ہیلری فار پریذیڈنٹ

Monday,10 March 2008
از :  
زمرات : امریکہ, سیاست

امریکی صدارتی دوڑ میں اس وقت عجیب ہی کشمکش جاری ہے، ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے یہ مقابلہ ریپبلکن پارٹی اور ڈیموکریٹک پارٹی کے درمیان نہیں بلکہ باراک اوبامہ اور ہیلری کلنٹن کے مابین ہے ۔
ہیلری یا اوبامہ؟ ڈیموکریٹک پارٹی کے حامی اس وقت اس سوال پر آپس میں اچھا خاصا تقسیم ہو چکے ہیں۔ ہیلری سیاست کے میدان میں پرانی اور جانی پہچانی ہستی ہیں اور اسی کو بنیاد بنا کر وہ اپنی مہم چلا رہی ہیں کہ امریکہ کو اس وقت ایک تجربہ کار اور کایاں صدر کی ضرورت ہے۔ دوسری طرف باراک اوبامہ جو کہ ملکی سطح کی سیاست میں نووارد ہیں لیکن اُن کی انتخابی مہم سے ہر کوئی ششدر ہے جس نے کلنٹن ٹیم کو اچھا خاصا زچ کیا ہوا ہے، اوبامہ اس مہم میں تبدیلی کے نعرے کے ساتھ میدان میں ہیں ۔
میں نے نیویارک میں ہونے والے الیکشن میں ہیلری کلنٹن کو ووٹ ڈالا تھا، دوسری بہت سی غیر ضمنی باتوں کے علاوہ ہیلری کو ووٹ دینے کی سب سے بڑی وجہ یہ ہے کہ میں چاہتا ہوں ڈیموکریٹک پارٹی آنے والے انتخابات میں فاتح ہو، اور میرے خیال میں اوبامہ کی طلسماتی مہم کے باوجود بھی اوبامہ، جان مکین سے نہیں جیت سکتا۔ اوبامہ کی مہم کا کلیدی نعرہ تبدیلی ہے، اور اُن کی ہر تقریر میں تبدیلی کے علاوہ مجھے کوئی اور بات نظر نہیں آتی سوا اس بات کے کہ اوبامہ بہت اچھی تقریر کرتے ہیں۔ یہ تبدیلی کیا ہو گی؟ کیسے آئے گی؟ کم از کم ہر روز کے اخبارات اور میڈیا دیکھنے کے باوجود بھی میں یہ بتانے سے قاصر ہوں کہ یہ تبدیلی کیا ہو گی؟ کچھ تبدیلیاں جو اخبارات کی زینت بنی ہیں، وہ بجائے اوبامہ کی حمایت میں اضافہ کرنے کے اُن کے خلاف زیادہ جائیں گی جیسے اوبامہ کا کہنا کہ وہ ایران کے رہنماؤں کے ساتھ بات چیت کو ترجیح دیں گے ۔میرے خیال میں یہ ایک بہت اچھی بات ہے لیکن نچلی سطح کے امریکی ووٹر جو کہ قدامت پسند ہیں اُن کے لئے ایسا سوچنا بھی ملک سے غداری کے مترادف ہے کیونکہ وہ ان ممالک کو میڈیا کی نظر سے جانتے ہیں جس کے مطابق ایسے ممالک امریکہ کو صحفہ ہستی سے مٹانا چاہتے ہیں وغیرہ وغیرہ ۔
اوبامہ کا ہیلری کلنٹن کے تجربے کے بارے میں یہ کہنا ہے کہ تجربے سے زیادہ یہ بات زیادہ اہم ہے کہ فیصلہ کُن حالات میں آپ میں دُرست فیصلہ کرنے کی اہلیت ہونی چاہیے ۔ اور کلنٹن کا عراق میں جنگ شروع کرنے کی حمایت کو ایک غلط فیصلہ قرار دے کر وہ اپنی بات کو دہراتے رہتے ہیں، انسان غلط فیصلہ کر سکتا ہے لیکن جب غلط فیصلے پر ڈٹا رہے خرابی تب پیدا ہوتی ہے جبکہ کلنٹن نہ صرف اب عراق جنگ کی نقاد ہیں بلکہ فوراً فوجوں کا انخلا بھی چاہتی ہیں جبکہ دوسری طرف جب اوبامہ سینٹ میں تھے تو ایک دو دفعہ نہیں بلکہ ایک سو تیس مرتبہ وہ یہی فیصلہ نہیں کر پائے کیا دُرست ہے اور کیا غلط ۔
کچھ باتیں جو کم از کم مجھے ایک مذاق لگتی ہیں جیسے یہ کہنا کہ اوبامہ مسلمان ہے، مدرسے سے پڑھا ہے وغیرہ لیکن بڑے منظر میں ان باتوں کو بہت سے لوگ بنیاد بنا رہے ہیں، اور صرف اوبامہ وہ واحد امیدوار ہیں جن کا درمیانی نام جو کہ حسین ہے کو بار بار میڈیا پر استعمال کیا جا رہا ہے، اس بات کا الیکشن پر اتنا اثر ہو رہا ہے کہ اوبامہ کو اور ان کے کیمپ کو بار بار وضاحت کرنا پڑ رہی ہے کہ اوبامہ مسلمان نہیں ہیں ۔ اپنے عیسائی ہونے کو ثابت کرنے کے لئے اوبامہ جس چرچ کے ساتھ پچھلے بیس سالوں سے منسلک ہیں اب لوگ اُس کو بھی متنازعہ بنا رہے ہیں کہ چرچ کا تعلق نسل پرستی سے ہے ۔ پھر چرچ کی طرف سے لوئیس فراخان(فارا خان) جو بذات خود ایک متنازعہ شخصیت ہے، کو ایک ہیرو کے روپ میں پیش کیا گیا ہے۔ پھر لوئیس فاراخان کی جانب سے اوبامہ کی حمایت کا اعلان بھی سونے پر سہاگہ کے مصداق ہے ۔
اوبامہ اس وقت تقریباً ایک سو مندوبین کی سبقت کے ساتھ ہیلری سے آگے ہیں، اور بلاشبہ انہوں نے گنتی کے حساب سے ہیلری سے زیادہ ریاستوں میں برتری حاصل کی ہے مگر کسی بھی بڑی ریاست جو کہ نومبر میں انتخابات میں فیصلہ کن کردار ادا کریں گیں اُن میں اوبامہ نہیں جیت سکے ہیں۔ اس کے علاوہ ایک اور نئی ٹرم مکینو کریٹس ہیں، کچھ سروے کے مطابق گورے ڈیموکریٹ اوبامہ کے منتخب ہونے کی صورت میں جان مکین کو ووٹ دینے کی طرف رجحان رکھتے ہیں ۔
ان سب باتوں کا کہنے کا مقصد یہ ہے کہ ابھی صرف ابتدائی انتخابات ہو رہے ہیں، اور انہی میں اوبامہ کے ساتھ اتنی متنازعہ باتیں منظر پر آ رہی ہیں۔ اگر اوبامہ نامینیشن جیت لیتے ہیں تو ان باتوں میں کہیں زیادہ شدت آ جائے گی جس کا نتیجہ بہرحال اوبامہ کے خلاف جائے گا۔ اور اگر آپ چاہتے ہیں کہ ڈیموکریٹک پارٹی نومبر میں الیکشن جیتے تب ہیلری کلنٹن کا ساتھ دیں ۔ ہیلری فار پریذیڈنٹ

