الیکشن ۲۰۰۸

Saturday,7 April 2007
از :  
زمرات : نیو یارک, امریکہ, سیاست

election2008
امریکہ میں ۲۰۰۸ کے انتخابات کا ہلا گُلا شروع ہو چکا ہے۔ عوامی جائزوں کے مطابق فی الحال ڈیموکریٹس کا پلہ بھاری نظر آ رہا ہے، لیکن دونوں بڑی پارٹیوں کے اندر بھی " کون بنے گا اگلا صدر؟" نامی پروگرام زور و شور سے جاری ہے ۔ سینیٹر ہیلری کلنٹن اور سینٹر بُراک اوبامہ ڈیوکریٹس کی جانب سے صدارتی دوڑ میں شامل ہیں ۔ ہماری طرح امریکہ میں بھی سیاست پیسے پر انحصار کرتی ہے، لیکن ہمارے ہاں یہ پیسہ امیدوار کی جیب میں ہونا چاہیے اور امریکہ میں امیدوار کو پارٹی فنڈ اکھٹا کرنا ہوتے ہیں، یعنی اگلا اُمیدوار وہی ہو گا جو زیادہ فنڈ ریز کرے گا۔ فی الحال ہیلری کلنٹن اِس دوڑ میں سب کو پیچھے چھوڑتی نظر آتی ہیں ۔ اِس بات سے قطع نظر کہ ڈیموکریٹس کی جانب سے ہیلری یا اوبامہ کون صدارتی امیدوار بنتا ہے یہ الیکشن اِس لحاظ سے اہم ہیں کہ اگر ڈیموکریٹس جیت گئے تو خود امریکہ کے لئے ایک تاریخی لمحہ ہو گا۔ پہلی بار یا تو امریکی صدر خاتون ہو گی، نہیں تو ایک افریقن نژاد اوبامہ۔ لیکن یہاں پر کچھ حلقے اِس بحث میں بھی لگے ہوئے ہیں کہ آیا ایک خاتون کمانڈر اِن چیف کی خدمات بہتر طور پر سر انجام دینے کی اہل ہو گی بھی یا نہیں، دُوسرے لفظوں میں کیا امریکہ ایک خاتون صدر کے لئے تیار ہے یا نہیں۔ دُوسری طرف بُراک اوبامہ کے ساتھ دُوسرا ہی مسلہ درپیش ہے، بُراک اوبامہ کا مکمل نام بُراک حُسین اوبامہ ہے، اُن کے والد کنیا سے تعلق رکھتے ہیں اور اُن کی والدہ نے اُن کے والد سے علیحدگی کے بعد ایک انڈونیشائی سے شادی کی تھی اور اُوبامہ کا بچپن کا کچھ عرصہ اور ابتدائی تعلیم بھی جکارتہ سے حاصل کی ہے ۔ کچھ حلقے اگر کُھلم کُھلا اُن کی افریقی نسل کو نشانہ نہیں بنا سکتے کیوں کہ ایسا کرنا قانون کے خلاف ہے تو اُن کے نام میں اُلجھے ہوئے ہیں۔ لیکن اِس کے باوصف بھی بُراک اوبامہ بہت تیزی سے سیاسی اُفق پر سامنے آئے ہیں ۔ اِس وقت امریکی سینٹ میں وہ واحد افریقی نژاد سینیٹر ہیں اور عراق جنگ کے بعد اپنے خیالات کی بدولت لوگوں میں انہوں نے بہت مقبولیت حاصل کی ہے، پھر بھی میرے خیال میں ابھی اوبامہ کا وقت بہت دُور ہے ۔

