جو سوچا نہ تھا ۔ ۔

Saturday,20 October 2007
از :  
زمرات : پاکستان, سیاست

بینظیر بُھٹو کی پاکستان واپسی سے هر شخص جِس کا پاکستان سے تعلق هے، باخبر رهنا چاهتا تھا۔ میں رات دیر تک استقبال کے لئے آنے والے لوگوں کے متعلق دیکھتا رہا، رات کیا بلکہ علیٰ الصبح تک، اُس وقت تک بینظیر کراچی اُتر چکی تھیں، اور لاکھوں لوگ اُن کے منتظر تھے۔ سب کچھ “ڈیل” کے مطابق لگ رہا تھا۔
اگلے دِن میں جاب پر چلا گیا، دوپہر کے بعد صرف اِس اشتیاق میں ریڈیو لگایا کہ مخترمہ نے اپنے خطاب میں کیا کہا ہے، اور اندوہناک حادثے کی خبر آ رہی تھی۔ پہلے سُن کر یقین نہیں ہو رہا تھا کہ کوئی ایسا بھی کر سکتا ہے، لیکن شائد اب اِس طرح کے حادثے معمول بن رہے ہیں ۔
مجھے سمجھ نہیں آتا کہ لوگوں میں برداشت کیوں ختم ہوتی جا رہی ہے، باقیوں کو چھوڑیں ہم بحثیت قوم ہی اتنے تفرقوں میں بٹ چکے ہیں کہ کسی بیرونی دُشمن کی ضرورت ہی نہیں۔ گھر کے بھیدی ہی لنکا ڈھا رہے ہیں، ہر کوئی اپنے آپ کو ہی عقلِ کُل سمجھ رہا ہے اور باقی سب گمراہ ہیں۔ بات چیت سے مسائل کے حل کا کلچر تو شائد بہت دُور ہے، میں ٹھیک ہوں باقی سب غلط ہیں، ہر کوئی اِسی خوش فہمی میں ہے۔
میں کبھی بھی بنیظیر کی گروہی سیاست کا حامی نہیں رہا، اور اُن کے دبئی سے دئے گئے بیان میں پنجابی اور سندھی وزیر اعظم کے بیان سے بہت سوں کے ساتھ میں بھی جُزبُر ہوا تھا، لیکن اَس حادثے کے بعد ایک دفعہ پھر پنجابی اور سندھی کارڈ کو ہوا ملے گی۔ باوجود اِس بات کے کہ جتنے پُورے سندھ کے مجموعی ووٹ ہیں، اُن سے زیادہ ووٹ بینظیر کو پنجاب میں مِلتے ہیں۔ میں اختلاف کے باوجود بینظیر کو قومی لیڈر سمجھتا ہوں اور اُن سے توقع رکھتا ہوں کہ وہ علاقائی مفادات سے بالا اقدامات کریں گی۔

تبصرہ جات

“جو سوچا نہ تھا ۔ ۔” پر 4 تبصرے کئے گئے ہیں
  1. بی بی سے سیاسی لگاؤ مجھے بھی نہیں!ہاں اس کے باپ کو میں بڑا لیڈر مانتا ہوں!
    حادثے کا علم مجھے بھی صبح

  2. ہی ہوا تھا کہ حادثہ رات 12 بجے ہوا تھا!
    رات کا وقت اور جلوس کی مزار قائد تک سفر کی سست روی مل؛ک دشمن عناصر کے لئے مددگار رہی!! بی بی واپسی جمہوریت کے لئے ممکن ہے اچھی ہو! مگر جمہور کے پرستاروں کو جان کی قربانی دینی پڑی ہے!

  3. بے نظیر کے ان بیانات سے اور اس کے بعد اس کے پرستاروں کی گفتگو سے مجھے آج بڑے عرصے بعد اور بڑی شدت سے یہ یاد آیا ہے کہ میں بھی ایک پنجابی ہوں.
    🙁

  4. بقلم تنویر عالم قاسمی
    پاکستان میں ایمرجنسی کے اسباب . . . . . کیا یہ صحیح ہیں ؟ ؟ ؟

