جنت براستہ خود کش جیکٹ

Monday,5 July 2010
از :  
زمرات : پاکستان, مذہب, سیاست

اولیاء کرام سے عقیدت برصیغر میں بسنے والے مسلمانوں میں رچی بسی ہے، اسی عقیدت کی بدولت تقریباً ہر علاقہ میں صوفیاء کے مزار اور خانقاہیں مل جاتی ہیں ۔ اجمیر شریف سے لے کر بھٹ شاہ تک لوگ ان صوفیاء کی محبت کا دم بھرتے ہیں ۔ اسی عوامی پذیرائی کی بدولت ہمارے ایک “بھائی” کو بھی پیر بننے کا شوق چرایا تھا اور عباسی شہید اسپتال میں دوران علاج پتوں پر معجزاتی طور پر ان کے نقوش ابھر آئے تھے وہ علیحدہ بات ہے کہ ڈبہ پیروں کی طرح بعد میں انہیں علاقہ سے فرار ہونا پڑا، بہرحال یہ لطیفہ نہیں حقیقت ہے۔

لاہور نے مغلوں سے لے کر رنجیت سنگھ تک مختلف ادوار میں کئی شاہی دربار دیکھے ہیں، لیکن جو مقام لاہور میں داتا دربار کو حاصل ہے، باقی دربار اس کی گرد کو بھی نہیں چھو سکے۔ اسی داتا دربار میں بد بختوں نے کتنے ہی معصوم لوگوں کی جان لے لی ۔ اس سے بڑا بھیانک مذاق کیا ہو گا کہ جس شخص کی تعلیمات امن کا درس دیتی ہوں وہاں بربریت کی انتہا کر دی جائے ۔

لیکن ٹھہرئے، سوالات تو ذہن میں بہت سے اٹھتے ہیں ،لیکن سب سے اہم سوال یہ کون لوگ ہیں؟ کچھ لوگ بتاتے ہیں کہ دراصل دو عدد “قوموں” کے درمیان یہ تخریب کار چھپے ہیں، جبکہ قرائن بتاتے ہیں کہ یہ بلا تخصیص علاقہ کراچی سے خیبر تک موجود ہیں، اور ایک نظریہ پر متفق ہیں ۔ دوسروں کو پکا سچا مسلمان بنانے کا نظریہ، ان کے نظریے ہیں شائد خود مسلمان بننا شامل نہیں کیونکہ اس طریقہ سے جنت کمانے کے لئے کافی محنت کی ضرورت ہے ۔ مسلمان بننے کے لئے حقوق العباد کو ادا کرنا مقدم جبکہ دوسروں کو مسلمان بنانے کے لئے صرف ایک خود کش جیکٹ کی ضرورت ہے ۔ شارٹ کٹ سے متاثرہ قوم میں جنت کے شارٹ کٹ کے طریقہ ایجاد کر لیا ہے ۔

نوٹ: ڈیٹا بیس کی خرابی کی وجہ سے اس تحریر کے تمام تبصرے خذف ہو گئے ہیں۔ معذرت

تبصرہ جات

“جنت براستہ خود کش جیکٹ” پر 32 تبصرے کئے گئے ہیں
  1. عبداللہ says:

    کراچی سے خیبر تک موجود تو ہیں مگر عجیب بات ہے کہ 7،7 کا واقعہ ہو یا بمبئی کی دہشت گردی، مناواں پولس اسٹیشن ہو یا جی ایچ کیو پر حملہ یا سری لنکن ٹیم پر حملے کا معاملہ کھرے پنجاب تک کیوں پہنچتے ہیں؟؟؟؟؟؟؟

