نوواں گاہک

Tuesday,11 March 2008
از :  
زمرات : امریکہ, سیاست

نیو یارک کے گورنر ایلی اِٹ سپٹزر بھی رنگ رلیاں مناتے بالآخر دھر لئے گئے ہیں ۔ اطلاعات کے مطابق گذشتہ ہفتے ایف بی آئی نے چار لوگوں کو ایک پراسچیٹیوٹ رِنگ کی تحقیقات کے دوران گرفتار کیا تھا، انہی تحقیقات کے دوران واشنگٹن میں ایک ہوٹل کے فون ٹیپ میں مبینہ طور پر گورنر سپٹزر ایک کردار باختہ عورت کی بککنگ کرتے ہوئے پائے گئے ہیں ۔ سپٹزر جو کہ اس رنگ میں کلائنٹ نمبر نو کے نام سے رجسٹرڈ تھے اور قانونی دستاویزات سے کلائنٹ نمبر نو کی جو شکل سامنےآتی ہے وہ کچھ یوں

  • کلائنٹ نمبر نو روایتی طریقہ سے ہٹ کر نقد رقم ادا کی۔ چونکہ اس طرح پکڑے جانے کے مواقع کم ہوتے ہیں ۔
  • کلائنٹ نمبر نو پہلے بھی یہ سروس استعمال کر چکا ہے
  • کلائنٹ کے مطابق اُس کی منتخب کردہ لڑکی “کرسٹن” تباہی قسم کی چیز تھی ۔
  • ایمپررز کلب کی طرف سے کلائنٹ نمبر نو کو کرسٹن کے آنے کے مبلغ 4100 ڈالر چارج کئے گئے۔
  • کلائنٹ نمبر نو بہتر خدمت کے لئے اضافی معاوضہ دینے کو تیار تھا۔
  • بہتر خدمت کی سہولت کے ساتھ یہ معاوضہ مبلغ 4300 ڈالر پر گھنٹہ پر طے پایا۔
  • کلب کے بُکی کی جانب سے “کرسٹن” کو متبنہ کیا جاتا ہے کہ کلائنٹ نمبر نو شاید کچھ ایسا کرنا چاہے مخفوظ نہ ہو ۔
  • کرسٹن کا جواب ، فکر نہیں کرو میں جانتی ہوں ایسے لوگوں سے کیسے برتاؤ کیسے کیا جاتا ہے ۔

نیویارک کے قانون کے مطابق پراسٹیٹوشن جرم ہے اور جب آپ ایک طوائف کو ایک سٹیٹ سے دوسری سٹیٹ میں منگواتے ہیں تو یہ ایک وفاقی جُرم ہے، گورنر سپٹزر نے واشنگٹن جا کر نیویارک سے لڑکی منگوائی تو دونوں کام ہو گئے، لیکن شاید یہ اُس کا نیویارک سے محبت کا عالم ہے کہ صرف نیویارکر ہی اُسے پسند آئے ہیں ۔ کل سہ پہر کو گورنر نے ایک تیس سکینڈ کی پریس کانفرنس بلائی اور معافی مانگی

میں نیویارک کے لوگوں اور سب سے اہم اپنے خاندان سے شرمندہ ہوں میں اپنے ہی بنائے ہوئے معیارات پر پُرا نہیں اُترا اور اپنے آپ کو مایوس کیا ہے، میں آپ سب سے معافی مانگتا ہوں۔ اب میں اپنا وقت پنے خاندان کے ساتھ گزارنا چاہتا ہوں تاکہ کھویا ہوا اعتماد میں دوبارہ حاصل کر سکوں۔ کچھ عرصے میں میں دوبارہ آپ کے سامنے آؤں گا۔

