اس ہفتے کا نيو يارک

Sunday,20 March 2005
از :  
زمرات : مذہب, امریکہ, سیاست

جی تو جناب اس ہفتے تو يہاں کيا ہوا ميرے خيال ميں تو سب کو خبروں سے پتا چل چکا ہو گا کہ ايک عورت جو کہ مذہبی سکالر بھی ہيں نے يہاں پہلی دفعہ تاريخ ميں نمازِ جمعہ کی امامت کروائی ڈاکٹر امينہ ودود جو افريقی نزاد امريکی ہيں۔
کچھ عرصہ سے يہ کام جاری ہے کہ اسلام ميں تبديلياں کر کے اسے جديد تقاضوں کے ہم آہنگ کيا جائے کيونکہ اب انسان اپنے پيدا کرنے والے سے نعوذ بااللہ زيادہ عقل مند محسوس کرتا ہے اپنے آپ کو اور يہ ايک ايسے ہی سلسلے کی کڑی ہے۔ ورنہ تو ميرے جيسے مسلمان کو پتا ہے کہ دين ميں کوئی بھی نئی بات کو ہم بدعت کہتے ہيں اور دوسرا طريقہ اجتہاد کا ہے نا کہ کسی ايک فرد کا فيصلہ کيا ٹھيک ہے اور کيسے ہونا چاہيے۔ ميں نے اس پر تھوڑی سی تخقيق کی ہے تو صرف ايک واقع ملا ہے جس ميں رسول اللہ نے ايک صحابہہ کو اپنے گھر والوں کی امامت کی اجازت دی تھی ۔ ياد رہے کہ ڈاکٹر ودود وہی سکالر ہيں جن کے ايک بيان پر جو گزشتہ سال کنيڈا ميں ايک ليکچر ميں ديا تھا پہلے ہی کافی بحث ہو چکی ہے جس ميں انہوں نے کہا تھا کہ قرآن کی کچھ آيات سے اُنکو اختلاف ہے۔
دوسرا واقعہ ايک پاکستانی اظہر علی جو کہ امريکی فوج ميں تھے اور عراق ميں مارے گيے تھے کی تدفين کا ہے۔ ان کے والدين جو کہ کراچی ميں رہتے ہيں کو امريکن ايمبيسی نے ويزہ دينے سے انکار کر ديا تھا جو کہ سينيٹر ہيلری کلنٹن کی مداخلت پر جاری کرنا پڑا کو کوئينز نئويارک ميں سپردِ خاک کر ديا گيا ہے۔ اظہر علی کی عمر ٢٧ سال تھی اور فوج کے بعد ان کا ارادا نيو يارک پوليس ميں شموليت کا تھا مگر گڈشتہ ہفتے عراق ميں ايک دھماکے ميں مارے گئے اللہ ان کے سوگواروں کو صبر عطا کريں۔

تبصرہ جات

“اس ہفتے کا نيو يارک” پر 3 تبصرے کئے گئے ہیں
  1. Xeesh says:

    Qayamat kai aasar hain aisai buhat sai tamashai aaj kal main ham sunte hee rehte hian

  2. سا ئر ہ عنبر ین says:

    صد افسوس انسان پڑھ لکھ کر جہالت کی طرف سرگرداں ہے۔

  3. Asif says:

    This is how you can make an acccount on UrduWiki…

    http://cafe.sovereign-renditions.info/index.php?p=252#comment-790

تبصرہ کیجئے

اس بلاگ پر آپ کے تبصرہ کی حوصلہ افزائی کی جاتی ہے
اگر آپ اپنے تبصرہ کے ساتھ تصویر لگانا چاہتے ہیں، تو یہاں جا کر تصویر لگائیں ۔