    • عبداللہ صاحب آپ تعصب میں مکمل طور پر رجھ چکے ہیں، اپنے حق میں آپ اللہ سے صدق دل سے دعا کریں کہ اس مرض سے آپ کی خلاصی ہو .
      سات سات کا دہشت گرد لیڈز، انگلستان میں پیدا ہوا، وہیں تعلیم بلکہ اعلٰی تعلیم حاصل کی، وہیں ایک ہندوستانی نژاد انگلستانی مسلمان خاتون سے شادی کی، وہیں اسکول میں پڑھاتا تھا، اور آپ نے اس کے کھرے پنجاب سے ملا دئے؟ یہ بات تو انگلستان والوں نے بھی نہیں کی تھی بلکہ انہیں ہوم گراؤن ٹیررسٹ کا خطاب دیا تھا .
      مناواں پولیس اکیڈمی سے پکڑے گئے دہشت گرد کا تعلق بھی قبائلی علاقہ جات سے تھا، جبکہ سری لنکا ٹیم پر حملے کے دہشت گرد میری معلومات کے مطابق ابھی تک نا معلوم ہیں . آپ کو شائد معلومات اس لئے زیادہ ہوں کہ وہ شائد ہر کاروائی کے بعد آپ کو رپورٹ کرتے ہوں .

  2. عبداللہ says:

    http://www.dw-world.de/dw/article/0,,5766289,00.html?maca=urd-rss-urd-all-1497-rdf

    • جیسے آپ یہ روابط ہر بلاگ پر جا کر چپکا دیتے ہیں، مجھے شک ہونے لگتا ہے کہ آپ نے ہر اخبار پر لفظ “پنجاب” ہی کو سبسکرائب کیا ہوا ہے، اس کا نقصان یہ ہوتا ہے کہ دیگر خبریں شائد آپ تک پہنچنے سے رہ جاتی ہیں . جیسے ایک سال میں سب سے زیادہ گولی لگنے سے اموات کراچی میں ہوئی ہیں، وہ گینگز وار یا لیاری سے تعلق رکھتی ہیں تو بھی کراچی ہی کا حصہ اور اسی کی انتظامیہ کی ذمہ داری بنتی ہے .
      اس ربط پر سال دو ہزار دس میں ترتیب وار واقعات درج ہیں جو کہ کراچی میں رونما ہوئے ہیں، اور آپکے تبصرے اور روابط دینا اس پر خاموش ہیں ۔

  3. عبداللہ صاحب کے کھرے پنجاب تک پہنچ کے کھڑے ہو جاتے ہيں کہ ان کے پير نے انہيں يہی مشورہ ديا ہوا ہے
    يہ ايک بہت اُلجھا ہوا معاملہ ہے جسے اربابِ اختيار اور ذرائع ابلاغ نے طالبان يا انتہاء پسند يا عسکريت پسند يا شيعہ يا سُنی کہہ کر ٹالا ہوا ہے ۔ دورِ حاضر میں پروپيگنڈہ کرنے والوں کی چاندی ہے چاہے جھوٹا ہو يا سچا ۔ دہشتگردی ميں استعمال ہونے والے لڑکے کون ہيں اس کے اکثر پہلوؤں پر ہمارے ذرائع ابلاغ اور حکمرانوں کی نااہلی کی وجہ سے عوام کی نظر نہيں پڑتی
    کبھی کسی نے غور کيا ہے کہ جو بچے کئی دہائيوں سے اغواء ہوتے رہتے ہيں وہ کہاں جاتے ہيں ؟
    مزيد ۔ کئی دہائيوں سے کراچی ميں غيرملکی گورياں درجنوں کے حساب سے بچے لاوارث قرار دے کر عدالتوں کے حکم سے گود لينے کے بہانے پاکستان سے باہر لے جاتی رہی ہيں ۔ يہ بچے کہاں جاتے ہيں ؟
    کيا جوان ہونے پر يہ بچے خودکش بمبار کے طور پر استعمال نہيں ہو رہے ؟
    مزيد ۔ کئی جرائم پيشہ جوان جن کو بچنے کی اُميد نہ ہو اپنے خاندان کيلئے بڑی رقم وصول کر کے بھی يہ کام کر سکتے ہيں
    ايک بات جو آج تک کسی اخبار يا ٹی وی پر نہيں آئی يہ ہے کہ يہ خودکش بمبار ہميشہ اپنی جان خود نہيں ليتے بلکہ ريموٹ کنٹرول کسی دوسرے کے ہاتھ ميں ہوتا ہے جو اُسے اُڑا ديتا ہے اور ايسا بھی ہو سکتا ہے کہ اگر خودکش اپنے آپ کو نہ اُڑائے تو دوسرا اُڑا ديتا ہے

  4. عبداللہ says:

    افتخار اجمل محمد صادق جو 7،7 کے واقعے کا مرکزی کردار تھا نہ تو لا وارث تھا اور نہ ہی ریموٹ سے اڑایا گیااس کی خود کو اڑانے سے پہلے کی وڈیو بھی دنیا نے دیکھ لی جس میں اس نے اعتراف جرم کیاتھا!