تبصرہ جات

“ہیلری فار پریذیڈنٹ” پر 7 تبصرے کئے گئے ہیں
  1. زیک says:

    کیا خیال ہے اردو بلاگز پر بھی کلنٹن اور اوبامہ کی جنگ نہ شروع کر دی جائے؟ ہاہاہاہا.

    لگتا ہے آپ کی اس پوسٹ کا جواب دینا ہی پڑے گا.

  2. بالک زکریا لیکن اور کون اردو بلاگرز میں اس جنگ کو جاری رکھے گا؟ میں تو اب پتا نہیں کب دوبارہ اس بارے میں لکھوں .

  3. اردو بلاگز پر اس جنگ کو شروع کرنے کا کوئی فائدہ نہیں .. تینوں میں سے کوئی بھی صدر بنے .. امریکی لانگ ٹرم پالیسیوں میں فی الحال تبدیلی کا امکان کم ہے.. جنگ سے بہرہ مند ہونے والی کارپوریشنز اتنے آرام سے دنیا کو محفوظ نہیں ہونے دیں گی جتنی بڑی بڑی باتیں تقریروں میں کی جارہی ہیں.

  4. راشد میں آپ کی بات سے متفق ہوں، پالیسیوں میں صرف اتنا فرق پڑے گا جو بس سینر اور بل کلنٹن کے ادوار میں تھا، ایک پوری جنگ شروع کرنے سے نہیں ہچکچاتا، دوسرا دور سے میزائل پھینکنے سے باز نہیں آیا. طریقہ کار میں تھوڑا سا فرق ضرور پڑے گا پالیسی میں نہیں .

تبصرہ کیجئے

اس بلاگ پر آپ کے تبصرہ کی حوصلہ افزائی کی جاتی ہے
اگر آپ اپنے تبصرہ کے ساتھ تصویر لگانا چاہتے ہیں، تو یہاں جا کر تصویر لگائیں ۔