رینجر یا پولیس؟

Friday,6 July 2007
از :  
زمرات : پاکستان, سیاست

جامعہ حفصہ سے طالبات کو نکلنے نہیں دیا جا رہا ہے۔ وفاقی وزیرِ اطلاعات

اور

طلبہ اور طالبات اپنی مرضی سے رُکے ہیں، اُن پر کسی قسم کا دباؤ نہیں ہے ۔ عبدالرشید غازی

اوپر بیان کردہ دونوں خبروں میں ایک بات مشترک ہے کہ لال مسجد میں طلبہ اور طالبات موجود ہیں، اور جاری آپریشن میں اس بات کو یقینی بنایا جائے کہ اُن کی جانوں کی حفاظت کی جائے۔ وہ پاکستان کا مستقبل ہیں اور ہمیں اس بات کا ادراک کرنا چاہیے ہے۔ نہیں تو جن مُلکوں کو ہم نہ جانے کیسے کیسے القاب سے یاد کرتے ہیں وہاں ایک سکول بس کے رُکنے پر پوری ٹریفک رُک جاتی ہے جبتکہ بس دوبارہ نہیں چل پڑے ۔
جاری آپریشن میں ایک دفعہ پھر یہ بات شدت سے سامنے آئی ہے کہ ہمارے پاس ایسے ادارے نہیں ہیں جو کہ ہنگامی حالات پر قابو پانے کی اہلیت رکھتے ہوں، قصور اِس میں حکمرانوں کا ہے جو اپنی سیکورٹی تو ہر ممکن طریقے سے “فُول پروف” بنانے کا انتظام رکھتے ہیں، لیکن عوام کی حفاظت کا کبھی کوئی خاطر خواہ انتظام نہیں کیا گیا۔
شہری ہنگاموں کی صورت میں فوج یا رینجر کو نہیں بُلایا جانا چاہیے ہے، اُن کا شہری معاملات سے تعلق ہی نہیں ہونا چاہیے، بلکہ قانون نافذ کرنے کا ادارہ جِسے پوری دُنیا میں عرف عام میں پولیس کہا جاتا اُس کی اہلیت اور معیار کو بہتر کرنے کی ضرورت ہے، اور پولیس کو جدید بنیادوں پر اور جدید سہولیات سے آراستہ کیا جائے، ایسے مضحکے کہ مجرموں نے تھانے پر حملہ کر دیا، پولیس والوں کو حراست میں لے لیا، یہ تب تک جاری رہیں گے جب تک اُنہیں تمام سہولیات مہیا نہیں کی جائیں گی۔ مجرموں کے پاس پولیس سے بہتر اسلحہ ہو گا تو پولیس دوسروں کیا اپنی حفاظت بھی نہیں کر سکتی ہے۔
دوسری سب سے اہم بات کہ کیا ہماری فوج اور رینجر اور پولیس کو کیا کسی ایسی شہری ہنگاموں پر قابو پانے میں مدد کی کوئی ٹریننگ دی بھی جاتی ہے کہ نہیں؟ یا صرف اسلحہ تھما کر بھیج دیا جاتا ہے کہ مار کر آ جاؤ؟ آج پانچ دن ہو رہے ہیں اور ابھی تک یا تو صرف محاصرہ جاری ہے نہیں تو فائرنگ۔ اگر خدانخواستہ کل کسی گنجان آبادی میں کسی گنجان بلڈنگ میں دہشت گرد چھپ جائیں، تو رینجر اور آرمی جا کر کے وہ پُوری بلڈنگ اُڑا دیں گے؟
اور بعد میں کہہ دیا جائے کہ “گھن کے ساتھ گیہوں تو پِستا ہی ہے”۔
ہمیں اِس گھہیوں کو پِسنے سے بچانا ہو گا، کیونکہ عوام تو پہلے ہی بہت سی مشکلات کا شکار ہیں۔ اور پُورے پاکستان کی پولیس کو ایلیٹ فورس کی بنیاد پر ٹریننگ اور ویسے ہی ہتھیار اور ویسی ہی ٹیکنالوجی دی جانی چاہیے جو پرویز مشرف اپنی سیکیورٹی کے لئے استعمال کرتا ہے ۔

تبصرہ جات

“رینجر یا پولیس؟” پر 2 تبصرے کئے گئے ہیں
  1. آپ کا مشورہ صائب ہے مگر اس کو وہی سنے گا جس دوغلہ معیار نہیں‌ہوگا۔ ہماری حکومت اور معاشرہ سارے کا سارا دوغلے معیار کی بنیادوں پر کھڑا ہے۔ اگر آپ پرھے لکھے یا افسر یا بااثر ہیں تو آپ کو جیل میں اے یا بی کلاس ملے گی۔ عام آدمی بناں کلاس کے جیل میں‌سڑتا رہے گا۔ مس صدیقی کو قتل کرنے والے نے جیل جانے کے دو دن بعد ہی ہسپتال میں بستر لگا لیا اور دوسری طرف ایک وزیر کو قتل کرنےوالا عرصے سے جیل میں سڑ رہاہے۔
    حکومت چاہتی ہے کہ یہ بحران کچھ دن اسی طرح رہے تاکہ اسی دوران اے پی سی بھی ناکام ہوجائے، دنیا جنرل صاحب کی دہشت گردوں سے نپٹنے کی صلاحیت کا اعتراف کرلے اور ان کی نوکری اگلے سال کیلیے پکی ہوجائے۔ انہیں اپنی نوکری پکی کرنے کیلیے اگر ہزار جانوں کی قربانی بھی دینی پڑی تو وہ گریز نہیں‌کریں گے۔

  2. اجمل says:

    آپ نے صحیح لکھا ہے مگر بات وہی ہے کہ ہمارے ملک میم ہر کام ہڈ دھرمی اور طاقت سے کیا جاتا ہے اور اپنے سے کمزور انسان کو کیڑے مکوڑوں کی سی اہمیت بھی نہیں دی جاتی ۔ میرے بلاگ پر دیکھ لیجئے پڑھے لکھے لوگ اس قتلِ عام کو جائز قرار دے رہے ہیں ۔

تبصرہ کیجئے

اس بلاگ پر آپ کے تبصرہ کی حوصلہ افزائی کی جاتی ہے
اگر آپ اپنے تبصرہ کے ساتھ تصویر لگانا چاہتے ہیں، تو یہاں جا کر تصویر لگائیں ۔