    • بالکل، وہ لاوارث ہی تو نہیں تھا، پھر بھی آپ نے اس کے کھرے پنجاب سے ملاتے ہوئے لغو سے کام لیا، اس کی فلمائی ہوئی ویڈیو میں بھی پنجاب کا کسی قسم کا ذکر نہیں تھا ۔ میں پھر سے مشورہ دوں گا کہ اللہ سے صدق دل سے دعا کریں کہ آپ کے دماغ سے تعصب کو نکال دے ۔
      دنیاوی علاج کے طور پر کسی سائیکاٹرسٹ سے رجوع کرنے سے بھی مسلہ کا حل نکلنے کا امکان ہے ۔

      • عبداللہ says:

        یہ تعصب تعصب کی رٹ لگانا چھوڑیں اور حقائق پر نظر رکھیں ،جو کچھ کراچی میں ہورہا ہے اس کے ڈانڈے بھی وہیں جا کر ملتے ہیں محمد صادق کی جڑیں کہاں تھیں اس سے تو آپ صرف نظر نہ کریں جیسے ہماری جڑیں آپ حضرات انڈیا سے ملاتے رہتے ہیں!!!!!!

        • عبداللہ آپ شائد خود اپنی جڑیں ہندوستان سے ملاتے ہوں تو اور بات ہے، اگر میری طرف سے کہیں ایسا کہا گیا ہے تو مجھے وہ دکھائیں . تعصب زدہ ذہن کا یہی سب سے بڑا مسلہ ہے کہ وہ مفروضوں کو حقائق کے طور پر پیش کرتا ہے .
          اب جہاں تک صادق کا تعلق ہے تو اوپر میں نے حقائق لکھے ہیں، اگر آپ کے پاس ان کا جواب ہے تو سو بسم اللہ، آپکے مفروضوں پر میرے پاس ضائع کرنے کے لئے وقت نہیں ہے . آپ اپنی حد تک اپنی سوچ میں آزاد ہیں .

          • عبداللہ says:

            یہ اللہ کا کرم ہے کہ میرے مفروضے بہت جلد حقائق کا روپ دھار لیتے ہیں اس لیئے آپ بھی انتظار کیجیئے میں بھی کرتا ہوں!!!!!

    • عبداللہ یہ تو بڑی اچھی بات ہے کہ آپ کے مفروضے حقیقت کا روپ دھار لیتے ہیں ، اب شاباش جلدی سے آپ اچھا اچھا سوچنا بھی شروع کر دیں .

      • عبداللہ says:

        یہ میں نے آپ کے طنز کے جواب میں طنزا کہا تھا آپ اتنے ناسمجھ تو نہیں ہوسکتے؟؟؟؟؟؟
        یا ہیں؟؟؟؟؟؟

  5. عبداللہ says:

    اللہ کسی کو آپ جیسا نادان دوست نہ دے!

  6. عبداللہ says:

    پاکستان میں جو بھی قتل و غارت گری ہورہی ہے اس کے ذمہ دار وہ بڑے بڑے سابقہ فوجی اور پولس افسران ہیں جو اسلحہ اور منشیات کی اسمگلنگ میں ملوث رہے ہیں اور ان میں سے بہت سوں نے خود کو مذہبی لبادے میں چھپا رکھا ہے،اور ان لوگوں پر ہاتھ ڈالنا کوئی آسان کام نہیں کیونکہ ان کے تعلقات انٹرنیشنل گینگسٹرز سے ہیں ،لیکن وہ یہ بھی اچھی طرح سمجھ رہے ہیں کہ ہر گزرتا لمحہ انہیں ان کے بد انجام سے قریب لے جارہا ہے اور ان لوگوں کی دلی خواہش ہے کہ اس سے پہلے کے ان کی گردنیں دبائی جائیں وہ ملک میں سیاسی اتھل پتھل مچا کر حکومت کو چلتا کردیں،اسی لیئے بار بار لسانی یا فرقہ وارانہ فسادات کی کوشش جاری ہے!

