور پاکستانی اشرافیہ کو خصوصا اور عوام کی ایک بڑی اقلیت کو عموما  بری طرح یہ بیماری لاحق ہے اسکا علاج لوگوں کو خود کرنا ہوگا.. دوسرے خطوں میں بھی لوگوں کو برسوں تحریک چلا کر حقوق حاصل کرنے پڑے ہیں اور نسل پرستی اور تعصب کے خلاف قانون بنے ہیں جنکی موجودگی میں اگر کسی کو یہ بیماری لاحق بھی ہو تو اسکا اظہار بڑا مہنگا ثابت ہوتا ہے.</description>
		<content:encoded><![CDATA[<p>عصبیت اور نسل پرستی اتنی غلیظ بیماری ہے کہ جس کو لاحق ہوجائے اس کے رویے پر ماتم کرنے کو دل چاہتا ہے اور جیسا کے آپ نے بیان کیا عربوں اور پاکستانی اشرافیہ کو خصوصا اور عوام کی ایک بڑی اقلیت کو عموما  بری طرح یہ بیماری لاحق ہے اسکا علاج لوگوں کو خود کرنا ہوگا.. دوسرے خطوں میں بھی لوگوں کو برسوں تحریک چلا کر حقوق حاصل کرنے پڑے ہیں اور نسل پرستی اور تعصب کے خلاف قانون بنے ہیں جنکی موجودگی میں اگر کسی کو یہ بیماری لاحق بھی ہو تو اسکا اظہار بڑا مہنگا ثابت ہوتا ہے.</p>
]]></content:encoded>
	</item>
	<item>
		<title>By: میرا پاکستان</title>
		<link>http://www.urdujahan.com/blog/assorted/2008/accountability/#comment-1327</link>
		<dc:creator>میرا پاکستان</dc:creator>
		<pubDate>Mon, 20 Oct 2008 01:36:32 +0000</pubDate>
		<guid isPermaLink="false">http://www.urdujahan.com/blog/?p=280#comment-1327</guid>
		<description>آپ نے جس بیماری کا ذکر کیا ہے اور آخر میں اس کا علاج بھی پیش کر دیا ہے ہم بھی آپ کے ساتھ ہیں اور سمجھتے ہیں‌کہ جتنا انسان انسان کا استحصال کر رہے اتنا کوئی اور جانور انسان کیساتھ نہیں‌کر رہا.</description>
		<content:encoded><![CDATA[<p>آپ نے جس بیماری کا ذکر کیا ہے اور آخر میں اس کا علاج بھی پیش کر دیا ہے ہم بھی آپ کے ساتھ ہیں اور سمجھتے ہیں‌کہ جتنا انسان انسان کا استحصال کر رہے اتنا کوئی اور جانور انسان کیساتھ نہیں‌کر رہا.</p>
]]></content:encoded>
	</item>
</channel>
</rss>
