قائد اعظم کا سيکولر پاکستان

Wednesday,31 August 2005
از :  
زمرات : پاکستان, مذہب, سیاست

قائد اعظم ايک سيکولر پاکستان کے حامی تھے يا ايک اسلامی نظرياتی پاکستان کے؟ يہ وہ سوال ہے جو وقتا فوقتا پاکستان ميں مختلف لوگوں کی طرف سے موضوع بحث بنتا رہتا ہے۔ دونوں فريق اس پر اپنی اپنی طرف سے قائد کی تقريروں اور انکے خطابات سے اقتباس پيش کر کے ايک دوسرے پر بازی لے جانے کی کوشش ميں لگے رہتے ہيں۔ ليکن ميں اس بات پر آج سے تقريبا ايک سال پہلے ايک فورم ميں مباحثے ميں حصہ لے چکا ہوں اور آج بھی اسی بات کو يھاں دوبارہ کہوں گا۔ ہم قائد اعظم کو کيا مانتے ہيں؟ ايک جمہوری رہنما يا ايک آمرانہ ذہن رکھنے والا آمر؟اگر يہی سوال کسی بھی پاکستانی سے پوچھ ليں وہ آپ کو ديوانہ سمجھے گا کہ کيسی باتيں کرتے ہو ظاہری طور پر قائد اعظم ايک جمہوريت پسند رہنما تھے۔
تو جو جمہوريت پسند رہنما ہوتے ہيں وہ جمہور کے فيصلے کو مانتے ہيں نا کہ اپنی آمريت کو جمہور پر مسلط کرتے ہيں بجائے اس سوال کے کہ قائد اعظم کيا چاہتے تھے کيسا پاکستان چاہتے تھے زيادہ اہم سوال يہ ہے کہ ہندوستان کے مسلمان جنہوں نے مسلم ليگ کو ايک عليحدہ ملک کے قيام کے لئے منتخب کيا تھا اور اپنا بھروسے کا اظہار کيا تھا وہ کيا چاہتے تھے؟ اور اگر آج ہم ملک ميں کوئی نيا نظام لانا چاہتے ہيں تو بھی اس کا بہتر طريقہ کار يہی ہے کہ پاکستان کی عوام سے پوچھا جائے نا کہ پرويز مشرف کيا چاہتا ہے اور بجائے آپس ميں بحث مباحثۓ سے جس ميں اور کچھ نہيں صرف اپنی توانائی کا ضياع ہے اور مخالفت بڑھنے کا انديشہ ہو۔
اب پاکستان کو ايک نظرياتی ملک تو ہم سب مانتے ہيں جو اسلامی ملک کہتے ہيں وہ بھی اور جو سيکولر ملک کے حامی ہيں وہ بھی۔ تو اس نظرياتی ملک کی اساس دو قومی نظريہ تھا۔ اور بعد ميں جب مسلم ليگ نے اپنی مہم ہندوستان کے طول و عرض ميں چلائی تو اسی نظريے کی بنياد پر چلائی تھی اور تمام مسلمانوں کو ايک الگ ملک کے لئے قائل کيا تھا جہاں ہم اسلام کے اصولوں کے مطابق زندگی گزار سکتے۔ اگر مسلم ليگ کو ايک سيکولر پاکستان ہی بنانا تھا تو ہميں متحدہ سيکولر ہندوستان ميں رہتے کيا خرابی تھی؟ يا جيسے ہندوستان کے پروپيگنڈہ کے حساب سے قائد اعظم نے انگريزوں کے ساتھ مل کر ہندوستان کو کمزور کرنے کی سازش کی تھی؟ يا قائد اعظم صرف اپنی حکومت حاصل کرنے کے لئے ايک عليحدہ ملک کے قيام کا مطالبہ کر رہے تھے؟ گاندھی جی بھی ہندوستان کو ايک سيکولر ملک ہی کہہ رہے تھے اور ايک سيکولر ملک کے اندر ايک اور سيکولر ملک کے قيام کا مطالبہ ہی ميرے خيال میں تو کافی سے زيادہ ہی مضحکہ خيز ہے۔ اور اگر ہم اس پر يقين کر ليں تو قائد اعظم کے بارے ميں ہندوستانيوں کی سب باتيں سچ ہو جاتی ہيں کہ وہ انگريز کے ساتھ مل کر ہندوستان کی طاقت کو کم کرنے میں شامل تھے۔ اگر مجھے سيکولر پاکستان ہی چاہيے ہوتا تو اس سے کہيں زيادہ بہتر ميں سيکولر ليکن متحدہ ہندوستان کو جانتا ہوں اور جو دونوں طرف تقسيم کے وقت خون خرابہ ہوا اسکی بھی ظرورت نہيں سمجھتا اور سيدھا سيدھا قائد اعظم کی ضد کی وجہ سے يہ سب خون خرابہ ہوا۔سيکولر ازم کے ماخذ مغرب ميں تو يہ نظام قائم ہے اور اسکی ضرورت بھی سمجھ ميں آتی ہے جہاں مذہب کو صرف روحانی ضرورت سمجھا جاتا ہے۔ جہاں کليسا اور حکمرانوں کی آپس ميں چپقلش عروج پر تھی ايک طرف خدا کا کہا ہوا تھا اور ايک طرف حکمرانوں کا وہ اگر مذہب اور رياست کو عليحدہ کريں تو سمجھ آتی ہے۔ مگر ہمارا جن کا دعوی ہے کہ مذہب صرف روہانی ضروريات کو پورا کرنے کا نام نہيں ہے بلکہ ايک ضابطہ حيات ہے وہاں ہم کيسے مذہب اور رياست کو الگ کر ديں گے؟
دانيال نے ميرے کمنٹ کا جواب اپنی تحرير ميں ديا ہے ليکن ميں انکے بلاگ پر رائے دينے سے قاصر ہوں وجہ مجھے معلوم نہيں ہے اور اس سلسلے ميں ميں نے ايک ای ميل بھی بھيجی تھی۔ ليکن فی الحال ميں وہاں رائے نہيں دے پا رہا ہوں۔ دانيال کہتے ہيں کہ اسلامی رياست ميں ايک غير مسلم غير ملکی کی طرح ہوتا ہے۔ جس کے کاندھوں پر کوئی رياستی ذمہ داری نہيں ہوتی ہے۔ آپ ميثاقِ مدينہ کا مطالعہ کر ليں ان ميں فريق مدينہ کے غير مسلم اقوام کو بنايا گيا ہے۔ اور ان پر حملے کو مسلمانوں پر حملہ کے مترادف تضور کيا گيا ہے اور ان پر حملے کی صورت ميں ان کے ساتھ شانہ بشانہ لڑنے کا معاہدہ کيا گيا تھا اور يہی شرائط ان پر بھی عائد کی گئی ہيں۔ ايک رياست کی سب سے بڑی ذمہ داری اسکا دفاع ہے اگر اللہ کے رسول غير مسلموں کو اس ميں شامل کر رہے ہيں تو آپ کس بنياد پر کہہ سکتے ہيں کہ غير مسلموں کو اسلامی رياست ميں ذمہ داری نہيں جاتی؟ اور اگر آپ کا مطلب انکو کسی چيز کا سربراہ بنانا ہے تو ميرے بھائی يہ صرف اسلامی رياست ميں نہيں بلکہ دنيا کے تقريبا ہر ملک ميں ايسا ہی ہے آپ مجھے امريکہ ميں ايک بھی صدر يا فوج کا سربراہ بتا ديں جو کيھولک نا ہو؟اگر ميرا کوئی بچہ جو يھاں پيدا ہو گا سياست ميں چاہے ہی کتنا ہی فعال کيوں نا ہو جائے اور امريکی قانون کے مطابق وہ صدر بننے کا اہل بھی ہو گا تو کيا اسکو کوئی صدر بننے دے گا؟

