اکبر بگٹی کی موت

Sunday,3 September 2006
از :  
زمرات : پاکستان, سیاست

اکبر بگٹی کی موت کے بعد مضامین اور القابات کا ایک نیا دور شروع ہو گیا ہے جس میں کوئی لیجینڈری موت ، کوئی شہید اور کوئی انہیں ایک محب وطن اور با عمل و با کردار سردار کے روپ میں پیش کر رہا ہے، جس کی ساری زندگی اصولوں کے لئے لڑتے گزری، اب پتہ نھیں وہ کون سے اصول تھے، البتہ اکبر بگٹی کی موت ایک ویسی ہی موت ہے جو دُنیا بھر میں کسی بھی قانون کو اپنے ہاتھ میں لینے والے تخریب کار کی ہوتی ہے۔
مجھے حیرت اُن لوگوں کی سوچ پر ہوتی ہے جو اِس بات پر بحث کر رہے ہیں کہ ایک سابقہ گورنر، وزیرِ اعلیٰ اور قومی اسمبلی کا سابقہ رکن اب تخریب کار یا غدار کیسے بن گیا اور اِن حوالوں کی رو سے موصوف کو ایک انتہائی محب وطن کے روپ میں پیش کر رہے ہیں، یا تو یہ لوگ پچھلے چار سالوں میں سوتے رہے ہیں کہ حالات کا کوئی ادراک ہی نہیں ہے یا شاید اُن لوگوں میں ہیں جو کسی کے پہلے جُرم کو اُس کی پچھلی زندگی کے حوالے سے معاف کرنا چاہتے ہیں، یہ تو ویسی ہی بات ہے اگر میں آج کسی کی جان لے لوں اور میرا وکیل عدالت میں ثبوت دے رہا ہو کہ پچھلے پوری زندگی اس نے کوئی چھوٹا جرم بھی نہیں کیا تو جان کیسے لے سکتا ہے کسی کی، ویسے میرے خیال میں اس طرح کا قانون بن جانا چاہیے ہے ۔
جہاں تک بات رہ گئی اکبر بگٹی اور بلوچ عوام کے حقوق کی تو حقوق غصب کرنے والے ہی یہ لوگ ہیں، موصوف نے زندگی بھی اتنی کم نہیں پائی اور اپنی زندگی کے غالب حصہ میں اپنے علاقے پر اُن کی گرفت رہی ہے، باقی بلوچ عوام تو ایک طرف رہ گئے، جناب نے اس ۸۰ سالہ عمر میں ڈیرہ بگٹی کے لئے کیا کیا ہے؟ جہاں وہ سیاہ و سفید کے مالک تھے، یا جو وہ ڈیرہ بگٹی میں جو کرتے رہے ہیں اُنہی کو بلوچ عوام کے حقوق جانتے ہیں، جیسے کہ قتل غارت گری، کاروکاری کے فیصلے وغیرہ، لوگوں کی زندگی موت اور علاقے سے بے دخلی کے احکام وغیرہ؟
دوسری طرف وہ لوگ بھی ہیں جو اکبر بگٹی کو غلط سمجھتے ہیں مگر ساتھ ہی ان کی اس طرح ہلاکت کی مزمت کر رہے ہیں، اُن کے نزدیک اکبر بگٹی کو عدالت تک لایا جانا چاہیے تھا۔ عمومی حالات میں طریقہ کار تو یہی ہوتا ہے لیکن ایک ایسا شخص جو لاکھوں کا بھاری اسلحہ لے کے بیٹھا ہے اور ہر روز سیکورٹی فورسز پر حملوں کا مرتکب ہو رہا ہو، اُسے کیسے درخواست کی جا سکتی ہے کہ جناب آپ گرفتاری دے دیں اور عدالت میں اپنی صفائی پیش کریں؟ اگر بفرضِ مُحال ایسا ہو بھی جاتا اور موصوف کے خلاف فیصلہ ہو جاتا تو وہاں بھی پنجابی جج کا شور شروع کیا جا سکتا تھا۔
مجھے بلوچ عوام کے ساتھ پوری ہمدردی ہے اور میری دُعا ہے کہ اللہ انہیں ایسے سرداروں کے چُنگل سے چھڑائے

تبصرہ جات

“اکبر بگٹی کی موت” پر 8 تبصرے کئے گئے ہیں
  1. Anonymous says:

    افسوس ہوا آپ کے سوچنے کے انداز پر۔ آپ سے میں یہ توقع نہیں کر رہا تھا۔

    آصف

  2. جہانزيب says:

    آصف بھائی آپ کی رائے کا اخترام کرتا ہوں، لیکن بگٹی کے حوالے سے قائل کرنے کے لئے آپ کو دلائل دینا ہوں گے، اگر میری اس تحریر سے کوئی یہ تاثر لے کہ میں فوجی حکومت کے حق ہوں تو ایسا بالکل نہیں ہے۔
    اب صرف پچھلے تین سالوں میں اکبر بگٹی کے ایما پر یا اس کے حمایت یافتہ لوگوں کی طرف سے ۴۲۰ بم دھماکے ، بارودی سرنگوں کے ۲۵۵ دھماکے اور ۲۹۲ راکٹ داغے گئے اس کے علاوہ سیکورٹی فورسز پر ۳۱۲ حملے کئے گئے، اِن تمام حملوں کو کوئی کِس طرح سے جسٹفائی کرے گا؟ اِن حملوں کی وجہ سے ا۷۳ شہری، ۱۵ سرکاری اہلکار اور ۹۸ سیکورٹی فورسز کے اہلکار ہلاک ہوئے جبکہ شہری اور سیکورٹی فورسز ملا کر ۶۷۲ لوگ زخمی ہوئے۔ اِن سب واقعات کے ہوتے ہوئے بگٹی صاحب کیسے بے گناہ ہیں؟ کم از کم میری سمجھ میں تو یہ نہیں آتا، یا شاید اتنی ہلاکتوں کے بعد دُنیا کا کونسا ملک ہے جو اُن کے منتیں کرے کہ ایسا نہیں کرو، قانون کو ہاتھ میں لینے والوں کا پوری دُنیا میں یہی انجام ہے، چاہے وہ بگٹی ہو یا کوئی اور، پاکستان میں ہو یا امریکہ میں۔

  3. Anonymous says:

    Aap say paishgi mazrat kay saath Mr ajmal ko yeh jawab bheja tha 2 din intizaar kay baad aap kay blog par likh raha hoon un ki marozaat ka jawab,yeh kisi had tak aap ki post say bhi mutaliq hay,
    to Mr ajmal,
    kal sara din net connection na honay nay ki wajah say jawab na likh saka,
    aap ki guftugo say aisa mahsoos ho raha hay kay saray pakistan main to hahakaar machi hay laikin panjab main sukoon ka dordora hay,o buzurgo jo haal dosray sobon ka hay wahi panjab ka bhi hay laqanoniat or jraaim ka bazar to wahan bhi garam hay to is hadees kay mutabiq to aap bhi aisay hi logon main shamil howay jo galat ko sahi karnay ki koshish naheen karahay kion kay aap ki khodgarzi aap ko aisa karnay ki ijazat naheen deti,meri namaz mujhay yeh sikhati hay kay haq ko haq kaho apni zati agraz par apni qoom(musalmano)ki bhalai ko muqadam rakho,kisi musalman ko kafir na kaho,Islah apnay ghar apni olaad say balkay apni zaat say shro karo,laikin aap ki namaz aap ko kia sikha rahi hay woh to saaf nazar aaraha hay,
    panjab ko muqadas gaay na banay kay jis kay tukray naheen hosaktay mulk kay tukray karnay say bahtar hay kay sobon kay tukray kardiay jaain,khod panjab kay kitnay hi ilaqay yeh chahtay hain kion kay un kay naam par liay paison ka ziada hisa rawalpindi islamabad or lahore par kharch hojata hay,or un kay hisay main moongpahli kay danon kay siwa kuch naheen aata,
    panjab na tora jaay ya mazeed sobay na banaain jaain is kay liay aap kay paas kon si Qurani aayat ya hadees hay?
    babaji koi jawaw naheen ban parta to quran o hadees ka naam lay kar logon ko baywaqoof banay lagtay ho,
    karachi main to 90% police panjabi hay jo khud jurm main barabar ki shareek hay,rahi sahi kasar rengers pori kararahy hain,balochistan kay log kion naheen panjab ko aanay dena chahtay woh saaf saaf kahtay hain kay hum karachi naheen banna chahtay,wahan panjab say itnay log la la kar basa diay gaay hain kay wahan kay rahnay walay aqliat main tabdeel hotay jarahay hain,or yahi ab balochistan min honay jaraha hay,log itnay bay waqoof naheen hain jitna aap nay unhain samajh rakha hay,aakhri baat agar arkaane parliment loot khasoot ka bazar garam kiay hoay hain to aisay nizam ko hi khatam karnay ki koshish hona chahiay,or agar yeh naheen hosakta to phir isi tarah un kay ikhtiarat ka zoor kam kia jasakta hay,hakeem saeed or deegar ulmaay deen ko marnay main sarasar agencion ka haath tha or agencion main kon bethay hain yeh batanay ki zarorat naheen,
    yeh to pora pakistan janta hay kay karachi say kamaya howay revenue ka aik bara hisa panjab chala jata hay,laikin kal jang main karachi kay nazim ka bayan parh kar hairat hoi kay shahri hokomat ka control shahar kay sirf 34% par hay baqi shahar deegar idaron kay control main hay jo karachi say taluq naheen rakhtay jo muhakmay shahri hokomat kay control main naheen hain un main traffic police,bijli,telephone,soi gas or railway wagaira shamil hain, Karachi ko aaj tak khod koi power plant laganay ka haq hasil na tha or usay bijli monh mangay damoon wapda say khareedna parti thi,
    kia itni tafseel kafi hay!?

