آپ اس وقت بھُلکڑ يا غائب دماغ پڑھ رہے ہیں ۔ یہ تحریر مورخہ منگل,6 دسمبر 2005 کو جہانزیب نے متفرق میری زندگی کے زمرہ میں ارسال کی تھی ۔
اس تحریر پر ہونے والے تبصروں سے آگاہ رہنے کے لئے Comments RSS کو اپنے فیڈ ریڈر میں بُک مارک کر لیں ۔
اس تحریر سے اپنی تحریر منسلک کرنے کے لئے ٹریک بیک پتہ ذیل میں دیا گیا ہے
Trackback URL
قدير نے کافی عرصہ پہلے يہ پوسٹ لکھی تھی تب ميں کہا تھا کہ اپنی غائب دماغی پر ميں بھی ايک عدد پوسٹ لکھوں گا، مگر وہ ميں پھر سے بھُول گيا تھا۔ مگر آج ميں نے ايک دفعہ پھر اپنی اس غائب دماغی سے تين گھنٹے برف ميں انتظار کيا تو چودہ طبق روشن ہو گئے اور مجھے اس پوسٹ کا خيال آيا۔
مجھے اپنی ياداشت پر بڑا گھمنڈ ہے ليکن اس کے ساتھ ميں اپنی غائب دماغی سے بہت تنگ ہوں۔ کئی بار ايسا ہوا ہے کہ ميں کافی خريدنے گيا اور پيسے ادا کر کے واپس بغير کافی کے آ گيا اور کسی اور کو کافی پيتے ديکھ کر خود سے سوال کر رہا ہوں ميری کافی کدھر گئی ہے۔ اپنا فون يا قلم ہاتھ ميں پکڑ کر پورے گھر ميں ہر جگہ انہيں تلاش کر رہا ہوں وغيرہ وغيرہ۔
مگر اس سب سے زيادہ تنگ ميں اپنے گھر کی چابياں بھول جانے سے ہوں ، دو سال پہلے بھی ايسا ہوا کہ ميں چابياں لے جانا بھول گيا اور جاب سے واپس آيا تو گھر والے کسی دعوت ميں گئے ہوئے تھے اور برف باری ہو رہی تھی، اور مجھے چار گھنٹے تک برف ميں باہر کھڑے ہو کر اُن کی واپسی کا انتظار کرنا پڑا۔ اُس واقعے کے بعد ميری امی نے خاص ميرے لئے ايک زائد چابياں بنوا کر گھر کے باہر ايک مخصوص جگہ پر رکھ ديں کہ آئندہ ايسا نہيں ہو۔
مگر آج ميری قسمت پھر خراب تھی ميں ايک دفعہ پھر چابياں گھر بھول گيا تھا اور جب آيا تو آگے گھر کوئی موجود نہيں تھا اور دوبارہ برف اور انتہائی سردی ميں باہر دو گھنٹے کھڑا رہنا پڑا وہ تو ہمارے پڑوسی جناب جيمز باہر آئے مجھے باہر کھڑا ديکھ کر پوچھا کہ اتنی سردی ميں باہر کيوں کھڑے ہو ميں نے اپنی دردبھری بلکے سرد آہوں والی کہانی سُنائی تو انہوں نے مجھے اپنے گھر آنے کی دعوت دی جو ميں نے بلا چوں چرا کئے بغير مان لی اور انکے ساتھ گھنٹہ بھر گپيں ہانکنے کے بعد ميرے گھر والے آگئے اور ميری امی نے ايک دفعہ پھر مجھے بے شمار باتيں کيں جن کا خلاصہ يہی ہے کہ جس جگہ ہوتے ہو اپنا دماغ بھی وہاں رکھا کرو۔۔
قدير احمد رانا
یہ تحریر اپنے احباب کو ای میل کریں
منگل,6 دسمبر 2005
پريشان ہونے کي ضرورت نہيں يہ بيماري اکثر لوگوں کو ہے۔
ابھي کل کي بات ہے بيگم نے کئي گھنٹے لگا کر چکن روسٹ تيار کيا اور بازار جاتے ہوۓ تين بار تاکيد کي کہ روسٹ اوون ميں پڑا ہے پورے دس منٹ بعد نکال لينا۔ ہم نے بيگم کے جاتے ہي کمپيوٹر روم کا رخ کيا اور کمپيوٹر پر اپنا بلاگ لکھنے ميں مگن ہوگۓ۔ تب ہوش آيا جب بيگم واپس آئي اور اس نے پوچھا کہ اوون سے روسٹ نکال ليا تھا کہ نہيں۔ پھر ہمارا ماتھا ٹھنکا اور جب بيگم نے اوون کا دروازہ کھولا تو روسٹ مرغ بيچارہ کوئلہ بن چکا تھا۔ بيگم نے خوب مزاق بنايا اور اس کو پزا کھلا کر جان چھڑائي۔
منگل,6 دسمبر 2005
دیکھا اچھے بندوں کو مصیبت میں اچھے بندے ہی یاد آتے ہیں ، آخر میں یاد آیا نہ برف باری میں
منگل,6 دسمبر 2005
دیکھا اچھے بندوں کو مصیبت میں اچھے بندے ہی یاد آتے ہیں ، آخر میں یاد آیا نہ برف باری میں
بدھ,7 دسمبر 2005
لو اب تم بھی بادام کھایا کرو۔۔۔۔۔۔۔۔۔
شائد فائدہ ہو جائے۔۔۔۔۔۔
یہ بلاگ کا ایڈریس پھر تبدیل کر دیا خیر ہے نا؟؟؟؟؟
جمعتہ المبارک,9 دسمبر 2005
This is the first time I visited your blog and found it nice. Intend to visit it again.
ہفتہ,10 دسمبر 2005
Oh my GOD….HEHE….mai samjhi thi duniya mai ek mai hi asi hou….ju aksar cheezein rakh kar bhol jati hou …ager gher walo sai pochay tu…………tu buhat kuch sounay ko milay ga…..batye nahi ja sakti… meray chutay bhai ka kahna hai… jis sai meri shaadi ho geee….weo janat mai jaye ga..intna dunia mai hi bardasht kar lay ga….lolz
aur meri ammi kuch din phahlay hi kah rahii thi…ju iuss ki yaad,dasht ka haal hai…subha ius ka husband job pay jaye ga..shaam ko ye ouss ki wapasii pay pochay gee..bhai sahab app koun hain………lolz hud hai
jahanzaib ager app ko koi yaad,dasht taz karnay wali cheez milay tu zaroor bataye ga…nahi tu ..pata nahi abbi sai ye haal hai agay kiya banay ga..Allah raham karay mujh par….wasay kisi nai mujhay bataya tha..k yaad,dasht k liyea…..ya_hayi_ul…ya_karim pharay.
miss mughal
اتوار,16 دسمبر 2007
very interesting, but I don’t agree with you
Idetrorce