تبصرہ جات

“قائد اعظم کا سيکولر پاکستان” پر 28 تبصرے کئے گئے ہیں
  1. Anonymous says:

    انکل مجھے بھی يہ گُر سکھا ديں پليز
    آپ کا جملہ میں نے اپنی پوسٹ سے نقل کیا ہے کیونکہ وہ ٹیسٹ پوسٹ تھی اور اس کو ختم کرنا ہے ۔
    آپ کون سا گر سیکھنا چاہتے ہیں ۔ میں تو قدیر احمد رانا سے کچھ سیکھنے کی کوشش کر رہا ہوں ۔

    آپ نے سیکولر یا اسلامی کے بارے خوب لکھا ہے ۔ میں آپ کی پوری تحریر دانیال کے بلاگ پر نقل کر رہا ہوں ۔ میں نے بالکل معمول سی ترمیم اس میں کی ہے ۔
     

    Posted افتخار اجمل بھوپال

  2. Anonymous says:

    انکل اردو تحرير ميں انگريزی شامل کرنے کا گُر کہ مجھ سے سب گڈ مڈ ہو جاتا ہے۔ اور کمنٹ ارسال کرنے کا شکريہ 

    Posted جہانزيب

  3. زکریا says:

    جناح پاکستان میں اتنا سیکولر نظام بھی نہ چاہتے تھے جیسا کچھ لوگ کہتے ہیں اور نہ ہی وہ پاکستان کو اسلامی ریاست بنانا چاتے تھے جو کچھ اور لوگوں کا دعوہ ہے۔ اسی طرح جناح اپنے طور طریقے میں کچھ حد تک آمرانہ تھے۔ حقیقت کبھی اتنی آسان نہیں ہوتی جتنی ہم سمجھتے ہیں۔

  4. Anonymous says:

    جناح پاکستان میں اتنا سیکولر نظام بھی نہ چاہتے تھے جیسا کچھ لوگ کہتے ہیں اور نہ ہی وہ پاکستان کو اسلامی ریاست بنانا چاتے تھے جو کچھ اور لوگوں کا دعوہ ہے۔ اسی طرح جناح اپنے طور طریقے میں کچھ حد تک آمرانہ تھے۔ حقیقت کبھی اتنی آسان نہیں ہوتی جتنی ہم سمجھتے ہیں۔ 

    Posted زکریا

  5. Anonymous says:

    جہانزیب آپ نے بہت عمدہ لکھا ہے۔
    اصل اہمیت اس بات کی ہے کہ برصغیر کے مسلمانوں نے پاکستان کا کیا تصور لیا تھا نا کہ اس بات کی کہ مسلم لیگ کے چند گنے چنے سرکردہ لوگوں کے اصل سوچ کیا تھی۔
    دانیال سمیت کوئی صاحب بھی اس بات کا کیا جواز پیش کریں گے کہ مسلم لیگ نے قیام پاکستان سے قبل دونوں الیکشنوں میں اسلام کے نام پر ووٹ مانگے تھے!! 

    Posted آصف

  6. Anonymous says:

    خوب لکھا! میں اس لئے نہیں کہہ رہا کے اس سے رہا کہ اس سے میری رائے کی حمایت ہوتی ہے بلکہ یہ پہلو میری نظر سے اوجھل تھا جو آپ نے بیان کیا۔۔۔۔ 

