انتخابات 2008

Tuesday,19 February 2008
از :  
زمرات : پاکستان, سیاست

پاکستان کے انتخابات نے اکثریت کو حیران کر دیا ہے، اور جو پچھلے آٹھ سال سے نہ تین میں تھے نہ تیرہ میں، وہی پاکستانیوں کی اکثریت کی آواز بن کر ایوانوں میں پہنچ چکے ہیں۔ عوام نے اپنا فرض ووٹ دے کر پورا کر دیا ہے اب گیند سیاسی قائدین کے ہاتھ میں ہے ۔ اور جوڑ توڑ کے کا ایک وسیع میدان بھی ہے کہ جن کو اکثریت ملی ہے وہ آزاد امیدواروں اور چھوٹی پارٹیوں کی حاصل کردہ سیٹوں کو ساتھ ملا کر اقلیت میں بدلے جا سکتے ہیں لیکن ایک بات طے ہے کہ مسلم لیگ نون اور پیپلز پارٹی کو اقتدار سے باہر نہیں رکھا جا سکتا۔ میرے خیال میں سب سے بہتر صورت یہ ہو گی کہ دونوں جماعتیں آپس میں مل کر حکومت سازی کریں اور جوڑ توڑ کی سیاست میں حصہ نہیں لیں تو یہی ملک کے لئے سب سے بہتر ہو گا ۔
ذاتی طور پر میں پنجاب کے نتائج پر بہت خوش ہوا ہوں، پنجابیوں نے ایک دفعہ پھر ثابت کیا ہے کہ اُن میں سیاسی سوج بوجھ کی کمی نہیں ہے۔ انتخابات سے کچھ عرصہ پہلے تک سیاسی تجزیہ نگار اور پنڈت نواز شریف کی مقبولیت کا ذکر تو کرتے تھے مگر الیکشن میں اُن کو اتنی نشستیں حاصل ہوں گی یہ اُن سے ہضم نہیں ہوتا تھا۔ اور اس تجزیے کی بنیاد پنجاب کا روایتی برادری سسٹم کے تحت ووٹ ڈالنے کی روایت ہے، جس میں پارٹی کو نہیں بلکہ اپنے حلقے میں امیدوار کو ترجیح دی جاتی ہے، اور پھر تمام سیاسی پارٹیاں اُن مضبوط امیدوارں تک رسائی حاصل کرنے کی کوشش کرتی ہیں۔ اس کی مثال ہمارے اپنے گھر میں دی جا سکتی ہے جہاں سب سپورٹ تو نواز شریف کو کرتے ہیں مگر ووٹ سب نے انور علی چیمہ کو دیے ہیں جو کہ ق لیگ کے نمائندہ تھے اور چاہے جو بھی حکومت ہو وہ مسلسل ساتویں بار منتخب ہوئے ہیں، جو میرے خیال میں پاکستان بھر میں مسلسل جیتنے کا ایک ریکارڈ ہے ۔ ان انتخابات میں نون لیگ کے پاس ایسے مضبوط امیدوار موجود نہیں تھے اور اکثریت ق لیگ کے جھنڈے تلے موجود تھی، اس سب کے باوجود مسلم لیگ نون نے واضح اکثریت حاصل کی ہے جو ایک خوش آئند تبدیلی ہے ، اور میرا دعوی کہ پنجاب میں سب سے بڑا رہنما نواز شریف کے علاوہ کوئی نہیں ہے ، مسلسل آٹھ سال غدار اور نہ جانے کیا کیا الزامات کے بعد بھی عوام نے اُسی کو چُنا ہے جو اُن کا محبوب ہے۔
اب بظاہر نتائج سے یوں نظر آتا ہے کہ مسلم لیگ نون صرف پنجاب کی حد تک محدود ہے، لیکن میرے خیال میں ایسا نہیں ہے، پہلی بات کہ نون لیگ کو ہر صوبے میں ووٹ ملے ہیں لیکن اتنے نہیں کہ وہ نشستیں حاصل کر پاتی ۔ دوسری بات کہ مسلم لیگ کا ووٹ تقسیم ہوا ہے، پنجاب میں یہ تقسیم ہو کر بھی اتنا مؤثر رہا کہ نشستیں حاصل کرنے میں نون لیگ کو کوئی مشکل پیش نہیں آئی جبکہ دوسروں صوبوں میں مضبوط امیدواروں کی کمیابی اور ووٹ کی تقسیم دونوں عناصر کی وجہ سے کامیابی نون لیگ کا مقدر نہیں بن سکی، نہیں تو سندھ میں ق لیگ تو نشستیں حاصل کر سکتی ہے اور نون لیگ نہیں؟
ویسے بھی لوگوں نے نوافل مانگے تھے 😛 کہ شیر نہ جیتے 😀

تبصرہ جات

“انتخابات 2008” پر 11 تبصرے کئے گئے ہیں
  1. ماوراء says:

    “”اور میرا دعوی کہ پنجاب میں سب سے بڑا رہنما نواز شریف کے علاوہ کوئی نہیں ہے””
    ——
    اور میرا دعویٰ ہے کہ چاروں صوبوں کا سب سے بڑا رہنما بھٹو ہے۔
    —–
    “”نون لیگ کو ہر صوبے میں ووٹ ملے ہیں””
    —-
    پی پی پی کو ہر صوبے میں ووٹ ملے ہیں نا کہ ن لیگ کو۔

    اور نوافل میں نے اس لیے نہیں مانگے تھے کہ شیر نہ جیتے۔ بلکہ اس لیے کہ تیر جیتے۔ 😀

  2. فیصل says:

    اصل معرکہ تو نون لیگ کو اب درپیش ہے، اللہ کرے کہ باقی جماعتیں بھی اعلی عدالتوں کے مسئلے پر نون لیگ کا ساتھ دیں ورنہ بڑا مسئلہ پیدا ہو جائے گا. زرداری تو لگتا ہے پروں پر پانی نہیں پڑنے دے رہے، اللہ انکو عقل دے اور تدبر بھی کہ وہ اس ذمہ داری کو صحیح نبھا سکیں. فی الحال تو نون لیگ اکیلی ہی اس جدوجہد کو جاری رکھے ہوئے ہے کہ انکے نظریاتی ساتھی یعنی اے پی ڈی ایم پارلیمنٹ سے باہر ہیں.