  4. indscribe says:

    آپ نے عمدہ لکھا ہے۔ کچھ اختلاق کی گنجایش ہو سکتی ہے لیکن مجھے ظاہر ہے کہ کم واقفیت ہے پاکستان کے حالات سے۔
    عدنان

    http://www.urduindia.wordpress.com

  5. جہانزيب says:

    نامعلوم صاحب آپ کو معذرت کرنے کی ضرورت نہیں ہے لیکن اگر آپ میرے بلاگ پر میری تحریروں پر بحث کرتے تو زیادہ بہتر ہوتا۔
    باقی جہاں تک آپ کے خیالات کا تعلق ہے، کہ نقشہ بدل کر پاکستان مضبوط بن سکتا ہے تو میں اِس سے متفق نہیں ہوں، کیونکہ جو لوگ نقشہ بدلنے کی بات کرتے ہیں اُن کے پیش ذاتی مفاد مُلکی مفاد سے کہیں زیادہ کارفرما ہے۔ پاکستان کو مضبوط بنانا ہے تو ہمیں سوچ کو بدلنا ہوگا، کہ کوئی پنجابی، پٹھان، سندھی یا بلوچی نہیں سب پاکستانی ہیں اور تمام پاکستان سب پاکستانیوں کے لئے ہے۔اگر امریکہ میں کوئی ٹیکساس، نیویارک یا کسی دوسری ریاست کے حوالے کی بجائے بشمول نئے امریکیوں کے جن میں میں بھی شامل ہوں امریکی کہلوانا پسند کرتے ہیں تو ہم کیوں نہیں؟
    اور جہاں تک آپ کی بات کراچی کے متعلق ہے کہ وہاں (جو مجھے آپ کی بات سے لگ رہا ہے) کہ پنجابی اکثریت کو اقلیت میں بدل رہے ہیں۔ میرے خیال میں آپ انہیں پنجابی کی بجائے کراچی اَیٹ یا کراچی والے کہیں تو زیادہ بہتر ہے، اُن میں اکثر کراچی میں ۲۰أ۳۰ سال سے رہ رہے ہیں، آپ اُن کو کراچی والا مان لیں جیسے آپ سے پہلے کراچی و الوں نے آپ کو کراچی والا مانا تھا، اور جہاں تک بات ۹۰ فی صد پولیس پنجابیوں کی ہے، تو وہ باتوں میں تو شاید ایسا ہی ہو مگر کاغذات میں وہ اُتنے ہی کراچی والے ہیں جتنے اردو بولنے والے کراچی والے ہیں، صرف اِس وجہ سے کہ وہ پنجابی بولتے ہیں آپ اُن کا کراچی سے رشتہ کیسے ختم کر سکتے ہیں؟