    • اور یہ سب کچھ رات کو خواب میں آیا ہو گا؟ جہاں تک لسانی گروہوں میں تقسیم کرنے کا معاملہ ہے تو میری طرف سے مبارکباد قبول کجیئے کہ کم از کم بلاگستان میں آپ اس سلسلے میں سب سے سرگرم ہیں ۔ کہیں آپ کے کھرے بھی ان جرنیلوں سے تو نہیں ملتے جن کا ذکر اوپر آپ نے کیا ہے؟

      • عبداللہ says:

        چلیئے مجھے تو رات میں آیا تھا جلد ہی آپکو دن میں بھی دکھ جائے گافکر نہ کریں اور فی الحال خواب غفلت کے مزے لوٹیں!!!!!

  7. شازل says:

    دہشت گرد ایک ہی قوم ہے

  8. سارے پاکستانی خراب ہيں سندھی مہاجر پنجابی پختون بلوچی و سرائيکی سب

  9. ايک دوسرےايک دوسرے پر اور دوسرا تيسرے پر الزام رکھ کر مطمئن ہو جاتے ہيں

  10. بدتمیز says:

    یار میں بڑٰی خوشی خوشی آیا تھا کہ پوسٹ واپس آ گئی۔ اب مجھے سچ مچ اپنا بلاگ ڈیلیٹ کرنا پڑے گا۔ 🙁

  11. ہم پتہ نہیں تعمیری گفتگو کرنے کی بجائے ذاتی مباحث میں کیوں الجھ جاتے ہیں. تعمیری تبصرے کیلیے ضروری ہے کہ موضوع سے نہ ہٹا جائے اور جس مسئلے کو پیش کیا گیا ہے اس کا حل سوچا جائے. مگر ہم ہیں کہ دائرے سے باہر دیکھ ہی نہیں سکتے.
    خودکش بمبار کئی پکڑے گئے مگر آج تک حکومت نے کوئی نتیجہ عوام کے سامنے پیش نہیں کیا جس سے معلوم ہو سکے کہ یہ کس کی سازش ہے. جنرل ضیاع کے دور میں بم دھماکے تب رکے جب افغانستان کی جنگ بند ہوئی. اسی طرح موجودہ خود کش دھماکے تبھی رکیں گے جب اتحادی افغٍانستان سے چلے جائیں گے. ہماری نظر میں تو یہ خودکش بمبار بھارتی ایجنٹ بھی ہو سکتے ہیں جو پاکستان میں امن قائم ہوتا نہیں دیکھ سکتے. یہ لوگ ان کے ایجنٹ بھی ہو سکتے ہیں جو افغانستان میں موجود رہنے کیلیے جواز ڈھونڈتے رہتے ہیں. یہ ان کے ایجنٹ بھی ہو سکتے ہیں جو ایٹمی پاکستان کو ٹکڑے ٹکڑے کر دینا چاہتے ہیں. اب ان ایجنٹوں کو کیسے تیار کیا جاتا ہے یا خریدا جاتا ہے اس کا آئی ایس آئی آسانی سے سراغ لگا سکتی ہے.

  12. يہ عبداللہ صاحب ساون کے اندھے ہيں اسلئے ان کو سب ہرا ہی ہرا نظر آتا ہے

    • عبداللہ says:

      میری باتوں کو دلائل سے رد کرسکتے ہیں تو ضرور کیجیئے محاوروں سے کام نہیں بنے گا!!!!!

  13. عبداللہ says:

    یہ جو اٹھارا ہزار کلو بارودی مواد بے شمار راکٹ لانچر اور نہ جانے کیا کیا لاہور سے برآمد کیا گیا،یہ بھی میرا تعصب ہے یا یہود و نصاری کی سازش؟؟؟؟؟؟
    یادرہے یہ اس اسلحے کا محض ایک حصہ ہے جو ابھی نہ جانے کہاں کہاں چھپا رکھا ہے!
    اور یہ جو بلیوں کے لیئے بھی مضر جوس لاہور کے معصوم بچوں میں مینگو جوس کے نام سے بیچا جارہا ہے یہ بھی میرا تعصب ہے یا یہود و نصاری کی سازش؟؟؟؟؟؟