    Posted شعیب صفدر

  7. Anonymous says:

    کچھ لکھنے کی گنجائش ہی نہیں ہے۔

    آج لاٹھی والے کا جناح سیکولر ہے۔ 

    Posted WiseSabre

  8. Anonymous says:

    جہانزیب۔ بہت خوب لکھا ہے۔  

    Posted دختر از پاکستان

  9. Anonymous says:

    آپ سب لوگوں کا ممنون ہوں۔
    زکريا بھائی حقيقت کبھی بھی آسان نہيں ہوتی ہے مگر رہتی حقيقت ہی ہے چاہے ہم کتنا ہی چشم پوشی کيوں نا کر ليں۔
    آصف بھائی مسلہ يہ ہے کہ دونوں فريق جب اپنی رائے دے رہے ہوتے ہيں کہ قائد کيسا پاکستان چاہتے تھے بنيادی طور پر جمہوريت کے منافی جا رہے ہوتے ہيں حالانکہ دونوں ہی جمہوريت پر پختہ يقين بھی رکھتے ہيں۔پاکستان قائد کی منشاء سے وجود ميں نہيں آيا تھا بلکہ مسلمانان ہند کی منشاء سے وجود ميں آيا تھا اور اس بحث ميں ہم اس حقيقت کو نظر انداز کر جاتے ہيں۔
    شعيب صفدر اسی لئے تو ايک دوسرے سے اپنی آراء کا اظہار کيا جانا چاہيے ہے کہ اس سے سوچ کے نئے دريچے کھلتے ہيں۔
    ثاقب يہ آج ہی نہيں دنيا کے آغاز سے ہی يہی طور طريقہ ہے۔
    اور باقی تمام حضرات کا بھی شکريہ 

    Posted جہانزيب

  10. Anonymous says:

    واہ جہانزیب بھائی کافی عرصہ بعد وزٹ کر رہا ہوں۔ غیر حاضری پر معذرت خواہ ہوں۔ امتحانات کی وجہ سے معمول کی براوزنگ بہت ڈسٹرب ہوئی اب دوبارہ روٹین براوزنگ کر رہا ہوں۔

    آپ کی تحریر پڑھ کر پرسپیکٹوّ کچھ تبدیل ہوا ہے۔ واقعی غور طلب معاملہ ہے۔

    حارث بن خرم  

    Posted حارث

  11. Anonymous says:

    asalam o alikum nip bhai
    abhi mein na parha ha apka thread “quaid e azam ka secular pakistan”
    ap na likha ha na k pakistan ki awaam sy pocha jaye k wo kia chahtay hain na k pervez musharraf kia chahta ha? tell me pakistan ki awam sy kon pochta ha? kon sunta ha?aj takkonsa faisla karny sy pehly pocha gaya….ye toh phir mulki-mafaad ki baat ha…jahan ki awam ko insaf leny lia , apny bunyadi haq lenay k lia dhakkay khanay parein or phir bhi unko wo sab na milay, un sy pochein gy k wo kia chatay hain?????

    aor mera khayal sy ye behes k jinnah sahab kesa pakistan chahtay thy or kesa nhi,lahasil ha..ab toh jesa bhi tha wajood mein agia na…

    aor 2 qoumi nazreye ki baat shoroo hui..ha toh shyed off topic..likin shyed is baat ko kisi or forum pr mein na discuss kar sakoun..isi lia yahan hi…theek ha pakistan ki bunyaad 2 qoumi nazreya hogi..balky ha…likin ab kahan ha wo 2 qoumi nazreya???? aor kai us 2 qoumi nazreye ki itni hi ehmeyat ha hamari nazer mein k aj ko hamara koi bhi leader uth kar usi 2 qoumi nazrey ko “almaree mein band” kar da…aor usi 2ree qoum k sath dosti k hath barhay, usi k sath joint ventures shuroo honay ki baat ho, usi k sath trade shoroo ho, aor uska media hamary her gahr mein ho
    kahan gia wo 2 qoumi nazreya ab?
     

    Posted tashfeen

  12. Anonymous says:

    I stumbled upon this blog while surfing some newly discovered urdu/pakistani blogs. is aakhri tabsuray kay jawab mein main ye kehna chahoon gi ke pakistan aur india kay beech dosti ho janay se do quomi nazarye ki maat hona zaroori naheen hai. do quomi nazarye kay mutabiq sub-cotinent kay musalmanon aur hinduon ka aik sath aik mulk mein  guzara naheen tha, aur ab bhee nahee ho sakta, laikin is ka ye matlab hargiz naheen kay pakistan aur india kabhee bhee aik doosray kay barabar aman se naheen reh saktay. rahee pakistani saqafat per bharti rang charhney ki bat to woh to shayad taqseem kay dinon se chala aa raha hai. bottomline: waqt badalta hai: taqseem-e-hind kay waqt sub-continent kay musalmanon ki saqafat ab se kaheen mukhtalif rahee ho gi; aaj ke pakistan ko dekhtay huay pakistan kay bunyadi nazaryon ki interpretation wo naheen ho sakti jo aaj se 58 sal qabl thee. 

