Because I'm black

Thursday,5 July 2007
از :  
زمرات : پاکستان, مذہب, سیاست

امریکہ (نیویارک) میں اگر آپ کا واسطہ پبلک ڈیلنگ والی نوکری سے ہو تو ایک جملہ گاہے بگاہے آپ کو سُننا پڑھ سکتا ہے “Because I’m Black”، عموماً یہ جملہ اُس وقت بولا جاتا ہے جب بولنے والا اپنے آپ کو ہر طرف سے چِت سمجھتا ہے اور آخری حربے کے طور پر یہ نسلی جملہ استعمال کرتے ہیں کہ شائد جزباتی بلیک میلنگ سے کچھ کام بن پڑے ۔
اب اسی جملے کو ترقی یافتہ شکل میں کچھ جرائم پیشہ عناصر اپنے جرائم پر پردہ ڈالنے کے لئے اُسے نسلی رنگ دے دیتے ہیں، اس کے بعد حقوق انسانی اور نسلی بنیادوں پر بنی تنظمیں آگے آ کر اِسے اور ہوا دیتی ہیں، اور جِس جرم کی وجہ اُن مجرموں پر ہاتھ ڈالا جاتا ہے وہ میڈیا اور بحثوں میں ثانونی حثیت اختیار کر لیتا ہے۔ سب جرم کو بھول کر اس بات پر بحث کرنے لگ جاتے ہیں کہ “Because i’m black” .ملزموں کے دفاع میں ریلیاں بھی نکال لی جاتی ہیں۔
لیکن ایسا شاید پوری دُنیا میں ہوتا ہے طریقے مختلف ہو سکتے ہیں، لیکن مقصد ایک ہی ہے کہ نہ صرف اپنے جُرم پر پردہ ڈالا جائے بلکہ نازک موضوع کو سامنے لا کر لوگوں کی ہمدردیاں بھی سمیٹی جائیں۔
اسلام آباد میں پچھلے چھ مہینے سے لال مسجد کی انتظامیہ جو کچھ کر رہی تھی وہ بھی ایک ایسی ہی بھونڈی کوشش تھی اور خود دیکھ لیں کہ بہت سے افراد اس قضیے کو یوں دیکھ رہے تھے جیسے یہ معرکہ حق و باطل ہو، جیسے لال مسجد کی فتح سے اسلام کا احیاء ہو گا۔ میرے اپنے خیال میں بھی یہ معرکہ حق و باطل ہی تھا البتہ لال مسجد کی انتظامیہ میرے نزدیک باطل قوت تھی، جس کی ہٹ دھرمی کی وجہ سے کئی جانوں کا ضیاع ہوا ہے ۔ اغواء چاہے کوئی بھی کرے کسی “نیک مقصد” کے لئے ہی کیوں نہ کرے وہ قانون کی نظر میں کسی کی آزادی سلب کرنا ہی کہلائے گا جب تک کہ آپ کوئی قانون نافذ کرنے والا ادارہ نہیں ہوں ۔ لال مسجد کے اغواء کرنے سے وہ کوئی “پاک اغواء” نہیں بن جائے گا۔
امریکہ میں اور پاکستان میں ایک فرق یہ بھی ہے کہ امریکہ میں ادارے مضبوط ہیں اور ان سب باتوں کے باوجود بھی لوگوں کو یقین ہوتا ہے کہ عدالتوں میں انصاف ہو گا۔ خدا کے لئے پاکستان میں اداروں کو مضبوط ہونے دیں، تا کہ کل کو کوئی فرد واحد نا پرویز مشرف بنے نا ہی کوئی غازی مسجد سے قانون نافذ کرے۔
ناانصافی صرف یہی نہیں ہوتی کہ کسی کا حق مار لیا جائے، کسی کی ناانصافی پر آنکھیں بند کئے اس کی تائید کرنا اُس سے بھی بڑی ناانصافی ہے۔ ہمیں جُرم کو ایک جرم کی طرح دیکھنے کی عادت ڈال لینی چاہیے نا کہ یہ دیکھنے کی کہ جرم کیا کس نے ہے اور اُس کے بعد فیصلہ کیا جائے اب کیا کرنا چاہیے۔

تبصرہ جات

“Because I'm black” پر 3 تبصرے کئے گئے ہیں
  1. اجمل says:

    آپ نے لکھا ہے ۔

    امریکہ میں اور پاکستان میں ایک فرق یہ بھی ہے کہ امریکہ میں ادارے مضبوط ہیں اور ان سب باتوں کے باوجود بھی لوگوں کو یقین ہوتا ہے کہ عدالتوں میں انصاف ہو گا۔

    اگر اسی بنیاد پر آپ لال مسجد کے واقع کا تجزیہ کرتے تو بات واضح ہو جاتی ۔ لال مسجد والوں نے جو کچھ کیا یا جو کچھ ان کے نام سے منسوب ہے اس کی بنیادی وجہ یہی ہے کہ پاکستان میں اداروں کے پاس کو ئی اختیار نہیں ۔ اختیار صرف پرویز مشرف کے پاس ہے جو اپنی انتہائی خودغرضی کی وجہ سے پاکستانی عوام کو زچ کرنے پر تُلا ہوا ہے ۔ دوسری وجہ عوام کیلئے انصاف کا نہ ہونا ہے ۔

  2. جی انکل اور یہ سب کچھ ایسے ہی نہیں ہو گیا، امریکی تاریخ میں بھی ایک وقت میں ایسے مجرموں نے اکثریت حاصل کر لی تھی جو سوا گوروں کے اس ملک میں کسی کا وجود برداشت نہیں کرنا چاہتے تھے، اور حیرت انگیز طور پر وہ بھی عیسائیت کے متشدد پیروکار تھے، لیکن لوگوں نے جب مجرموں کا ساتھ دینا بند کر دیا تو قانون سازی ہوتی گئی اور اداروں کو فروغ ملنا شروع ہوا.

تبصرہ کیجئے

اس بلاگ پر آپ کے تبصرہ کی حوصلہ افزائی کی جاتی ہے
اگر آپ اپنے تبصرہ کے ساتھ تصویر لگانا چاہتے ہیں، تو یہاں جا کر تصویر لگائیں ۔