سب ملاء کا قصور ہے۔

Tuesday,21 February 2006
از :  
زمرات : پاکستان, مذہب, سیاست

ھمارے ملک ميں آج کل دو گروہوں کي موجودگي کا احساس ہر جگہ پر محسوس کيا جا سکتا ہے، چاہے وہ اخبار ہوں يا کوئي بھي مباحثہ ان کا اخير ايک دوسرے پر الزامات لگا کر ہوتا ہے، اور ان مباحث کي وجہ سے نفرتوں کي ايسي خليج بنتي جا رہي ہے کہ کچھ سمجھ نہيں آتا اس کا خاتمہ کہاں پر ہوگا، اِن ميں سے ايک گروہ تو دنيا بھر ميں دہشت گرد کے نام سے جانا جاتا ہے، جن کے پاس ہر بات کا ايک ہي حل ہے مار دو، جلا دو اور افسوس اس بات کا ہے کہ ايسا کرنے والے نام مذہب کا استعمال کرتے ہيں اور اپنے ان گھناؤني کاموں کو جہاد کے اور مذہب کي خدمت کے لبادے ميں چھپا کر سادہ لوح عوام کو بے وقوف بناتے ہيں، ايسے لوگوں سے کسي بھي مسلہ پر بات کريں، چاہے وہ عوام کي غربت کا ہو، بے روزگاري کا ہو، امن و عامہ کا مسلہ ہو ہر مسلہ کے پيچھے انہيں چند مخصوص ہاتھ نظر آتے ہيں اور اسکا ايک ہي حل ہے جہاد بالسيف۔۔ اور ميرا پختہ يقين ہے ( يقين کي وجہ ميں اسي معاشرے ميں پلا بڑھا ہوں ) ايسے صرف چند مٹھي بھر عناصر ہيں جو بے قصور اور معصوم انسانوں کي اس طرح جان لينے کو جہاد سمجھتے ہيں۔
اب اسي گروہ کے متوازي مگر الٹ سمت ميں ايک اور گروہ ہے جو اپنے نظريات ميں اتنا ہي انتہا پسند ہے جتنا کہ مذہبي انتہا پسند (مذہبي بنياد پرست نہيں), ان کے مطابق ہر مسلہ پاکستان ميں بالخصوص اور دنيا ميں بالعموم ملاء کي کارستاني ہے، ان ميں پاکستان ميں مارشل لاء لگے ،قتل ،لوگوں کي اخلاقي گراوٹ، ذات برادري کے جھگڑے، کسي پنچائت کا کوئي غلط فيصلہ سب کے پشت پناہ ملاء ہيں، اور پاکستان اس وقت تک ترقي نہيں کر سکتا جب تک ملاء کو کھڈے لائن نا لگا ديا جائے۔ اور دکھ کي بات يہ ہے اس گروہ ميں زيادہ تر ہمارے پڑھے لکھے يا نام نہاد ڈگري ہولڈر شامل ہيں۔
ايک دفعہ ميں جنگ کے فورم پر گيا وہاں کسي بات پر جس کا اسلام سے کوئي تعلق نہيں تھا ميں يہي تکرار بار بار پڑھ کر بد مزہ ہو گيا، ملاء کو ہٹاؤ، ملاء کي وجہ سے، مگر ملاء کو کس جگہ سے ہٹايا جائے؟ ايک تو ہم نے اس طبقے کو ويسے ہي تحقير کا باعث بنايا ہوا ہے اپنے اعمال سے اب طعنے دے کر بالکل ہي ايک الگ صورتحال ہے، حالت يہ ہے کہ لوگ مدرسوں ميں پڑھنے والے طالب علموں کي حوصلہ افزائي کے ان کي دلشکني کا باعث بنتے ہيں۔۔
مذہب کو ہم لوگوں نے عملي طور پر کب سے زندگيوں سے نکال ديا ہوا ہے صرف زباني کلامي ہي مذہب کي بات کي جاتي ہے آج جو پانچ وقت نماز پڑھ ليتا ہے اور چھ کلمے سنا ليتا ہے وہ سب سے بڑا مسلمان ہے، چاہے اس کا عمل دين کے کتنا ہي الٹ کيوں نا ہو، جب وہ کسي جرم کا ارتکاب کر لے تو کہنے والے اس کي کوئي اور بات ديکھيں نا ديکھيں مسجد جانے کا طعنہ ضرور ماريں گے، يہ جو دہشت گرد ہم خودکش حملوں ميں تيار کر رہے ہيں يہ دين کو نہ جاننے کي وجہ سے ہی ہيں اس پر مستزاد ہم طنز کر کے جو دين سيکھ رہے ہيں ان کو بھي بدظن کر رہے ہيں۔
ہمارے معاشرے ميں ايک ملاء کا کتنا کردار ہے؟ پاکستان ميں ٦٠ في صد سے زيادہ آبادي ديہات ميں رہتي ہے ميں خود گاؤں کا رہنے والا ہوں، ايک مولوی کي اتني ہي عزت ہے ہمارے معاشرے ميں کہ وہ نماز پڑھاتا ہے، نہ ہي اس کي رائے کوئي سنتا ہے نا اس کے کہے پر کوئي عمل کرتا ہے سب اپني ذات برادري کے چکر ميں پڑے ہيں اسلام صرف وہيں استعمال ہوتا ہے جہاں کسي کو اس ميں فائدہ نظر آتا ہے، ليکن اگر اپني ميں اونچي رکھنے کے چکر ميں اس علاقے ميں کوئي حادثہ پيش آ جائے تو مولوی کا نام آ جاتا ہے کہ اس کے اکسانے پر ايسا ہوا، وہ مولوی جو عيد کي نماز کا وقت بھي چودھريوں سے پوچھ کر بتاتا ہے اس کي باتوں کے اکسانے ميں کون آئے گا؟ اگر ہم ايسا سمجھتے ہيں کہ دين کو چند لوگوں نے ہائي جيک کر رکھا ہے اور لوگ ان کي باتوں ميں آتے ہيں تو ہميں ايسي باتوں کي دلشکني کرني چاہيے ہے جس سے دين کا علم حاصل کرنے والوں کي دلشکني ہو کيونکہ اگر ہم ايسا نہيں کريں گے تو وہ طبقہ لوگوں کو ديني کم علمي کي وجہ سے اور بے وقوف بنائے گا۔