    دنیا جانتی ہے کہ پاکستان کی بنیاد اسلام اور مسلمانوں کے نام پر رکھی گئی ہے، اس کا اصلی نام “ اسلامی جمہویہ پاکستان ،،ہے اس کی بنیاد میں ان بے گناہ لاکھوں مسلمانوں کا خون شامل ہے جو تقسیم ہند کے وقت فرقہ وارانہ فسادات کا شکار ہوے تھے۔ ہماری گذشتہ نسل نے اپنے جگر کے ٹکڑوں ، گھر اور اپنے اثاثوں کے درمیان ایک لکیر کھینچتے ہوے خاموشی سے دیکھی تھی ، اپنے ہی جسم کو بوٹیوں میں بٹنے کی تکلیف برداشت کی سرحد کے آر پار تقسیم کا خونی منظر اسلئے دیکھا کیوں کہ وہ سمجھتے کہ پاکستان کی شکل میں ایک ایسا ملک وجود میں آنے والا ہے جو اسلامی قوانین ، شریعت محمدی ، اور آئین خدا وندی کا نفاذ کرکے دنیا کے سامنے ایک ایسی مملکت کا خاکہ پیش کریگاجس میں صرف اور صرف اسلام ہوگا، اسلام کی جھلک ہوگی ، ساری دنیا میں ایک انمول نمونہ بنے گا اور اسلام کی ایک نئی اور خوشنما تاریخ مرتب ہوگی۔ انہیں امیدوں کے سہارے اپنی بسی بسائی دنیا اپنے ہی ہاتھوں سے اجاڑ کر اپنے خوابیدہ وطن پاکستان پہنچ گئے، وہ یہ سوچ رہے تھے کہ اب ہمیشہ کی فرقہ وارانہ کشیدگی ،آپسی اختلافات اور خون خرابے سے نجات مل جائے گی لیکن پا کستا ن کی 60 سالہ تاریخ شاہد ہے کہ ایسا کچھ نہیں ہوا۔
    پا کستان پہنچنے پر معاملہ اس کے برعکس تھا اب وہ ایک مسلمان ہی نہیں تھے بلکہ کہیں وہ بنگالی مسلم تھے ،کہیں سندھی ،کہیں پنجابی ،کہیں پختون ،اور کہیں مہاجر۔
    ہندوستان سے زخم کھاکرجانے والوں کا زخم مندمل ہونے کی بجائے اور زیادہ تازہ ہوگیا اسی زخم کو ناسور بنایا پاکستان کی مطلق العنان فوج اور وہاں کی کرسی کے بھوکے سیاسی آمروں نے، جس کی وجہ سے آج تک وہاں کی عوام نے نہ تو اسلامی نظام ہی دیکھا اور نہ ہی اصلی جمہوریت کا کھل کر مزہ لیا، فوجی جرنلوں اور سیاسی آمروں نے پاکستان کی عوام کو ہمیشہ اسلام اور اسلامی جمہوریت کے نام پرگمراہ کیا،فوج ہو یا عوامی رہنما سب نے ہی پاکستان کو اپنے سیاسی مقاصد کی تکمیل کے لئے استعمال کیا اور بعد میں چبائی ہوی ہڈی کی طرح پھینک دیا،اسی کی ایک جھلک گذشتہ چند دنوں سے جنرل پرویز مشرف کی طرف سے لگائی گئی ایمرجنسی کا اعلان ہے۔
    بہر حال یہ تو پاکستان کا داخلی معاملہ ہے جس پر ہمیں کچھ کہنے کی زیادہ گنجائش نہیں ، لیکن سردست پرویزمشرف کے اس فیصلہ سے مسلمانوں کو جو تکلیف پہنچی ہے وہ یہ ہے کہ مشرف نے اپنے حکم اورفیصلہ میں نفاذ ایمرجنسی کے اسباب میں سے ایک اہم اور خاص سبب“ اسلامی دہشت گردی “بتایا ہے، اس طرح مشرف نے اسلام مخالف قوتوں اور خصوصا امریکہ اور ہندوستان کی بدنام زمانہ گروہوں R.S.S، بجرنگ دل اور شیوسینکوں جیسی مکروہ ذہن رکھنے والی گروہوں کو جو پہلے ہی سے اسلام اور مسلمانوں کے خلاف بر سر پیکار ہیں ایک قوی سند اور دلیل پیش فراہم کردیا۔
    اس وقت جو تشویش ناک امر ہے وہ یہ ہے کہ اسلام مخالف قوتیں جو ہمیشہ سے دہشت گردی کو اسلام کے ساتھ جوڑنے کی ناپاک کوششیں کررہی ہیں ، ایک مضبوط مسلم ملک کے سر براہ کے ذریعہ دہشت گردی کے خلاف لئے گئے فیصلہ میں “ اسلامی دہشت گردی “ کے الفاظ استعمال کرانے میں یہ اسلام مخالف طاقتیں کامیاب ہوگئیں اور گویا ان طاقتوں نے ایک طرح سے مسلم ملک کے حکمراں کی باضابطہ اپنے نظریہ کی حمایت قانونی اور دستوری طورپرحاصل کرلی ، پاکستان کے صدر کیزبان و عمل اس بات کی نشاندہی کرتا ھے کہ جنرل پرویز مشرف نظریاتی اورعملی طورپرامریکہ کے دام فریب میں گرفتار ہوگیا ہے۔
    پرویز مشرف نے اپنے فیصلہ میں دہشت گردی کو اسلام کے ساتھ جوڑ کر ایک تاریخی غلطی کی ہے جس کے لئے پرویزمشرف کو مسلمانان عالم سے معافی مانگنی چاہئے ، دہشت گردی کے ساتھ “ اسلام“ کے لفظ کا استعمال استعمال کرکے پرویز مشرف نے مسلمانان عالم کو سخت ایذا پہنچائی ہے اگر وہ ایسا نہیں کرتے ہیں تو ان کا یہ عمل مسلمانان عالم کے نزدیک ہمیشہ اسلام مخالف تصور کیا جاتا رہیگا اور ان کی تاریخ حیات میں یہ فیصلہ ایسے سیاہ فیصلہ کی شکل میں درج ہوگا جس کی تلافی ممکن نہیں ہوگی۔
    tanveeralamqasmi@yahoo.co.in
    Address: http://www.inikah.com
    Address:# 42 , Nandi Durga Road ,Bangalore-46 India
    Mob:919945631954

تبصرہ کیجئے

اس بلاگ پر آپ کے تبصرہ کی حوصلہ افزائی کی جاتی ہے
اگر آپ اپنے تبصرہ کے ساتھ تصویر لگانا چاہتے ہیں، تو یہاں جا کر تصویر لگائیں ۔