اس کانفرنس کے بعد یہ تاثر تھا کہ اب گورنر شام سات بجے تک مستعفی ہو جائیں گے، مگر انہوں نے بھی سیاست میں کچی گولیاں نہیں کھیلیں، اب اپوزیشن کی طرف سے گورنر کو اڑتالیس گھنٹے کا وقت دیا گیا ہے کہ اس دوران وہ عزت سے گھر چلے جائیں ۔
اب میرے خیالات، گورنر سپٹزر آٹھ سال تک نیویارک کے اٹارنی جنرل رہے ہیں، اس دوران انہوں نے ایسے کام کئے ہیں جو پہلے کوئی سوچ نہیں سکتا تھا، نیویارک میں مافیا کو کونے سے لگانا ان کا سب سے بڑا کارنامہ سمجھا جاتا ہے ۔اس کے علاوہ اٹارنی جنرل کی مدت میں انہوں نے دو پراسٹیٹوشن رنگ ختم کرائے تھے ۔ گورنر پٹاکی سابق گورنر نیویارک کے بعد وہ ریکارڈ نمبر ووٹوں کے ساتھ ایک سال پہلے گورنر بنے ہیں، اور ایک سال میں اتنے تیزی سے کام کروائے کہ انہیں “کرسیڈر آف دی ایر” کا نام دیا گیا، اس کے علاوہ مستقبل میں سپٹزر کی نظر صدارت کی طرف تھی۔
اب میرا سوال یہ ہے کہ ایسی اہم پوزیشن پر فائز لوگ ایسی حرکت کیوں کرتے ہیں، جِس سے اُن کا سب کچھ ختم ہو جاتا ہے، اس ایک حرکت سے سپٹزر کی فیملی، اُس کا اتنی محنت سے بنایا ہوا مقام اور آگے بڑھنے کی اُمید سب خاک میں مل گئی ہے، بلکہ شاید جرم ثابت ہونے پر انہیں جیل کی ہوا بھی کھانا پڑے ۔ نہ ہی سپٹزر ایسا پہلا شخص ہے اور نہ آخری، تو ایسا کیا ہے جو لوگوں کو اپنا سب کچھ داؤ پر لگانے پر اُکساتا ہے؟
فُٹ نوٹ : پنتالیس سو ڈالر پر گھنٹہ میں ایسا کیا پیش کیا جاتا ہے؟ کوئی تجربہ کار بتائے تو ذرا؟

تبصرہ جات

“نوواں گاہک” پر 4 تبصرے کئے گئے ہیں
  1. بدتمیز says:

    پینتالیس سو ڈالر فی گھنٹہ میں‌ کیا پیش کیا جاتا ہے؟ آپ کو نہیں‌ پتہ؟ خود ہی تو بتایا ہے.

    کلب کے بُکی کی جانب سے “کرسٹن” کو متبنہ کیا جاتا ہے کہ کلائنٹ نمبر نو شاید کچھ ایسا کرنا چاہے مخفوظ نہ ہو ۔

    :D:D

  2. بدتمیز میں نے تجربہ کاروں سے پوچھا تھا یہ سوال، تم کہیں تجربہ کار تو نہیں :p

  3. اظہرالحق says:

    عجیب لوگ ہیں یہ مغرب والے ۔ ۔ ۔ اتنی سی بات کا بتنگڑ بنا دیا ۔ ۔ ۔ ہمارے سیاہ ست دانوں سے ہی کچھ سبق حاصل کرتے ۔ ۔ ۔ مصطفیٰ کھر سے لیکر روشن خیال مشرف تک اور تو اور ہمارے گورنر جنرل غلام محمد اور جنرل یحیٰی خان ۔ ۔ جیسے روشن خیال حکمرانی کے اعلیٰ درجوں تک پہنچے اور انہیں کچھ بھی نہیں ہوا ۔ ۔ ۔ اور انہوں کے قوم مفاد میں اپنی خدمات سے قوم کو محظوظ کیے رکھا ۔ ۔ ۔

    بے چارے مغرب والے ۔ ۔ ایسی آزادی انکے نصیب میں کہاں !!!!!

  4. اس پورے واقعے کا سب سے اہم پہلو دیکھیے کے اتنے کارنامے انجام دینے اور اتنے پاپولر ہونے بعد بھی اس حرکت کے بعد نیویارک کے گورنر کو مستعفی ہونا پڑا کیونکہ امریکن لیڈرشپ کے میعار سے وہ کہیں نیچے چلے گئے تھے جسکو یہ قوم مشکل سے معاف کرتی ہے اور یہی وہ فرق ہے جس نے ہمیں انکے تابع بنا رکھا ہے… ہمارے یہاں گورنر سطح کا آدمی تو ویسے ہی قانون سے بالاتر ہوتا ہے ..

    کل ریڈیو کے پی ایف کے پر ایک مستند ماہر نفسیات نے ان وجوہات پر روشنی ڈالی تھی جسکے سبب سب کچھ ہوتے ہوئے بھی انسان ایسے کام کر گزرتا ہے .. کے پی ایف کے ڈاٹ او آر جی پر ریکاڈنگ سنی جاسکتی ہے.

تبصرہ کیجئے

اس بلاگ پر آپ کے تبصرہ کی حوصلہ افزائی کی جاتی ہے
اگر آپ اپنے تبصرہ کے ساتھ تصویر لگانا چاہتے ہیں، تو یہاں جا کر تصویر لگائیں ۔