اب ریپبلکن کی طرف دیکھیں تو دونوں متوقع اُمیدوار بھی کم نہیں ہیں، ایک ہیں سینٹر جان مکین اور اُن کے مدِمقابل ہیں نیویارک کے سابقہ میئر روڈی جولیانی۔ اگر جان مکین صدارتی انتخابات کے لئے چُن لئے جاتے ہیں اور کامیاب ہو جاتے ہیں تو وہ امریکی تاریخ میں سب سے باعُمر صدر ہوں گے ۔ اِس وقت اُن کی عُمر ۷۰ سال ہے، دوسرے لفظوں میں یہ انتخابات ہر لحاظ سے تاریخی ہیں۔ جان مکین ایک سابقہ فوجی ہیں اور ویت نام کی جنگ کے دوران انہوں نے بہت عرصہ ایک جنگی قیدی کی حثیت سے گُزارا ہے۔ جان مکین معتدل ریپبلکن میں شُمار ہوتے ہیں ۔ جان مکین کے کُچھ خیالات پر اُنہیں اُن کی پارٹی میں ہی دُشواریوں کا سامنا ہے جیسے ہم جنس پرستوں کے حقوق اور ابھی پچھلے سال آپ لوگوں نے شائد امریکہ میں غیرقانونی مقیم افراد کے مظاہروں کے بارے میں سُنا یا دیکھا ہو گا، جو قانونی درجہ دئے جانے کے لئے کئے گئے تھے، اُس کا محرک بھی جان مکین کا پیش کردہ گیسٹ ورکر پروگرام تھا جِس میں غیرقانونی افراد کو قانونی درجہ دئے جانے کی سفارش کی گئی تھی اور اس میں مکین کو اپنی ہی پارٹی کی طرف سے مخالفت کا سامنا کرنا پڑا تھا، اِس کے علاوہ جان مکین صدر بُش کے ٹیکس کٹس کے بھی مخالف ہیں ۔ لیکن عراق جنگ کے بارے میں اُن کے حالیہ خیالات نے بہت حد تک عوامی مقبولیت میں کمی کر دی ہے جِس میں جان مکین نے عراق جنگ کی نا صرف حمایت کی ہے بلکہ اُسے جاری رکھنے کا عندیہ بھی دیا ہے جبکہ اِس وقت رائے عامہ عراق سے افواج کا فوراً انخلا چاہتی ہے۔ میرے خیال میں اگر جان مکین کو ریپبلکن پارٹی امیدور نامزد کرتے ہیں تو ڈیموکریٹس یہ الیکشن آسانی سے جیت جائیں گے۔ ایک اُن کا age factor دُوسرا ہم جنسی کے بارے میں خیالات اُنہیں جنوبی امریکہ میں نا مقبول بنا دیتے ہیں ۔ روڈی جولیانی ۔ نیو یارک اُنہیں کبھی نہیں بُھولا، جولیانی کی شہرت ایک tough guy اور فیصلہ کُن شخصیت کی ہے، اگر آپ ۱۹۹۴ سے پہلے کے بارے میں نیویارک کے بارے میں پڑھیں تو ایسی گیٹو مضافات کا نقشہ مِلتا ہے جس میں ہر طرح کا جُرم عروج پر تھا، نیویارک کا علاقہ ہارلم پوری دُنیا میں جرائم کے بدنام تھا اور اُسی شہر کو جولیانی نے امریکہ کو سب سے محفوظ شہر بنا دیا، اِس کے لئے پولیس کو بے انتہا اختیارات نہ صرف دئے بلکہ پولیس کی ہر ممکن پُشت پناہی کی جِس کی وجہ بعض لوگ اُنہیں تنقید کا نشانہ بناتے ہیں لیکن ایک عام نیویارکر ہمیشہ جولیانی کو پسند کی نگاہ سے دیکھتا ہے، جولیانی کو ورلڈ ٹریڈ سینٹر پر حملے کے بعد اُن کے کردار کی وجہ سے نا صرف پُورے امریکہ بلکہ دُنیا بھر میں شہرت مِلی، اور ۲۰۰۱ میں اُنہیں سال کی شخصیت قرار دیا گیا، دُوسرے لفظوں میں جولیانی نیویارک کا نصیر اللہ بابر ہے فرق صرف ماورائے عدالت ہلاکتوں کا ہے ۔ جولیانی کی زندگی بھی انتہائی دلچسپ ہے وہ خود ابتداء میں جرم کی دُنیا کے باسی تھے جنہوں نے اپنے آپ میں مثبت تبدیلیاں لے کر آئے۔ جولیانی مشکل فیصلے کرنے سے نہیں گبھراتے اور اُن کی شہرت ایسے فیصلوں پر قائم رہنے کی بھی ہے ۔ خیر اگر ڈیموکریٹس ہیلری کلنٹن کو اور ری پبلکن روڈی جولیانی کو صدارتی اُمیدوار بناتے ہیں تو انتہائی کانٹے دار صدارتی الیکشن کی توقع ہے،

متعلقہ روابط :

سینٹر جان مکین کا الیکشن کا صحفہ۔

روڈی جولیانی کا الیکشن کا صحفہ

سینیٹر ہیلری کلنٹن کا الیکشن کا صحفہ۔

سینٹر براک اوبامہ کا صحفہ


تبصرہ کیجئے

اس بلاگ پر آپ کے تبصرہ کی حوصلہ افزائی کی جاتی ہے
اگر آپ اپنے تبصرہ کے ساتھ تصویر لگانا چاہتے ہیں، تو یہاں جا کر تصویر لگائیں ۔