تبصرہ جات

“سب ملاء کا قصور ہے۔” پر 9 تبصرے کئے گئے ہیں
  1. اجمل says:

    بہت خُوب ۔ ڈر ہے کہ آج کے آزاد خیال آپ پر اِنتہا پسندی یا جاہلیت کا لیبل نہ لگا دیں ۔

  2. WiseSabre says:

    I agree with you.

    Our only problem is illiteracy.

    + few days ago our teacher told that when she was interviewed ,she was asked why is she taking teaching profession.

    She told that because she couldnt get job anywhere else

    same is the problem with out Maluvi.

  3. MUHAMMAD IMRAN TARIQ says:

    مناسب بات

  4. شعیب صفدر says:

    مولوی!!!!! میں اس پر لکھنے والا تھا مگر اب نہیں لکھو گا…. عام دیکھنے میں آیا ہے کہ ہمارے گھرانوں میں جو بچہ سب سے نالائق ہوتا ہے جس سے میٹرک نہیں ہوتا ہم اسے مولوی بنا دیتے ہیں دوسرا عام رجحان یہ ہے کہ ہم دینی مسائل کا حل محلے کے مولوی کے پاس چلے جاتے ہیں جو صرف نماز کی امامت کے بارے یا اس سے کچھ ذیادہ یعنی چند بنیادی باتوں کا علم رکھتا ہے اس سے ذیادہ نہیں،ہم مولوی اور حافظ قران کو عالم سمجھتے ہیں…….. ہر ایک کا اپنا مقام ہے جب ایک کو دوسرے کی جگہ نہ بٹھایا جائے….. اچھی تحریر ہے!