    Posted munazza

  13. Anonymous says:

    asalam o alikum
    likin there can be some option in b/w these two extremese..dosti and dushmani..
    ik taraf toh ham apnay budget ka major portion defence ko allocate kar rahy houn..or dosri taraf dosti ki batein kar rahy houn…strange
    aor 2 qoumi nazreya sirf yehi nhi tha k ye 2no qoumein ik mulk mein nhi reh saktein…waja yehi thi k unki basic idelogy, unki saqafat her cheez mein farq tha
    aor mein na ye baat bilkol bhi nhi kahi k pakistan or india ik dosry k barabar amann sy nhi reh skatay..reh skatay hain bilkol reh skatay hain….likin ye sba kuch us sab k bagher bhi ho skata ha jo ham ab kar rahy hain…dosti or dushmani k darmiyan rehty huay bhi ho skata ha 

    Posted tashfeen

  14. Anonymous says:

    wawrwb
    main apni baat shayad sahi tor per bayan nahee ker saki. Mera kehnay ka maqsad yehi hai kay waqt badal gaya hai aur donon mulkon ki saqafat main ab buhat zyada farq naheen reh gaya. chahay ham is haqeeqat ko tasleem kerna chahain ya naheen, laikin jab sab jantay hain kay ghar ghar mein indian filmain dekhi ja rahi hain aur, god help us, hamari apni movies aur dramon main bhee wohi sab kuchh hota hai, to phir hukoomati satah per kyoon yeh pretend kerain kay ham apni qom kay tashakkhus aur saqafat ko bilkul alag rakhhnay ki jaddojehed ker rahay hain is liyay dosti ka hath naheen barha saktay.

    hamaay budget ka aik bara hissa defense ko jata hai, ho sakta hai mustaqbil baeed mein aisa na kerna peray. isi liyay zaroorat hai dosti ki as opposed to neutrality. kab tak ham apney resources is taraf lagatey rahain gay? kab tak hamari awam yehi sochti rahay gi ke ham sahi hain aur haq ki rah main lar rahay hain. hamara masla ye bhee to hai ke ham apnay bacchon ko yehi taleem detay hain kay ham haq per thay or haq per hain, chahay wo kashmir ho ya kaheen aur. baray honay tak ye khayalat itnay pukhta ho jatay hain kay phir hum koi doosri raey ya baat maannay ko tayyar hi nahee hotay. main ye nahee kehti kay sab ka yehi hal hai, laikin hamaray mulk mein bahar-hal zaroorat se zyada propaganda hai. kam se kam kuch to hath hai propaganday ka is mein kay aaj bhee hamaray han buhat se log ye sochtay hain kay hindu hamesha musalman kay liyay muta’ssub hi rahay ga.

    jab dosti ka hath barhaya ja sakta hai to kyoon naheen? han unke qadmon mein girnay ki koi zaroorat naheen. jahan tak dosti aur dushmani kay beech kay taluqqat ki bat hai to aisa kerna pakistan kay global image kay liyay nuqsande hi sabit ho ga. meray khayal main pakistani awam kay asal khayalat jannay ka agar koi zariya hai to usay istamal kertay huay unki raey kay mutabiq qadam uthana chahiyay. 