    • عبداللہ میں نے یہاں کسی یہود و نصاری کا ذکر تو کیا ہی نہیں، آپ ان کا ذکر خیر کہاں لے آئے . میری تحریر پڑھئے اور اسکا مرکزی خیال کیا ہے اس پر سوچئے .
      باقی میری تحریر کا مقصد ہی یہی کہنا تھا کہ مجرم ہر جگہ، ہر قوم میں موجود ہیں . اب آپ مصر ہیں کہ نہیں یہ تو صرف لاہور نامی جگہ ہی رہتے ہیں اور کراچی جنت کا ایک حصہ ہے، تو سوچتے رہیے اور سر دھنتے رہیے .
      اوہ ہاں یاد آیا کہ اس خبر کا ربط ڈھونڈ کر یہاں چپکا دیجیے گا جس میں بتایا گیا ہے کہ اوسطآ کراچی میں خواتین سے جنسی زیادتی کے سو واقعات کراچی میں روزانہ ہوتے ہیں . شتر مرغ کی طرح سر دبا کر بیٹھے رہیں، امن رہے گا .

      • عبداللہ says:

        یہود و نصاری کا ذکر آپنے نہیں آپکے بزرگوں نے فرمایا تھا،آپ نے شائد دھیان نہیں دیا!!!!!
        باقی کراچی جنت کا حصہ ہی تھا جب تک پورے ملک سے مجرموں نے یہاں کا رخ نہیں کیا تھا!!!!!!
        کراچی میں خواتین سے جنسی ذیادتیوں کے واقعات میں اضافہ بھی جب ہی سے ہوا ہے،مگر اوسط پھر بھی پنجاب سے کم ہے جہاں معصوم بچے بچیاں بھی بخشے نہیں جاتے،بس اللہ ہی اپنا رحم کرے اور آپ کی آنکھیں کھولے،آمین

        • میرا تعلق گاؤں سے ہے،گاؤں میں بزرگوں کے بارے میں حساب رکھنے والے کو میراثی کہتے ہیں، اور یہ سلسلہ نسل در نسل چلتا ہے . خوشگوار حیرت ہوئی کہ آپ بھی یہی کام کرتے ہیں . 🙂
          ہاں سنا تو ہم نے یہی ہے کہ کراچی جنت ہی تھا پھر آپ کے قبیل کے لوگ جب سے آباد ہوئے سکون نہیں ہو سکا 😉 ایک اور غلط فہمی کا ازالہ کر لیجے کہ کراچی ایک شہر ہے، اور پنجاب میں کئی ایک شہر ہیں، موازانہ شہر کا شہر سے کیا جاتا ہے ۔ اب پنجاب کے کسی ایک شہر کا موازنہ جنت نظیر کراچی کے جرائم سے کر کے پرچہ کا جواب دیں ۔ آپ کا اگلا تھیسس یہ ہے ۔

          • عبداللہ says:

            بزرگ سے میری مراد آپ کے مربی افتخار اجمل تھے ویسے آپکا انداز گفتگو بھی آپکی نسل کی نشاندہی کررہا ہے،
            🙂
            کیونکہ آپ خود کو ان معاملات میں اتھارٹی سمجھتے ہیں،اس لیئے بہتر ہوگا کہ یہ تجزیہ آپ ہی کریں اور پنجاب کے جس شہر سے چاہیں کراچی کا موازنہ فرمالیں بس آبادی کا تناسب ضرور مد نظر رکھیئے گا!
            🙂

          • بدتمیز says:

            یار بری بات کسی کو میراثی نہیں کہتے
            عبداللہ میراثی
            ہاہاہاہا

  14. Rizwan Ashraf says:

    Yar! ap log kab tak is qisam ki fazolyat main time zayyah kerte rehain…gai…yar khuda k liyai kabhi tu PAKISTANI banu…

تبصرہ کیجئے

اس بلاگ پر آپ کے تبصرہ کی حوصلہ افزائی کی جاتی ہے
اگر آپ اپنے تبصرہ کے ساتھ تصویر لگانا چاہتے ہیں، تو یہاں جا کر تصویر لگائیں ۔