دہشت گرد ریاست

Sunday,30 July 2006
از :  
زمرات : مذہب, امریکہ, سیاست

حالیہ سالوں میں بش کی طرف سے استعمال کی جانے والی اصطلاحات میں سب سے مشہور اصطلاح “Axis of evil” یا شیطانی ریاستیں(عراق، ایران اور شمالی کوریا) ہیں، جو کہ دہشت گردی کی سرپرستی کرتی ہیں، ان ریاستوں کی دہشت گردی صرف اتنی ہے کہ وہ نیو ورلڈ آرڈر کے تحت امریکی بالادستی کو نہیں مانتی ہیں، مذکور بالا تینوں ریاستوں میں صرف ایک ریاست عراق ہی تھی جس نے کسی دوسری ریاست (کویت) کی سرحدوں کی خلاف ورزی کرتے ہوئے اس پر چڑھائی کر دی تھی اور اس کا جو نتیجہ تھا وہ تاریخ کا ایک حصہ ہے، بلکے اس ایک غلطی کا نتیجہ عراق کے عوام(صدام نہیں) آج تک بھگت رہے ہیں۔
تین ہفتوں سے جاری اسرائیل کی کھلی دہشت گردی پر بجائے انتباہ کے اسے آزادی دی جا رہی ہے پہلے دو ہفتے کی مہلت، اور اب جب تک اسرائیل دہشت گرد عناصر کا خاتمہ نہیں کر لیتا تب تک یہ جنگ جاری رہنے کا عندیہ دیا جا رہا ہے۔ یہ دہشت گردی جو اسرائیل نے حزب اللہ کا نام لے کر شروع کی ہے، اس میں سوائے معصوم شہریوں کی جان لینے، عوامی آمدورفت کے ذرائع تباہ کرنے، اور رہائشی بلڈنگوں کو اڑانے کے اور کوئی پیش رفت نہیں ہوئی، اسرائیل صرف اپنے توسیع پسندانہ ذہنیت کے ساتھ لنبان میں داخل ہوا ہے، یہ جنگ حزب اللہ کا نام لے کر لبنان کے خلاف شروع کی گئی ہے۔
اسرائیل کی یہ جنگ جو بظاہر دو فوجیوں کے اغواء کے بعد شروع کی گئی ہے اس کے بارے میں موساد کے سابق ڈرائکٹر کا بیان پڑھیں

یہ جنگ اسرائیل اور حزب اللہ کے مابین اسرائیلی اور لبنانی بارڈر کے قریب کسی زمینی ٹکڑے کے حصول کے لئے نہیں ہے، بلکہ اس کی جڑیں اس سے بھی گہری ہیں جو کہ ایک مغربی معاشرت اور اسلامی بنیاد پرستی کی بنیاد پر ہیں، سیاسی طور پر غلط ہی سہی لیکن ہمیں اس بات کو ماننا ہو گا، یہ دو معاشرتوں کے مابین جنگ ہے ایک عقلی اور بے عقلی کی جنگ، جس میں ایک فریق اس بات پر یقین نہیں کرتا کہ آپس میں مل کر کام چلایا جا سکتا ہے بلکہ اس بات پر یقین کرتا ہے کہ اسے خدا کی طرف سے حکم ہے کہ وہ تمام دنیا کو مسلمان بنا دے یا مٹا دے، میں جب بھی ایسا کہتا ہوں لگتا ہے جیسے یہ جاہلیت کے زمانہ کی باتیں ہیں، لیکن بدقسمتی سے یہی اصل کہانی ہے
ماخذ

کیا اس کے بعد بھی ہم یہی مانتے ہیں کہ یہ جنگ دو فوجیوں کے حصول کے لئے لڑی جا رہی ہے یا ایک دیرینہ خواہش کا اظہار کیا جا رہا ہے؟ اگر ہم اس تناظر میں میں حزب اللہ کے کمانڈر حسن نصراللہ کا مقابلہ اسرائیلی وزیر اعظم اولمرٹ سے کریں تو بھی مذہبی جنونیت اولمرٹ میں زیادہ نظر آتی ہے، حسن نصراللہ کی زیادہ تقریریں حقائق پر بات کرتی ہیں نہ ہی کسی مذہبی کلام سے شروع ہوتی ہیں جبکہ اولمرٹ کی نیسیٹ میں حالیہ تقریر ایک لمبی مذہبی لٹریچر سے شروع کی جا تی ہے، تو اگر توسیع پسندندانہ عناصر مذہبی ہیں تو وہ خود اسرائیلی ہیں جن کی دیرینہ خواہش سرحدوں کی تمام عرب ممالک تک توسیع کا خواب ہے
اگر شام اور ایران کا حزب اللہ کی پشت پناہی کا ذکر کیا جائے تو دو ایسے لوگ جن کا یقین ایک ہی ہو ان میں ہم آہنگی پائی جاتی ہے اور وہ ایک دوسرے کی مدد کرتے ہیں، لیکن یہ مدد اس مدد کے مقابلے میں بہت کم ہے جو تمام دنیا میں پھیلی منظم یہودی تنظیمں اسرائیل کے حق میں کرتی ہیں

تبصرہ جات

“دہشت گرد ریاست” پر 2 تبصرے کئے گئے ہیں
  1. شعیب صفدر says:

    بعض باتیں سب کو معلوم ہوتی ہیں مگر جان کر انجان بنے ہوتے ہیں!!! یہ بات بھی کچھ یوں ہی ہے!!!

  2. Anonymous says:

    jee bilkul sahee hai…ager iussi tarah hota raha tu eik din ye waqt pakistan pay b aye ga…aur dhosre humra tamasha dakh rahay ho gay

    lalah

تبصرہ کیجئے

اس بلاگ پر آپ کے تبصرہ کی حوصلہ افزائی کی جاتی ہے
اگر آپ اپنے تبصرہ کے ساتھ تصویر لگانا چاہتے ہیں، تو یہاں جا کر تصویر لگائیں ۔