زنجیر

Saturday,29 December 2007
از :  
زمرات : پاکستان, سیاست

بے نظیر بھٹو کی سیاست اور ان پر لگے ہوئے الزامات کے باوجود بھی اُن کی خوبیوں کو جھٹلایا نہیں جا سکتا ، بے نظیر بھٹو کی سب سے بڑی خوبی یہ تھی کہ وہ سندھ میں وفاق کی سب سے بہترین نمائندہ تھی اور اگر آپ اس بات کا اندازہ کرنا چاہتے ہیں کہ پاکستان کو اس کا کتنا نقصان ہوا ہے، وہ اُن نعروں کی گونج سُن لیں جس میں جاگ سندھی جاگ جیسے نعرے لگ رہے ہیں ۔ سندھ میں آپ چاہے جتنی مرضی کوشش کرلیں یہ احساس محرومی کبھی ختم نہیں کر سکیں گے کہ پنجاب نے ہمارے ساتھ زیادتی کی ہے، اگر کوئی اس کو تخفطات کو ختم کر سکتا تھا تو وہ بے نظیر بھٹو ہی تھی ۔ بے نظیر کے بعد مجھے تو کوئی ایک بھی ایسا رہنما نظر نہیں آتا جو یہ دعوی کر سکے کہ وہ اس خلا کو پر کر سکتا ہے ۔ دوسرا یہ کہ محترمہ اور نواز شریف نے اپنے ماضی سے بہت کچھ سیکھا ہے اور پہلے جو ایک دوسرے کی شکل تک نہیں دیکھنا چاہتے تھے اب ایک دوسرے سے ملاقاتیں کر رہے تھے اور مل جل کر حکومت کے کرنے کی باتیں ہو رہی تھیں، جو میرے خیال میں پاکستان کے لئے بہتر تھا۔ اب بے نظیر کی شہادت سے یہ سیاسی عمل کتنا پیچھے چلا گیا ہے اس کا اندازہ جلد ہی مستقبل قریب میں ہو جائے گا۔
دوسری بات جس پر میں بے نظیر بھٹو کا ہمیشہ معترف رہوں گا وہ طاقت کی بجائے ہمیشہ عوام کی طاقت پر بھروسہ ہے، نہیں تو جو اُن کے ساتھ ذاتی حالات درپیش تھے، والد، بھائی اور پھر خود جیلیں اور جلا وطنی جیسے حالات، ایسے حالات اور عوامی حمایت کے زور پر وہ آسانی سے کوئی دوسرا راستہ بھی اختیار کر سکتی تھیں ۔ نہ صرف یہ کہ انہوں نے خود یہ راستہ نہیں چُنا تھا بلکہ پوری شدت سے اُن لوگوں کے خلاف بھی بولتی تھیں جو اس مسلح راستے پر جا رہے ہیں ۔اگر بے نظیر چاہتی تو میر مرتضی بھٹو کی طرح بندوق کا راستہ اختیار کر سکتی تھیں اور مرتضی بھٹو سے کہیں زیادہ ہمدردیاں اُنہیں حاصل تھیں، نہ صرف سندھ بلکہ پاکستان کے ہر صوبے میں اُن کی اچھی خاصی حمایت ہے۔ بلکہ پیپلز پارٹی کے پنجابی ووٹر سندھی ووٹروں سے تعداد میں اور جذباتی وابستگی کے لخاظ سے کہیں زیادہ ہیں ۔
اب بے نظیر کے بعد سندھ کہاں جائے گا؟ جئے سندھ کے ساتھ؟ اندرون سندھ کے کالج اور یونیورسٹیوں میں جئے سندھ اُتنی ہی مضبوط ہے جتنی جمعیت پنجاب کے کالجوں میں، سیاسی افق پر پیپلز پارٹی ہی اُن کا راستہ روکتی رہی ہے، اب بے نظیر کے بعد کون روکے گا؟

تبصرہ جات

“زنجیر” پر 2 تبصرے کئے گئے ہیں
  1. بدتمیز says:

    کیا آپ بھی یہی کہنا چاہتے ہیں کہ بینظیر کی سب سے بڑی غلطی خود کو ابدی سمجھنا اور اپنے آگے کسی ایسے لیڈر کو نہ بننے دینا جو کہ اس کے بعد پارٹی متحد رکھ سکے؟
    ایسا تو شائد ہندوستان میں بھی نہ ہوتا ہے کہ ایک پارٹی یا صوبہ صرف ایک شخصیت کے دم سے ہو. نہ صرف یہ بینظیر کی غلطی تھی بلکہ باقی سبھی لوگ بھی ایک ایک نام کی پارٹی ہیں. سندھ کو یہ تحفہ انہی نے دیا ہے جنہوں نے بنگلہ دیش کا تحفہ دیا. ایک پارٹی اور ایک ملک یعنی اب چار مزید ملک کہ حکومت ہو سکے.

  2. نعمان says:

    بھٹو صاحب کی ایک تقریر کا اقتباس جیو ٹی وی پر بار بار دکھایا جارہا ہے جس میں وہ ایک عوامی جلسے سے خطاب کرتے ہوئے کہہ رہے ہیں کہ اس میدان میں دو بھٹو ہیں. ایک میں اور دوسرا آپ لوگ. بے نظیر اسی عوامی طاقت پر بھروسہ کرتی تھیں. ایک انٹرویو میں انہوں نے کہا کہ بھٹو خاندان کے دور حکومت میں بارشیں زیادہ ہوتی ہیں، فصلیں اچھی ہوتی ہیں، لوگوں کو روزگار ملتا ہے اور معیشت ترقی کرتی ہے شاید ایسا اس لئے ہے کہ ہم عوام سے اور عوام ہم سے محبت کرتے ہیں.

    محترمہ کی جماعت میں لیڈرشپ کا فقدان نہیں. مخدوم امین فہیم، یوسف رضاگیلانی، اعتزاز حسین، اور ایسے کئی لیڈر ہیں جو مقبولیت میں ملک کی کئی سیاسی جماعتوں کے سربراہان سے آگے ہیں. لیکن پیپلزپارٹی کا ووٹر جو محبت بھٹو خاندان سے کرتا ہے وہ پیپلز پارٹی کا ایک بیش قیمت اثاثہ ہے. اس کی مثال بھارت میں گاندھی خاندان کی دی جاسکتی ہے. جہاں سونیا گاندھی اپنے بچوں کی مدد سے پارٹی کو سنبھالا ورنہ کانگریس کا ووٹر سخت ناراض تھا اور انہیں نہیں لگتا تھا کہ راجیو کی موت کے بعد کانگریس کبھی اٹھ پائے گی. حالانکہ کانگریس میں کئی لیڈر تھے مگر جو عوامی محبت گاندھی خاندان کو حاصل تھی وہ ان کا اصل اعتماد تھی.

    محترمہ خود کو ابدی یا ضروری نہیں سمجھتیں تھیں. لیکن انہیں اس حقیقت کا ادراک تھا کہ ان کا ووٹر انہیں لیڈ کرتے ہوئے دیکھنا چاہتا ہے.
    اگر آپ آج پیپلز پارٹی کے کارکنوں سے ووٹ ڈلوالیں تو بلاول زرداری ننانوے فیصد ووٹوں سے کامیاب ہوجائیں گے. لیکن افسوس کی بات یہ ہے کہ ہمارے یہاں لوگ خود کو عقل کل سمجھتے ہیں اور عوام کی رائے کو ان کی جہالت اور کم عقلی خیال کرتے ہیں.

تبصرہ کیجئے

اس بلاگ پر آپ کے تبصرہ کی حوصلہ افزائی کی جاتی ہے
اگر آپ اپنے تبصرہ کے ساتھ تصویر لگانا چاہتے ہیں، تو یہاں جا کر تصویر لگائیں ۔