  5. جہانزيب says:

    انکل اجمل، مجھے اس بات کا کبھی کوئی خوں محسوس نہيں ہوا ہے کہ دوسرے کيا سوچتے ہيں، ہاں البتہ دلائل سے ميں بات ضرور سنتا اور مانتا ہوں،

    ثاقب يھی تو مسلہ ہے اور ہمارے ہاں جو تعليم حاصل کی بھی جا رہی ہے وہ علم حاصل کرنے کے لئے کم اور اچھی نوکری حاصل کرنے کے لئے زيادہ حاصل کی جاتی ہے،
    عمران طارق صاحب شکريہ اور اردو بلاگنگ کی دنيا ميں خوش آمديد

    شعيب آپ ضرور لکھيں کيونکہ ضروري نہيں جو بات آپ زيادہ موزوں انداز ميں کريں شايد ميں يہاں اپنا مافیالضمير صيح طور کہہ نہيں پايا۔۔

  6. Attiq-ur-Rehman says:

    کسی کا قول ہے “ زوال پذیر قوم کی علامت یہ ہے کہ مشکل وقت میں لوگ ایک دوسرے کو قصور وار ٹھہرا کر اپنے آپ کو بری الذمہ سمجھنے لگتے ہیں“ ۔ ہمارا حال بھی کچھ مختلف نہیں ہے۔ ہم ہر مسئلے کی جڑ مولوی کو سمجھتے ہیں۔ اور مذہبی تعلیم ہماری اتنی ہے کہ بچے کے کان میں اذان دینے سے لے کر جنازہ پڑھانے اور پھر چہلم تک ہم مولوی کے محتاج ہیں ۔ بہر حال آپ کی یہ تحریر متوازن سوچ کی آئینہ دار ہے۔

  7. Anonymous says:

    right nip…lakin iuss ka koi solution tu hona chahiyea.pakistan ka kiya future ho ga?

    lalah

  8. Noumaan says:

    اگر یہاں موجود ہمارے دوسرے چھ تبصرہ نگار اس بات پر متفق ہیں کہ مولوی بے چارہ بے قصور ہے (میں خود یہی سمجھتا ہوں) تو پھر وہ کون لوگ ہیں جو مولوی کو قصوروار ٹہراتے ہیں؟ جہانزیب جن لوگوں کو آپ آزادخیال قراردے رہے ہیں وہ مولوی کو اتنی اہم شخصیت نہیں سمجھتے کہ اسے قصوروار قراردیں۔ مولویوں کی اور مذہبی رہنماؤں کی ایک پوری تاریخ ہے کہ کس کس طرح انہوں نے تاریخ کے مختلف ادوار میں حکمرانوں کے ہاتھ مضبوط کئیے ہیں۔ یہ تو بے چارے کھلونا ہیں جن سے جب سے پرستش کا آغاز ہوا ہے تب سے طاقتور لوگ کھیل رہے ہیں۔ مصر کے فرعوں ہوں یا یونانی فرمانروا، یورپ کے گرجے ہوں یا پاکستان کی مساجد۔ یہ سلسلہ تو بہت پرانا ہے اور یونہی چلے گا۔ میں آپ کی اس بات سے بھی متفق نہیں ہوں کہ پاکستان میں مولوی کی تحقیر کی جاتی ہے۔ نہ ہی میں شعیب کی اس بات سے متفق ہوں کہ سب سے گھامڑ بچے کو تحصیل علوم دین پر لگادیا جاتا ہے۔ آپ لوگوں کی معلومات سطحی اور مشاہدہ جلد بازی پر مبنی ہے۔ حقیقت اس کے بالکل برعکس ہے۔ تبصرے کا خانہ اس کے لئیے مناسب نہیں شاید کبھی اپنے بلاگ پر لکھوں۔

  9. urdudaaN says:

    پرسوں ھی ایک صاحب سے ملاقات ھوئی۔
    انہوں نے پہلے درجہ دہم کے بعد انجینئرنگ ڈپلومہ کیا پھر چند سال مدرسہ میں داخلہ لیکر حافظ وغیرہ ھوئے۔
    دینی مدرسہ سے فراغت کے بعد انہوں نے انجینئرنگ سند/ڈگری حاصل کی اور پھر اسی میدان میں تدریس سے منسلک ھوئے۔
    نہایت متین شخصیّت کے حامل ہیں۔

تبصرہ کیجئے

اس بلاگ پر آپ کے تبصرہ کی حوصلہ افزائی کی جاتی ہے
اگر آپ اپنے تبصرہ کے ساتھ تصویر لگانا چاہتے ہیں، تو یہاں جا کر تصویر لگائیں ۔