میرا کمپیوٹر کا مانیٹر جل گیا تھا جس کی وجہ سے میں جو برائے نام ہی سہی آتا تھا وہ بھی ختم تھا، کل میں اپنا نیا مانیٹر خرید کے لایا تو سب سے پہلی ویب جس پر جانا چاہا اردو ویب ہی تھی اور اس میں بھی سب سے پہلے سیارہ پر ، جو عارضی طور پر چند گھنٹوں کے لئے بند کا اعلان دکھا رہا تھا، اب میں ہر گھنٹے سیارہ کھولنے کی کوشش میں مصروف رہا مگر وہی پیغام، اور ہنوز وہی پیغام ہے، وجہ جاننے کے لئے اردو محفل کا رخ کیا، وہاں بھی اس بارے کوئی خبر نہیں تھی، تھک کر میں نے خود ہی اپنے بلاگ رول سے دوسرے بلاگوں کا رخ کیا، اور سب پڑھ پڑھ کے آنکھیں حیرت سے کھلتی گئی، مطلب ان پچھلے چند دنوں کی تحریروں میں سب کچھ ہے سوا اخلاق، مطلب اخلاق نام کو بھی موجود نہیں ہے، اور ایسا سب ہو بھی رہا ہے تو ایک ایسے مذہب کے نام پر جس کا ماٹو ہی لوگوں کے اخلاق درست کرنا ہے، “اور ہم نے آپ کو اخلاق کا اعلی نمونہ بنا کر بھیجا ہے” اس سے پہلے تک میں نے اردو بلاگز میں اتنی گھٹیا زبان کا استعمال نہیں دیکھا جو ان دنوں نظر ٓآیا ہے
ایک طرح سے دونوں طرف ہی جنگ جاری ہے، جو اسلام کا نام لے کر دوسروں کو یہودی اور ھندو ہونے کے فتوے صادر کر رہے ہیں اور دوسری طرف روشن خیال بھی ان پڑھ اور گنوار جیسے القابات لئے گھوم رہے ہیں، اور اپنے منہ اپنے روشن افکار کا پرچار کرتے نظر آتے ہیں
ہم لوگ شخصیات سے باہر کیوں نہیں آ سکتے، اگر بحث کرنا ضروری ہے تو بجائے شخصیات کے نظریات پر بات کیوں نہیں کی جاتی وہ بھی شائستہ طریقے سے نہ کہ لڑائی جھگڑے کی صورت، ایک مدلل طریقے سے بغیر کسی پر الزام تراشی کئے ہوئے، کیونکہ اونچا یا گندا بولنے سے کوئی اپنی بات منوا نہیں سکتا ہے، جس سے وہ مخاطب ہے وہ اس سے بھی اونچا اور غلیظ بول سکتا ہے، نہ ہی کسی کتے کے بھونکنے پر آپ جواباً بھونکنا شروع کر دیتے ہیں بلکے اسے نظر انداز کر سکتے ہیں، اگر کوئی خدا پر تحریریں لکھتا ہے جو آپ کو پسند نھیں تو بہتر ہے اس کا جواب اپنے بلاگ میں اس سے بہتر دیں، اگر کوئی خدا کا انکاری ہے اور اپنی تحریروں میں ایسا لکھتا ہے، تو کیا ہم گالیوں کی بجائے اس کے وجود اور اس کی ثناء پر کچھ نہیں لکھ سکتے ہیں؟
ویسے ایک مدلل تحریر اور بےکار تحریر کا فرق شعیب صفدر کی احمدیوں پر تحریر اور باقی لوگوں کی تحریر ہے۔ اللہ ہم سب کو عقل دے
یہ تحریر اپنے احباب کو ای میل کریں





اتوار,23 جولائي 2006
ميں آپ کے خيالات سے متفق ہوں اور يہي بات ميں نے بھي ہر جگہ کي ہے کہ خدارا شخصيات کي بجاۓ نظريات پر بحث کيجۓ اور ادب کے دائرے ميں رہ کر کيجۓ۔
اتوار,23 جولائي 2006
ميں نے معاملہ نِپٹانے کيلئے بغير حوالہ کے ايک لائحءِ عمل لکھا ليکن لگتا ہے کسی نے توجہ دينا مناسب نہ سمجھا ۔ ہندوپاکستان کے بہت سے لوگوں کی خاصيت ہے کہ ہر بات پہ دھونس دھاندلی سے دوسرے کو نيچا دکھانے کی کوشش کرتے ہيں
اتوار,23 جولائي 2006
معذرت ۔
لائحہءِ عمل
جمعرات,27 جولائي 2006
umm..oho tumhara computer jal giya..so sad
aur iuss topic pay baad mai comments likho ge
lalah