محمود احمدی نژاد

Friday,21 September 2007
از :  
زمرات : نیو یارک, امریکہ, سیاست

آج کل نیویارک میں ایرانی صدر احمدی نژاد کے ذکر پر ہلہ لالا(اردو میں ہاہوکار شاید) مچی ہوئی ہے۔ احمدی نژاد نے اقوامِ متحدہ کے اجلاس میں شرکت کے دوران ورلڈ ٹریڈ سنٹر کی جگہ دیکھنے کا اشتیاق ظاہر کیا تھا ،جِسے نیویارک پولیس کمشنر ریمنڈ کیلی نے بغیر کوئی وجہ بتائے مسترد کر دیا تھا، نیویارک کے رہنے والے اِس بارے میں کیا رائے رکھتے ہیں، اِس بارے میں کچھ بحث یہاں دیکھ جا سکتی ہے۔
لیکن اِس سے بھی بڑی بات اب کولمبیا یونیورسٹی کا احمدی نژاد کو لیکچر پر مدعو کرنا بن گیا ہے، کولمبیا یونیورسٹی اِسے آزادیِ اظہار کہہ رہی ہے، جبکہ لوگ (مخصوص لوگ۔ ۔ میڈیا) اِسے ایک دہشت گردوں کے معاون کو مدعو کرنے سے تعبیر کر رہے ہیں۔
ویسے احمدی نژاد اور دبئ پورٹس ورلڈ کا گیارہ ستمبر سے کیا تعلق ہے؟ اور دونوں دفعہ میڈیا پر اتنی ہاہاکار(شاید یہ درست لفظ ہے) مچائی گئی کہ الامان۔

ویسے بہت سے لوگوں کا خیال تھا کہ احمدی نژاد کو انکارسے وہ مقاصد حاصل ہو گئے ہیں جو وہ دُنیا کو دکھانا چاہتا تھا کہ امریکیوں میں اعتدال پسندی عنقا ہے، ویسے آپ کا کیا خیال ہے؟ کیونکہ اگر احمدی نژاد وہ جگہ دیکھنا ہی چاہتا ہے تب بھی اُس پر کوئی پابندی نہیں ہے، اس انکار کے بعد بھی وہ اگر وہاں جانا چاہے تب بھی تمام سیکیورٹی اُسے ہر حال میں مہیا کی جائے گی۔

تبصرہ جات

“محمود احمدی نژاد” پر 6 تبصرے کئے گئے ہیں
  1. بدتمیز says:

    سلام
    پولیس کا کہنا ہے کہ سلیبریٹیز اور دوسرے لوگ وہاں‌صرف شو کرنے آتے ہیں جس کی وجہ سے انہوں نے ایک عرصے سے اجازت دینا بند کی ہوئی ہے۔
    ایرانی صدر کو سیکرٹ سروس کی طرف سے تحفظ مہیا کیا جا رہا ہے۔ ان کے وہاں آنے پر سیکرٹ سروس کا خرچہ ہو گا۔
    اس سال ورلڈٹریڈ سینٹر کی سالانہ تقریب گراؤنڈ زیرو پر نہیں‌ہوئی لہذا لواحقین کی طرف سے بہت غصہ کا اظہار کیا گیا تھا۔ اب ایرانی صدر کو اجازت دے کر ان سب لوگوں کو سھبھالنا مشکل ہو گا۔
    لواحقین کے حلقوں کا کہنا ہے کہ ایسے ملک کے صدر جو کہ امریکہ کے مطابق بدی کا محور ہے اور دہشت گردی کو سپورٹ کرتا ہے کیونکہ اس جگہ پر جانے کی اجازت دی جائے جو کہ دہشتگردی کا بدترین نشانہ بنا۔
    ہیلری کلنٹن اور روڈی جولیانی بھی ایرانی صدر کے گراؤنڈ زیرو پر جانے کی مخالفت کر چکے ہیں۔
    ایرانی صدر کو انکار تبھی ہائی لائٹ بن سکتا ہے اگر اس سے قبل کسی اور ملک کے سربراہ کو وہاں‌جانے کی اجازت دی گئی ہو جس کے بارے میں میں سراسر لاعلم ہوں۔

  2. کیا اس سے قبل کسی سربراہ مملکت نے یہ جگہ دیکھنے کی اجازت مانگی!!!
    امریکیوں نے نا سمجھی کا مظاہرہ کیا اجازت نہ دے کر!!!