  6. Anonymous says:

    baat bari choti si hay shaaid aap ki samajh main ajaay,pahli baat aap say kisnay kaha kay main karachi wala hoon?
    dosri baat jo panjab say karachi aay bohat kam logon nay isay apna shahar samjha or jinhoon nay samjha unhoon nay us kay hoqooq ki baat bhi ki,baqi aksariat wahan sirf kamanay jatay hain or kama kama kar apnay shahron ko bhejtay hain jaaiz ya najaaiz,
    huqooq ki baat ho to woh karachi walay ban jatay hain or fraaiz ki baat ho to panjabi,
    App nay america ki misal di hay wahan centre ki hokomat naheen hay har state apnay mamlaat khod chalati hay,mari guzarish bhi kuch isi qisim ki thi laikin ay basaay arzo kay khak shud,

  7. جہانزيب says:

    آپ کی یہ بات بھی دُرست نہیں کہ کراچی میں بسنے والے پنجابی اُسے اپنا گھر نہیں سمجھتے ہیں، اکثریت نے وہاں جا کر اپنے معاشی حالات بہتر کئے ہیں اور اُسے اپنا گھر سمجھتے ہیں، جہاں تک آپ کی یہ دلیل کہ وہ کما کما کر اپنے شہروں کو بھیجتے ہیں اِس لئے وہ کراچی والے نہیں ہوئے؟ میرے خیال میں وہ اپنے شہروں کی بجائے اپنے رشتہ داروں مطلب والدین بہن بھائیوں کو بھیجتے ہیں، ویسے مہاجرین میں بھی اکثریت اپنے آپ کو جہاں سے وہ ہجرت کر کے آئے ہیں انہی شہروں سے اپنے آپ کو منسوب کرتے ہیں، تو آپ کی تھیوری کے مطابق وہ بھی کراچی والے نہیں ہوئے،
    اور امریکہ کی بات کرنے کی جو بنیادی وجہ تھی اُسے بھی آپ نے نظر انداز کر دیا ہے شاید آپ اُسے صیح طور پر سمجھ نہیں سکے میں ایک دفعہ پھر کُھل کر آپ کو سمجھانے کی کوشش کرتا ہوں، اگر آپ کسی اور ریاست میں پیدا ہوئے پروان چڑھے مگر اُس کے بعد آپ فرض کریں نیویارک آ جاتے ہیں اور وہاں ایک سال کا عرصہ گزار لیتے ہیں تو آپ نیویارکر ہیں، کوئی آپ کو نہیں کہے گا کہ جس نوکری پر میرا حق تھا وہ تم کر رہے ہو، ہمارے ہاں اِسے بدلنے کی ضرورت ہے جب کہ ہمارے ہاں کیا حال ہے آپ بھی جانتے ہیں، مہاجروں کی تیسری نسل بھی مہاجر ہی ہے؟ جن پنجابیوں کی تیسری نسل بھی کراچی میں پیدا ہوئی وہاں پلی بڑھی وہ پنجابی اور یہی حال پٹھانوں کا بھی ہے۔ ہمیں اِس سوچ کو بدلنا ہوگا جِسے میں ڈومی سائل سوچ کہوں گا۔
    یہاں میں نے پھر اُوپر کہا ہے کہ آپ اگر کسی دوسری ریاست میں پیدا ہوئے تو اِس سے یہ مطلب نہیں اخذ کر لیجیے گا کہ میں آپ کو واقعی اُسی ریاست کا سمجھ رہا ہوں جیسے اِس سے پہلی پوسٹ پر آپ نے اپنے آپ کو کراچی والا سمجھ لیا تھا۔

  8. Mehar Afshan says:

    bhai jab zabanin sab say aham hojaain or baqi har cheez gair aham ho to aisa hi hota hay, Newyork ki misal isi wajah say yahan suit naheen karti wahan aap hoon ya koi or sab ko aik hi zabaan apas main jorti hay or dosri aham baat hay merit jis ka Pakistan main tasawar bhi mahal hay, rahi sahi kasar kota system pori kardeta hay jab root cause hi itnay baray hoon wahan kisi tabdeeli ki umeed karna bay waqoofi naheen to or kia hay?

تبصرہ کیجئے

اس بلاگ پر آپ کے تبصرہ کی حوصلہ افزائی کی جاتی ہے
اگر آپ اپنے تبصرہ کے ساتھ تصویر لگانا چاہتے ہیں، تو یہاں جا کر تصویر لگائیں ۔