    Posted munazza

  15. Anonymous says:

    تاشفين۔ منزہ نے جو کہا ہے بالکل صیح کہا ہے کہ دو قومی نظريہ کا مطلب ہر گز يہ نہيں تھا کہ ہندوستان اور پاکستان ايک اچھے ہمسائے کي طرح نہيں رہ سکتے ہيں يا اگر کوئي دوستي کي بات ہو بھارت اور پاکستان کے درميان تو اس سے دو قومي نظريے پر کوئي زد نہيں پڑتي ويسے بھي مسلمان ہونے کے ناتے ہمارا يقين ہے کہ اپنے پڑوسي کے ساتھ اچھا برتاؤ کيا جائے۔ دو قومي نظريہ ہندوستان کے مسمانوں کے اپنے بارے ميں تحفظات کي وجہ سے وقوع ميں آيا تھا جس کے محرک کانگرس کے چند اقدامات تھے جو انہوں نے وزارتيں ملنے کے بعد کئے تھے اور مسلمانوں کو خدشہ پيدا ہو گيا تھا کہ زبردستی انکے نظريات کو اکثريت کے زعم ميں بدلا جا سکتا ہے۔ دوسری بات پاکستان کے عوام سے اگر کبھي کسی نے نہيں پو چھا ہے تو اب پوچھنا چاہيے اور انشااللہ جلد ہي ايسا وقت آ جائے گا کہ عوام کے بغير کچھ نہيں کيا جا سکے۔۔
    اور منزہ آپکا بہت شکريہ کہ آپ اس بلاگ پر آئی ہيں اور اپنی رائے کا اظہار کيا ہے۔ليکن ميں اپنے ديکھے ہوئے کي بنياد پر آپکي بات سے متفق نہيں ہوں کہ دونوں ممالک کي ثقافت ميں کوئي فرق نہيں رہ گيا۔ بہت زيادہ فرق ہے يہاں نيويارک ميں ہمارے بہت سی بھارتی فيميليوں کے ساتھ تعلقات ہيں اور جيسے وہ رہتے ہيں ہم نہيں رہتے نا وہ ہم جيسے رہتے ہيں۔ اگر ميڈيا کي وجہ سے آپ ايسا کہہ رہی ہيں تو پاکستاني ميڈيا دو فيصد لوگوں کي نمائيندگي کرتا ہے۔ اور اس رہن سہن کو حکومتي سطح پر ہر طرف لاگو کيا جا رہا ہے۔ 

    Posted جہانزيب

  16. Anonymous says:

    asalam o alikum
    sahi baat kahi ha ap na munazza…k jab ghar ghar mein wohi kuch horaha ha toh ham hakoomati satah per kion ye pretend karein…toh kia ik burayee ko support karnay k lia ham pehly buraye ka reference dekhain gy ab…ghlat ho raha ha jo kuch horaha ha or mazeed buhat kuch ghlat ho jaye ga…yaqeen karein jitna nuqsan hamein india ki saqafat sy , unkay media sy , unki muasharat sy hua utna shyed hi humein kisi or sy hua ho…ik zamana tha jab sonia ganshi na kaha tha k” hum pakistan ko pehly hi saqafati jang harra chukay hain” us waqt buhat ihtejaj hua tha parliment mein..likin ab mujhy lagta ha waqaye hum har chukay hain
    yehi toh baat ha na..apko nhi lagta k hum dosti ka hath barhatay barhaty unkay qadmoun mein gir rahy hain…chahy wo baat hamri actresses ki ho ya hamarya politicians ki..
    ik tareeqa dosti or dushmani k darmiyan ka ye bhi toh ho skata ha..hum dono apni apni identities ko barqarar rakhy huay ik dosry ko bardasht karein…nhi??
    aor ap dosti ki baat karti hain….mujhy ye bhi sab dramma hi lagta ha…hum kabhi itni poorani dushmani ko mitta hi nhi saktay…atleast jab tak kashmir ha…aor dosti mein nuqsan bhi shyed hamara hi ha..ap mujhy abtein hamari konsi industry ha jo india sy compete kar sakay..

    aor nip bhai…mein na ye kab kaha ha k 2 qoumi anzreya mein ye tha k pk or india achy hamsaye ki trha nhi reh saktay..likin dosti or dushmani k darmiyan bhi ik rasta ho skata ha bardasht karny ka
    aor rahi baat awaam sy pochnay ki…toh mujhy wo bhi nhi lagta..jahan ki awaam ko apna jaiz haq lenay k lia bhi itna khuwar hona paray..jahan raatoun raat petrol sy la kar her cheez ki qeemtein bagher pochy ziada kar dee jaein..aor jahan ratoun raat soday-bazi ho wo bhi awam sy bagher pochy….wahan ye tawaqo rakhna hi fazool ha

