اور ڈیل ہو گئی۔

Thursday,3 May 2007
از :  
زمرات : پاکستان, سیاست

آج کل پاکستان میں “ڈیل” کا دور دورہ ہے، جِن کی ڈیل ہو گئی ہے اُن کے لئے راوی اب چین ہی چین لکھتا ہے۔ اور جن کی ڈیل نہیں ہوئی وہ اِسی جُستجو میں لگے ہیں کہ کِس کی ڈیل ہو رہی ہے، اور اِس انتظار میں ہیں کہ اب اونٹ کس کروٹ بیٹھے گا۔ اِس ڈیل کے دور دورہ میں اگر ہم پاکستانی اخبارات میں لکھنے والے دانشوروں کی تحریریں پڑھیں تو وہ بھی میزوں پر بیٹھے ہوئے لوگوں کی باتیں ہی لکھنے میں مصروف ہیں، اور اِس بات پر سبھی متفق ہیں کہ وہی وزیرِ اعظم بنے گا ، جِسے صدرِ پاکستان چاہیں گے اور جس کا فیصلہ کہیں کونے کھدرے میں پڑے کسی میز پر بیٹھ کر ہو گا۔ اگر یہی جمہوریت ہے جِس میں جمہور کا عمل دخل نہیں ہے، تو انتخابات کروانے کی کیا ضرورت ہے۔
امریکہ میں الیکشن کے نزدیکی دِنوں میں مختلف ادارے اور اخبارات عوامی سروے کرنا شروع کر دیتے ہیں، اور اُن سروے کی بُنیاد پر ایک رائے قائم کی جاتی ہے کہ اِس دفعہ عوام کا رُجحان فلاں پارٹی یا فلاں اُمیدوار کی جانب زیادہ ہے ۔ جبکہ ہمارے ہاں اِس انتخابات کے ڈرامے میں عوام ہی کی رائے ہی معلوم نہیں کی گئی، کسی ایک اخبار اور ادارے نے اِس بات کی ضرورت محسوس نہیں کی کہ باہر نکل کر اُن لوگوں سے بھی پوچھ لیا جائے، جن کے بارے میں ٹھنڈے کمروں میں بیٹھ کر فیصلہ کیا جا رہا ہے۔ اور ماشااللہ عوام بھی اتنی صابر اور شاکر کہ کسی کو کوئی پرواہ نہیں۔
عوام کو اِس بات کا ادراک ہی نہیں ہے کہ جمہوریت میں سب سے زیادہ طاقت صدرِ پاکستان کے پاس نہیں بلکہ اُن کے پاس ہے، اِس کی بجائے وہ بھی اِس بات پر بحث کر رہے ہوتے ہیں کہ اب ڈیل اُس کے ساتھ ہو گئی ہے اور اب ڈیل فلاں کے ساتھ اور وہی وزیرِ اعظم بنے گا۔
یہ بھی صرف پاکستان میں ہے کہ انتخابات سے پہلے ہی پتہ لگ جاتا ہے کہ کون اگلا وزیرِ اعظم ہے۔ دُنیا ایویں کہتی ہے کہ پاکستان میں ترقی نہیں ہے کم از کم اِس بارے میں پاکستان کے پاس ایسی ٹیکنالوجی آ گئی ہے کہ مستقبل کا وزیرِ اعظم کون ہے بتا سکتے ہیں ۔ کیا دُنیا میں کسی اور مُلک کے پاس بھی ایسی ٹیکنالوجی موجود ہے؟

تبصرہ جات

“اور ڈیل ہو گئی۔” پر 2 تبصرے کئے گئے ہیں
  1. بدتمیز says:

    ہاہاہا
    امریکہ میں انتخابات کے بارے میں تفصیل سے لکھیں. میں‌ لکھنا تو چاہتا ہوں لیکن ابھی تک معلومات نامکمل ہیں آپ تو ایک صدرارتی انتخاب بھگت چکے ہیں آپ کو تو سب معلوم ہو گا.
    پاکستان میں عوام کا قصور نہیں ان کو پیٹ کی فکر سے فرصت ملے تو کچھ اور سوچیں.

  2. اجمل says:

    ہمارے لوگ دل سے امریکہ کو اپنا بادشاہ مانتے ہیں ۔ اسلئے جو امیدوار امریکہ کا نام لے وہ عام طور پر جیت جاتا ہے ۔ اس کے علاوہ جو الیکشن کے دنوں میں کھلائے پلائے اس کو بھی ووٹ زیادہ ملتے ہیں ۔ اس تمام نقص کے ساتھ دھونس اور دھاندلی بھی کام کرتی ہے ۔ شریف یا کمزور دل لوگ دھونس سے ڈر کر غلط آدمی کو ووٹ دیتے ہیں ۔

    دھاندلی کئی قسم کی ہے ۔ ووٹ ڈالنے کی جگہ کا انتخاب بھی دھاندلی سے کیا جاتا ہے ۔ اگر ووٹر کا دشمن کوئی نہ ہو تو جعلی ووٹ بآسانی ڈالے جا سکتے ہیں ۔ جب میں سٹوڈنٹ تھا اور میرا ووٹ بھی نہ تھا تو سوجھی کہ دیکھا جائے جعلی ووٹ پڑتے ہیں یا نہیں ۔ میں نے اپنے علاقہ سے دُور دو علاقوں میں بڑے آرام سے قطار میں لگ کر ووٹ ڈالا ۔

    دھاندلی کا ایک اور طریقہ بھی عام ہے جس میں سرکاری نمائندے خود ہی مہریں لگا کر ووٹ ڈال دیتے ہیں ۔ یہ کوئی سنی سنائی بات نہیں حقیقت ہے

    ان حالات کے تحت جمہوریت کیسے آ سکتی ہے ۔

تبصرہ کیجئے

اس بلاگ پر آپ کے تبصرہ کی حوصلہ افزائی کی جاتی ہے
اگر آپ اپنے تبصرہ کے ساتھ تصویر لگانا چاہتے ہیں، تو یہاں جا کر تصویر لگائیں ۔