  3. اجمل says:

    کسی امریکی سے میرا سب سے پہلا واسطہ آج سے 53 سال قبل پڑا اور میں نے دو عادات ان میں دیکھیں

    1 ۔ انتہائی خود غرضی یہاں تک کہ ان کا کتا بھی ہم سے افضل اور ان کا جھوٹ بھی سچ
    2 ۔ اپنے کو عقلمند و ماہر اور ہم لوگوں کو بے عقل اور جاہل سمجھنا

    میرا خیال ہے کہ آج تک اسے غلط ثابت نہیں کیا جا سکا ۔

  4. راہبر says:

    ایرانی صدر نے شروع سے اپنے پتے بہت احتیاط اور چالبازی سے کھیلے ہیں…. جواب میں امریکی اقدام اکثر بونگے ہی ہوتے ہیں

  5. بدتمیز .ایرانی صدر کوئی سلیبرٹی نہیں ہے، اور دوسری بات وہاں وہ جیسا کہ بہت سے لوگ کہہ رہے ہیں دہشت گردی کی حمایت نہیں مذمت کرنے جا رہا تھا جیسا کہ وہ ستمبر کے حملوں کی مذمت کئی بار پہلے کر چکا ہے، اب رہ گئی بات بدی کے محور کی تو جس بنیاد پر ایران کو بدی کا محور قرار دیا گیا ہے وہ اسرائیل ہے اور صرف ایران ہی نہیں بہت سے دیگر اسلامی ممالک جنہیں امریکہ اپنا دوست کہتے نہیں تھکتا ان کی بھی اسرائیل پالیسی جارحانہ ہی ہے. اہم بات یہ ہے کہ ایک ملک کے منتخب صدر نے ایک جگہ دیکھنے کا اظہار کیا تو اگلے ملک کو اس کی لاج رکھنی چاہیے جبکہ وہ اگلا ملک دنیا میں اخلاقیات کا چپمین بھی کہلانا چاہتا ہو.

  6. ہندوستان کے دینی مدارس کے طلبہ کوامریکی دعوت ۔۔۔ پردے کے پیچھے کا راز کیا ہے۔۔۔۔۔۔۔ ؟
    بقلم خاص :تنویر عالم قاسمی

