وَرکِنگ وِومن ۔

Wednesday,25 April 2007
از :  
زمرات : متفرق

جب ورکنگ وومن یا کام کرنے والی خواتین کی اصطلاح استعمال کی جاتی ہے، تو اُس سے مراد ہمیشہ ایسی خواتین کو ہی کیوں لیا جاتا ہے جو باہر نکل کر کِسی کے لئے کام کرتی ہیں؟ جو خواتین گھروں میں رہ کر گھر کے کام کاج کرتی ہیں کیا وہ نکمی خواتین ہیں؟ لیکن اگر ایک خاتون کوئی کام کاج کرنے کے لئے باہر نکلے، اور گھر کے کام کرنے کے لئے ایک ملازمہ کی خدمات مُستعار لے تو وہ ملازمہ تو ورکنگ وومن میں آتی ہے، لیکن اگر وہی خاتون باہر کے کام کی بجائے اپنے گھر کو زیادہ ترجیح دے اور گھر کا کام خود کرے تب وہ ورکنگ وومن نہیں ہے ۔ بلکہ بہت سی سماجی تحریکیں جو خواتین کے نام پر وجود میں آئی ہیں، وہ اُس خاتون کو ایک ایسے روپ میں پیش کرتی ہیں جن کو دبایا گیا ہے، جن کا استحصال کیا گیا ہے اور ترقی کے تمام راستے مسدود کر دیے گئے ہیں ۔
لیکن میرے نقطہ نظر کے مطابق جب ایسی تنظمیں صرف باہر نکل کر کام کرنے والی خواتین کو ہی ورکنگ وومن میں شامل کرتی ہیں تو خواتین کی ایک بہت بڑی تعداد کے استحصال کا باعث بنتی ہیں ، اس بارے میں آپ لوگوں کا کیا خیال ہے؟

تبصرہ جات

“وَرکِنگ وِومن ۔” پر 4 تبصرے کئے گئے ہیں
  1. اجمل says:

    آپ نے صحیح تجزیہ کیا ہے ۔ میں تھوڑا سا اضافہ کروں گا ۔ ہمارے ملک میں ورکنگ وومن کی تعداد اُس دور میں بھی آج سے کم نہ تھی جب روشن خیالی نے ابھی جنم نہیں لیا تھا ۔ ورکنگ وومن کی اکثریت چھوٹے شہروں ۔ قصبوں اور دیہات میں تھی اور یہ خواتین صرف گھر ہی میں نہیں گھر سے باہر نکل کر بھی بعض مردوں کے شانہ بشانہ اور کچھ مردوں سے بڑھ کر کام کرتی تھیں ۔ آج کی عورت تو مردوں کے بنائے ہوئے مصالحے اور مردوں کی لکھی ہوئی کہانے پکانے کی تراکیب استعمال کرتی ہیں پہلے یہ سب کام خواتین خود کرتی تھیں اور اس پر فخر کرتی تھیں اور یقیناً وہ تعریف کے قابل تھیں ۔ میری والدہ کپڑے سیتی تھیں ۔ کپڑوں پر کڑھائی کرتی تھیں ۔ کپڑے دھوتی تھیں – ہر قسم کا کھانا پکاتی تھیں ۔ کیک اور بسکٹ بھی بناتی تھیں ۔ گھر میں دو تین درجن لوگوں کی دعوت ہو پھر بھی وہی پکانے سمیت سب کام کرتی تھیں ۔ اس کے علاوہ نمک مرچ مصالحے پیسنا ۔ چاول اور گندم صاف کرنا اور میں گندم پسوا کر لاتا پھر آٹا چھانتیں ۔

    سکولوں اور کالجوں میں بھی خواتین پڑھاتی تھیں ۔ اُس زمانہ میں مخلوط تعلیم پسند نہیں کی جاتی تھی ۔ اس کے علاوہ ڈاکٹر اور نرسیں بھی تھیں ۔ دیہات میں فصلوں کی بویائی ۔ برداشت اور زخیرہ کرنا بھی عورتیں مردوں کے ساتھ مل کر کرتی تھیں ۔

    آج کی روشن خیال عورتیں سوائے فیشن کے اور کیا کرتی ہیں ۔ دفتروں میں بھی زیادہ تر شو پیس کا کام کر رہی ہیں ۔

  2. اس کی وجہ شائد یہ ہے کہ ہر وہ خود کو جس گروہ میں دیکھتی ہیں اُس کی حمایت کرتی ہیں!!! کہیں پڑھا تھا بیوقوف کبھی عقلمند کی حمایت نہیں کرتا!!!
    ویسے عقلمند کے لئے بھی بے عقل کی حمایت کرنا دشوار ہے !!!

  3. اجمل انکل، ایک خاتون دوسری خاتون کو کہہ رہی تھی کہ میں تو فلاں کمپنی میں فلاں عہدے پر فائز ہوں اور تم اپنے میاں کو خوش کرنے کے لئے گھر میں رہ کر اپنا وقت برباد کر رہی ہو، تو دوسری خاتون نے کہا کہ تمہارا فلاں عہدہ میں نے اپنے اس عہدے کے لئے چھوڑا تھا اور میں اپنے نئے عہدے سے بہت خوش ہوں . یہی سُن کر مجھے یہ تحریر لکھنے کا خیال آیا تھا کہ صرف کیا باہر کام کرنے والی خاتون ہی اعلی خدمات سرانجام دے رہی ہے، یا کہ گھر والی بھی، میرا اپنا تو نظریہ یہی ہے کہ گھر کا کام ایک کل وقتی جاب ہے، اور اگر کوئی معاشی ضرورت نہیں ہو تو دونوں ساتھیوں سے سے ایک کو گھر بھی سنبھالنا چاہیے ہے . اور آپ کی بیان کردہ باتیں کسی سے اوجھل نہیں ہے ہاں چشم پوشی برتی جائے تو علیحدہ بات ہے ،
    شعیب لیکن یہاں بےوقوف کون ہے؟ اسی کا تو فیصلہ نہیں ہو پا رہا.

  4. بدتمیز says:

    میرے دادا اور ابو بھی چکی سے گندم پسوا کر اپنی اپنی والدہ کو لا کر دیا کرتے تھے۔ نامعلوم دونوں نے اپنی اپنی خاتون کو کیوں نہیں لا کر دیا اور بیٹے کے سپرد یہ ذمہ داری کر دی
    خیر مذاق ایک طرف یہ بات دراصل عقل کے اندھوں کو سمجھ نہیں آتی اور اس کو پوائنٹ آؤٹ کرنے پر کچھ مرد حضرات بھی خواتین کی طرح پہلے ایک دو ماہ تک اپنے ناخن بڑھاتے ہیں اور اس کے بعد آپ کے پیچھے پڑ جاتے ہیں۔

تبصرہ کیجئے

اس بلاگ پر آپ کے تبصرہ کی حوصلہ افزائی کی جاتی ہے
اگر آپ اپنے تبصرہ کے ساتھ تصویر لگانا چاہتے ہیں، تو یہاں جا کر تصویر لگائیں ۔