دو نمبر مئیر

Wednesday,9 September 2009
از :  
زمرات : پاکستان, سیاست

تمام دنیا کے شہری ناظمین میں دوسرا درجہ حاصل کرنے والے ناظم کا “رعایا” کو تسلی دینے کا ایک اشٹائل۔

تبصرہ جات

“دو نمبر مئیر” پر 19 تبصرے کئے گئے ہیں
  1. بھائی سب سے پہلے تو یہ بتا دوں کہ 2 نمبر خبر ہے جس میں 2 نمبر کا کلیم کیا ہے
    دوسری بات یہ کہ اسی کا نام تو آہو ہے

  2. کنفیوز کامی says:

    جہانزیب آُپ کی تائید کے لیے یہ لنک

  3. خرم says:

    بھائی کے کسی حامی کا گزر نہیں ہوا شائد یہاں پر۔ ارے بھئی کوئی تو آؤ۔۔۔۔

  4. سید مصطفی کمال نے بالکل ٹھیک کیا اس عورت کے ساتھ. اس عورت کو پاکستان میں کوئی مائی کالال10 روپے میںICUکا علاج مہیا نہیں کر سکتا .10 روپے میںICUکا علاج صرف سید مصطفی کمال مہیا کرسکتا ہے.
    کراچی کی شان – سید مصطفی کمال

    • فرحان افسوس ہوا آپ کی سوچ پر، جو دس روپے پر عزت نفس بیچ رہی ہے .
      پاکستان میں ایسے ہسپتال بھی ہیں جہاں چونی لئے بغیر علاج کیا جا رہا ہے، بلکہ تھیلسیمیا کا ایسا ہسپتال بھی ہے جہاں مریضوں کو آمدورفت کا کرایہ تک ادا کیا جاتا ہے .

  5. فرحان! میرے خیال میں آپ جیسے حامیوں نے ہی ایسے لیڈروں کا دماغ سر پر چڑھا رکھا ہے۔ کبھی اسی کراچی کی کسی نواحی کچی آبادی میں جا کر دیکھیں کہ زندگی گزارنا کس چیز کا نام ہے؟ جہاں ایک وقت روٹی کھانے کے بعد شاید دوسرے وقت کا کھانا ملنے کا امکان نہیں ہوتا، یا پھر کسی سرکاری ہسپتال کا چکر لگا لیں جہاں صرف سانس لینے کا نام زندگی ہے اور اس سانس کو بحال رکھنے کے لیے بھی معالج غائب ہوتا ہے۔ میں مصطفی کمال کی میں بہت عزت کرتا ہوں، اس نے اس شہر کے لیے بہت کچھ کیا ہے۔ لیکن جب اس قسم کی صورتحال کا سامنا ہو تو بڑا پن یہی ہے کہ اخلاق کا دامن ہاتھ سے نہ چھوڑا جائے۔ ایک رہنما میں اور عام آدمی میں یہی تو فرق ہے۔اگر آپ مصطفی کمال کے اس رویے کے درست سمجھتے ہیں تو مجھے افسوس کے ساتھ کہنا پڑتاہے کہ اخلاقی لحاظ سے وہ اس عورت سے بھی کم تر درجے کے ہیں۔

  6. اسماء says:

    دونوں نہلے پر دہلا ہيں عورت نہلا اور مصطفی کمال دہلا

  7. ثابت ہوا ابھی میئر کچے سیاستدان ہیں وگرنہ وہ غصے کی بچائے سکون سے عورتوں کی بات سنتے اور آرام سے انہیں سمجھاتے۔ مگر کیا کیا جائے ہمیں ایسی تربیت ہی نہیں دی گئی۔ امریکی صدر جارج بش کو جوتے بھی پڑیں تو وہ اس توہین کو بھی ہنس کر برداشت کر لے اور ایک ہم ہیں کہ جعلی کیس پر ہڑبڑا اٹھے اور اچھی بھلی تقریب کا ستیاناس کر دیا۔

  8. عبداللہ says:

    ابو شامل کیا کراچی اور اسکی نواحی آبادیوں میں جو مسائل ہیں ان کی ذمہ دار متحدہ اور مصطفے کمال ہیں؟
    اور کیا یہ کچی آبادیاں صرف کراچی میں ہی ہیں؟
    باقی یہ وڈیو خاصی ایڈٹ ہوئی ہے کیونکہ اس عورت نے جو کچھ کہا اس کا اچھا خاصا حصہ سنائی ہی نہیں دے رہا یقینا اس نے بھی خاصی بدتمیزی کا مظاہرہ کیاہے جسے سنوایا نہیں گیا!
    خرم آپنے کہیں یہ سوال اٹھایا تھا کہ ابھی یہ دیکھنا باقی ہے کہ دس سال بعد متحدہ کی سربراہی الطاف حسین کی بیٹی کے سپرد ہوگی یا نہیں اس کے لیئے آپ کو دس سال انتظار کرنے کی ضرورت نہیں ہے اس لیئے کہ الطاف حسین کی ایک بہن سائرہ باجی اب بھی اسی محلے کے ایک چھوٹے سے مکان میں رہتی ہیں اور متحدہ کی عام سی رکن ہیں اور رابطہ کمیٹی کے فیصلوں کو اسی طرح مانتی ہیں جس طرھ دیگر کارکن،

  9. کچھ سوالات فرحان دانش کے لیے.
    1. فرض کریں کہ خوانخواستہ آپ اس عورت کی جگہ ہیں تو اس تحضیک کے بعد آپ کے تاثرات کیا ہوں گے؟
    2. دس روپے میں علاج فراہم کرنے کا خرچ کیا مصطفی کمال اپنی جیب سے برداشت کررہا ہے یا عوام کے ٹیکس یا عوام کے نام پر حاصل کی گئی امداد کے ذریعے؟ فرض کریں کے اپنی جیب سے فراہم کررہا ہے تو بھی کیا صدقہ کرنے کے بعد آپ کو کسی کی تضحیک کا حق مل جاتا ہے؟ اور اگر عوام کے ٹیکس اس علاج کا خرچ برداشت کررہے ہیں تو گرمی دکھانے کی وجہ؟
    3. کیا کسی لبرل اور پروگریسوو تحریک میں جیسا کے ایم کیو ایم کا دعوی ہے اس طرح کا طرز عمل سیاسی کیریر کے خاتمے کا باعث نہیں بن جاتا؟
    ایک چیز بنیادی انسانی اخلاقیات سے بھی گری ہوئی ہو تو کسی بھی فلسفہ حیات سے اسے درست ثابت نہیں کیاجاسکتا. اس کا صرف ایک ہی حل ہے کہ اسے غلط تسلیم کیا جائے اور آئندہ کے لیے اس غلطی کے دوبارہ نا کرنے کا عزم کیا جائے.

  10. عبداللہ صاحب.. عورت جتنی بھی بدتمیزی کرے دن کے اختتام پر وہ ایک عام عورت اور مصطفی کمال ایک شہر کے مئر ہیں. اگر آپ کے نزدیک ایک مئر اور ایک عام اور بظاہر ناخواندہ عورت کے طرز عمل کا تقابل کرنا چاہیے تو معاف کیجیے گا یہ بند گلی کا رستہ ہے. یہ پہلا واقعہ نہیں ہے اس سے پہلے بھی مئر صاحب ایک صحافی پر بھڑک چکے ہیں جہاں پھر بھی بینیفٹ آف ڈاؤٹ دیا جاسکتا تھا لیکن اس واقعے سے یہ صاف پتہ چلتا ہے کہ کسی بھی غیر معمولی صورت حال میں مئر صاحب اپنا کنٹرول کھو دیتے ہیں اور ایسے شخص کو ملکی سطح کی اہم ذمہ داری دینا انتہائی نقصان دہ ہوسکتا ہے. کیا ہی بہتر ہو کہ ایک غلط چیز کو غلط تسلیم کیا جائے اور اس کی درستگی کی کوشش کی جائے نہ کہ غیر ضروری تاویلیں اور غیر متعلقہ گفتگو سے اس کی پردہ پوشی کی جائے.