    ہندوستانی مدرسوں کی مثبت کردارکی وجہ سے دنیا میں شہرت ہے اور عوام کے درمیان بھرپورمقبولیت حاصل ہے لیکن امریکا کو یہ سب بالکل پسند نہیں وہ نہیں چاہتا کہ دنیا کے کسی بھی خطے میں مسلمان متحد اور امن و امان سے رہے
    ای وجہ سے اب امریکا کا اگلا نشانہ ہندوستانی مدرسے ہیں جنہیں وہ اپنے نیا فارمولا Divide and Perish یعنی“ پھوٹ ڈالو اور برباد کردو ،، کے تحت ہندوستان میں مسلما نوں کا اسلامی قلعہ سمجھے جانے والے اسلامی مدرسوں کے درمیان مسلکی اختلاف کو ہو دینا چاہتی ہے اور عوام کے درمیان ان کی مقبولیت ختم کرنا چاہتی ہے، اسی مقصد کو حاصل کرنے کیلئے امریکا کی حکومت ہندوستانی مدرسوں کے طالب علموں کے ایک وفد کو اپنے ملک میں مدعو کر رہی ہے
    اور اس دعوت کے بہانے امریکی حکومت ان کے دماغوں میں زہر بھرنے کی فکر میں لگی ہے ،تاکہ وہ امریکا سے واپس آنے کے بعد اسلام دشمنوں کے ہاتھوں کا کھلونا بن کرمدرسوں اور عوام کے درمیان گہری خلیج پیدا کی جاسکے ۔
    اس دعوت میں کن مدرسوں کے طالب علموں کو مدعو کیا گیا ہے ؟ کون کون لوگ جائینگے ابھی یہ واضح نہیں ہوسکا ہے،لیکن اس میں کوئی شک نہیں کہ امریکہ جانے کے خواہشمند لوگوں کی کمی نہیں ہے، بہت سے لوگ ابھی سےہی امریکی سفارت خانے کا چکر کاٹ رہے ہونگے،کیوں کہ ہمارے ملک میں امریکا وبرطانیہ کا دورہ کرکے آنے والے لوگوں کو کافی اہمیت دیجاتی ہےاوران کو قابل اور روشن خیال تصور کیا جاتاہے ان ممالک میں ہونے والے جلسے وجلوس اور کانفرنسوں میں شمولیت کو بڑی سعادت کا درجہ رکھتا ہے،اس لئے کچھ لوگ اس کو خدا کی دی ہوی ایک عظیم نعمت تصور کرتے ہیں ،لیکن اس کے باوجود عوام اسلئے کوئی آواز نہیں اٹھاتی کیوں کہ ان ممالک میں بسنے والے ایشیائی باشندے ہی ان تقاریب کا اہتمام کرتے ہیں اور دوسری وجہ یہ ہے کہ اکثر یہ محفلیں مذہبی نوعیت کی ہوتی ہیں لیکن یہ معاملہ یکسر مختلف ہے اس بار امریکی حکومت کی طرف سے دینی مدرسوں کے طلبہ کو دعوت دی جارہی ہے، خالانکہ یہ بات دنیا جانتی ہے کہ امریکہ کے صدر بش مدارس اسلا میہ کو “ دہشت گردوں کی فیکٹری “ قرار دے چکے ہیں، اب مدرسوں پر یہ مہر بانی کیوں ؟ اس دعوت کے پیچھے کا راز کیا ہے اس پر غور کرنا ضروری ہے۔
    اسرائیل کی دو تنظیموں نے اگست کے مہینے میں جس مقصد کیلئے ہندوستان کے کچھ مسلمانوں کو بلایا تھا لیکن اسرائیل جانے والا وفد قوم کوکوئی نقصان یا اسرائیل کو کوئی فائدہ نہیں پہنچا سکا لیکن اب جس گروہ کو دعوت دی جارہی ہے اس کا استعمال امریکی مقاصد کے حصول کیلئے ہی کیا جاسکتاہے اور قوم کی روح پر کاری زخم لگئے جاسکتے ہیں، باوثوق ذرائع کے مطابق
    امریکا کی وزارت خارجہ کی جانب سے یہ کوشش ہورہی ہے کہ ایسے دینی مدارس کے طلبہ کو ہی بلایا جائے جن کے مہتمم وذمہ دار امریکا کے معاملے میں مرزا غلام احمد قادیانی کی طرح تو خاموش رہتے ہیں لیکن مسلمانوں میں مسلکی اور مذہبی اختلافات کو ہوا دینے میں کبھی نہیں چوکتے ۔
    واضح رہے کہ امریکہ کی طرف سے مسلمانوں کے درمیان مسلکی اور گروہی اختلافات کو ہوادینےوالے ہر ایک خود ساختہ علامہ کو بڑی بڑی رقومات فراہم کی جاتی ہیں( جس کا زندہ مثا ل “ الرسالہ “ کے مدیر مولانا وحید الدین خان دہلی ہیں ،)تاکہ وہ اپنی تحریروں اور تقریروں کے ذریعہ مسلمانوں‌کے خلاف برسرپیکار ہونے پر امادہ کرے، امریکی حکومت کی جانب سے ایسے علماء اور خطباء کوویزا دیئے جانےسے انکار کردیا جاتاہے جو مسلمانوں میں اتحادو اتفاق کی کوشش میں لگے ہیں ،اور ایسے ملا ؤں کو اسانی سے ویزا دیدیا جاتاہے جو مسلمانوں کے درمیان اختلاف پھیلانے والی کتابیں لکھتے ہیں‌یا مجلسوں اور محفلوں میں دوسرے فرقہ کے عقائد پر چوٹ کرتے ہیں‌،
    ایسے ملا ؤں کو بھی ویزا آ سانی سے مل جاتا ہے جو امریکہ کی پالیسیوں کی نکتہ چینی نہیں کرتے۔اصل میں‌امریکا اور اسرائیل کی طرف سے لگار تار یہ کوشش ہورہی ہے کہ مسلمانوں میں مسلکی اختلافا ت کو ہوا دیکرانہیں آپس میں لڑواکر اسلام کو نقصان پہنچایا جائے۔
    ماضی میں‌بھی یہی کوششسیں رہیں۔
    دینی مدرسوں‌کے طلبہ کو امریکا کے دورے کی دعوت کا نیا سلسلہ شروع کرکے امریکا نے ہمارے معاشرے میں کو ئی نیا گل کھلانی ضرور رچ لی ہے اسلئے تمام مدارس کے ذمہ داران اور مہتمم حضرات کو امریکا کی حکومت کی جانب سے دورے کی دعوت قبول کرنے سے قبل یہ بات اچھی طرح سمجھ لینا ہوگی کہ امریکا کا ساتھ دینا ایک ایسا جرم ہے جس کے لئے ہوسکتا ہے کہ اللہ تعالی بھی معاف نہ کرے۔

    تنویر عالم قاسمی
    tanveeralamqasmi@yahoo.co.in
    خط وکتابت کا پتہ:
    #42,
    Nandi Durga Road, Bangalore46
    ٰIndia-91

تبصرہ کیجئے

اس بلاگ پر آپ کے تبصرہ کی حوصلہ افزائی کی جاتی ہے
اگر آپ اپنے تبصرہ کے ساتھ تصویر لگانا چاہتے ہیں، تو یہاں جا کر تصویر لگائیں ۔