  3. راہبر says:

    ماورا: “میرا دعویٰ ہے کہ چاروں صوبوں کا سب سے بڑا رہنما بھٹو ہے.”
    یہ تو حقیقت نہیں ہے. واقعی اس وقت پنجاب کا سب سے بڑا رہنما نواز شریف ہی ہے.
    اور اب کس بھٹو کو چاروں صوبوں کا سب سے بڑا رہنما قرار دیا جائے؟ وہ دو بھٹو جو قبر میں پہنچ گئے یا وہ جو اپنی ذات اور خاندان بدل کر بھٹو بن گئے؟

  4. ماورا آپ شائد قائد اعظم کو بھول رہی ہیں 😛

  5. اسلام علیکم ،
    ایسا بھٹو جس کو خود اسی کی پارٹی قبول نہیں کر رہی.

  6. ماوراء says:

    عمار، ہاں اس میں کوئی شک نہیں کہ ن لیگ پنجاب میں اکثریت سے جیتی ہے۔ لیکن صرف پنجاب میں۔۔۔!! جبکہ پی پی پی واحد پارٹی ہے جس نے ہر صوبے سے نشستیں حاصل کی ہیں۔

    وہ بے نظیر کا کیا نعرہ تھا۔۔۔“ کتنے بھٹو مارو گے ۔۔۔ ہر گھر سے بھٹو نکلے گا۔“
    اور پیپلز پارٹی میں اور کئی بڑے رہنما موجود ہیں۔ اگر زرداری اور بلاول سے دشمنی ہے تو وہ تو ویسے بھی وزارتِ عظمی کا عہدہ نہیں سنبھالیں گے۔بھٹو مرتے وقت اپنے پیچھے کئی بھٹو چھوڑ کر گیا تھا۔ اب بے نظیر بھی۔ انتخابات کے نتائج سے ظاہر ہے کہ کون مقبول ہے۔

    جہانزیب، ق لیگ نے جیتنا ہی نہیں تھا۔ وہ صرف ایک ہی صورت میں جیت سکتے تھے کہ مشرف الیکشنز میں دھاندلی کروا دیتا۔

  7. ماؤرا ۔ میں نے مسلم لیگ (ق) کا تو ذکر ہی نہیں کیا تھا، آپ نے کہا تھا کہ بھٹو پاکستان کا سب سے بڑا لیڈر ہے، میں نے سوچا اگر قبر والوں کو اگر شمار کرنا ہے تو قائد اعظم محمد علی جناح سے بڑا تو نہیں تھا ۔ 😀
    اور ماؤرا سیاسی اختلافات کا مطلب دُشمنی نہیں ہوتا ہے، ایک تو آپ ناروے میں رہ کر pure کسی گاؤں والے کی طرح سوچتی ہیں (مذاق)

  8. ماوراء says:

    جہانزیب، قائداعظم کا بھٹو سے کیا تعلق؟

    لول۔ جہانزیب دشمنی ایک لفظ استمال کیا تھا۔ 🙂
    اور ناروے میں رہنے والا کیا آسمان سے اترا ہوتا ہے؟ میں چاہے جہاں بھی رہوں گی۔ایسی ہی رہوں گی۔ 🙂 باقی آپ کی امریکن سوچ پڑھنے کو ملتی رہے گی۔ (یہ مذاق نہیں تھا)

  9. یہی تو میں کہہ رہا تھا کہ بھٹو کا نواز شریف سے کیا تعلق؟؟
    میری سوچ تو اصلی گاوں والی ہے 😀

  10. لالااھ says:

    waise banazir jab tak zinda thi tou tab tou koi oss ki tareef naheen kerta tha…Ajj sab oss ki WAH WAH ker rahe hote hain……kal ko MUSHRAFF bhi maare ga tou oss ki bhi chamchay ban jaye gay….

  11. السلام علیکم ویسے دیھکا جائے تو مسلم لیکن ن اب تک قائم ہے اپنے کیے ہوئے وعدے پر جہاں تک بھٹو خاندان کی باتہے تو میرے خیال میں پی پی پی کا یہ آخری الیکشن تھا اس کے بعد میرا نہیں‌ خیال کے پی پی پی کامیاب ہو کیوں کے پی پی پی ٹوٹ جائے گی اور ویسے بھی یہ جو حکومت بن رہی ہے یہ زیادہ عرصہ نہیں رہے گی اور صرف اور صرف نواز شرویف ہی کامیاب ہو گا اگروہ اپنے وعدے پر پکا رہا تو

تبصرہ کیجئے

اس بلاگ پر آپ کے تبصرہ کی حوصلہ افزائی کی جاتی ہے
اگر آپ اپنے تبصرہ کے ساتھ تصویر لگانا چاہتے ہیں، تو یہاں جا کر تصویر لگائیں ۔