  11. خرم says:

    عبداللہ میرے بھائی ۔ اقتدار کی گلیوں میں بھائی بہنوں کی جو اہمیت ہے وہ تو آپ کو علم ہی ہوگا۔ الطاف حسین نے پارٹی خود بنائی ہے سو اس کی قیادت میں بھائی بہن کو شریک کرنا اپنا کنٹرول کھودینے کے مترادف ہوتا۔ الطاف یقیناً ذہین شخص ہیں اسی لئے اتنی دیر سے اور اتنی کامیابی سے ون مین شو چلا رہے ہیں۔ ہاں وراثت کا جب معاملہ آتا ہے تب بات بگڑ جاتی ہے۔ بہن بھائیوں کو اقتدار کے لئے مروانا تو عام بات ہے سو ان کی بہن کا بظاہر ایک معمولی کارکن ہونا عام بات ہے۔ صنم بھٹو بھی تو ایک عام خاتون کے طور پر زندگی گزار رہی ہیں سو اس میں کوئی اچنبھا نہیں۔

  12. نعمان says:

    میرا خیال ہے اگر آپ کراچی میں کوئی سروے کرائیں تو پتہ چلے کہ مصطفی کمال شہر کے نوجوانوں میں سب سے زیادہ مقبول عوامی شخصیت ہے۔ اور مقبولیت اچھے خاصے محنتی اور مخلص آدمی کا بھی دماغ خراب کردیتی ہے۔ بلاشبہ انہوں نے بہت کام کیا ہے، مگر کبھی کبھی ان کی ہروقت کی خودستائی بہت بری لگنے لگتی ہے۔ اس وقت بھی چلا چلا کر وہ یہی باور کرارہے ہیں کہ انہوں نے یہاں کوئی عظیم کام کرا ہے۔ بہت افسوس ہوا یہ ویڈیو دیکھ کر۔

  13. عبداللہ says:

    نعمان کی بات صحیح ہے کہ انسان کبھی کبھی اپنے کیئے پر آپے سے باہر ہوجاتا ہے اور یہ سراسر غلط رویہ ہے کیونکہ انسان کی بساط کچھ نہیں یہ اللہ ہے جو اسے ہمت طاقت اور موقع عطا فرماتا ہے اور تکبر کی وجہ سے وہ اسے چھین بھی لیتا ہے کیونکہ اللہ سب سے ذیادہ غضب ناک ہی اس شخص پر ہوں گے جس نے تکبر کیا ہوگا اللہ ہم سب کو اپنی پناہ مین رکھے اور ایک اچھا انسان اور بہترین مسلمان بننے کی توفیق عطا فرمائے آمین

  14. خاور says:

    جیسی روح ویسے فرشتے
    که پاكستان ميں اب تو یه لہجه عام سی بات ہے ـ مجھے تو جی اس بات پر کوئی گله نهیں ہے ، بس اس بندے پر گله ہے جو اپنے مئیر صاحب کی سیکورٹی کے نام پر اس عورت کو چپھیاں ڈال ڈال کر پرے لے جارھا ہے
    میرےخیال میں اس بندے کی کارگردگی نے عورت کی بولتی بند کی هو گی ورنه اپنے مئیر صاحب کا لہجه تو بڑا هی پنجابی سا تھا ،
    منه میں پان کا کله ڈالے یه میلے سے صاحب تو بڑے ٹھرکی هیں جی ـ
     اور جی یه ویڈیوں شروع هونے سے پہلے یه مئیر صاحب پوز بنا کر کسی کے آواز لگانے کا انتظار کیوں کرتے هیں جی چند سیکنڈ هی سهی ؟؟
    مجھے تو جی مئیر صاحب یه کہتے لگتے هیں انگلی کا شارھ کرکر کے
    تو چھوٹے لوگ !!ـ اگر میں مشکل کشا ، حاجت روا مئیر ناں هوتا ناں جی تو یہاں کتے لوٹنیاں لگاتے تھے تو ھسپتال بھی ناں بنتا ، ان کو پاک فوج نهیں پته ہے ناں جی ان کی نظر نهیں پڑی هو گی ورنه یه پلاٹ بھی حساس ادارے کے قبضے میں هوتا ـ

  15. عبداللہ says:

    خاور وہ جو جپھیاں ڈال رہا تھا وہ اس عورت کا ہی کوئی رشتہ دار تھا ورنہ وہ عورت اتنے آرام سے کھڑی نہ رہتی بقول آپکے اتنے جپھیاں ڈالنے پر!

تبصرہ کیجئے

اس بلاگ پر آپ کے تبصرہ کی حوصلہ افزائی کی جاتی ہے
اگر آپ اپنے تبصرہ کے ساتھ تصویر لگانا چاہتے ہیں، تو یہاں جا کر تصویر لگائیں ۔