    aor nip bhai…ik zamana tha jab hamari or unki saqafat mein buhat farq tha…ab kia reh gia ha?? basant wo bhi manty hain..or hum bhi even sarkari sata per manaty hain, holi wo bhi manaty hain, hum unsy ziyada josh sy unky hi programme tv pr dekhtay hain….wahan unki koi film shyed baad mein ati houn hamaray haan pehly hi black mein aa jati ha…ap ik din dekhain gy na..ap per koia ser nhi hoga, 2 din , 3 din 4thy din apky bhi zehan pr aser hoga…pather nhi hain ham insan hi hai..ziyada dur kion jatay hain..ap sirf hamaray 10-15 saal pehly k dramas ko aor aj kal k dramas ko dekh lein pata chal jayega apko
    kia hasil hua hamein is dosti k nateejay mein..kia? 

    Posted tashfeen

  17. Anonymous says:

    walaikum assalam warahmatullah-e-wabarakatuhu
    tashfeen, aap ne bilkul sahee kaha ke awam ki raey ka ehtaram pakistan mein hona deewane ka khwab hi hai; hamaree saqafat sirf media ki had tak hi bharati saqafat se mutassir nahee hai; ab to bas aik nam ka mazhab ka farq reh gaya hai. ab jo main kahoon gi wo shayad generalizations per mabni ho laikin aik aise pakistani ki ghalti samajh ker muaf ker dijiye ga jis ne pakistan ko koi chhay sal se qareeb se naheen dekha. kya hamaray baray shehron main baccha baccha date per naheen jata? han haves aur have-nots ka farq abhee bhee hai balkay main to kahoon do alag alag dunyaaein hain jo karachi aur lahore jaisay shehron mein basti hain: aik wo jin ki dastaras mein buhat kuch hai aur aik wo jin ke naheen hai. jo log afford ker saktay hain unhi per globalization ka asar bhee sab se zyada tezi se hua hai, aur zaroori naheen ke ye koi buri bat ho. meri apni walda se kal yehi behes ho rahi thee ke jab hamaray logon mein aur bharat ke logon mein kuch zyada farq nahee (zehni tor pe) to phir ham kaise peechhay reh gaey. kyoon india ki economy ham se kaheen zyada tezi se barh rahi hai aur is ke charche maghribi mumalik mein ho rahay hain jabke pakistan ka kaheen ziker naheen aata. main naheen man sakti ke pakistan mein corruption hai aur india mein naheen hai. baaz logon ko ye explanation bhi buhat bhati hai ke pakistani fitratan chalak hota hai aur her pher zaroor kerta hai. is se zyada bewaqoofon wali bat mujhe aur koi naheen lagti: aisa kaise ho sakta hai ke aik poori quom bunyadi tor per hi aisee ho? aik aur bat jo buhat se log kehte hain wo ye hai ke ham abhee tak islam ko pakar ker baithay huay hain (hukoomati satah per, i.e. no separation of church and state) isi liyay utni taraqqee naheen ker paey jitni bharat ne ki, laikin meri nazar mein iska talluq taraqqee se naheen hona chahiye. han jab islam ko sayasat mein madgham ker diya jaey (maslan, “amreeka shaitan hai” ka naara) tab kharabi shuroo hoti hei kyoonke phir islam ke nam per taraqqee ke rastay bhee band ker diyay jatay hain. meri ammee ka khayal hai kay jab ham ne mayar ko chhor ker quota system shuroo ker diya tabahi waheen se shuroo hui. pata naheen sach kya hai.

    jahanzaib aap ka bhee shukriya ke itni bak bak ke bad bhee aap ne mujhe apni shakal gum kerne ko naheen kaha. ho sakta hai ny main aap ka wasta buhat tarha ke logon se parta ho, laikin mera mushahida yehi hai kay diaspora mein to pakistani aur bharti saqafat ka farq aur zyada bay-ma’ani ho gaya hai.  

    Posted munazza

  18. Anonymous says:

    منزہ جو آپ کہہ رہی ہيں کہ بچہ بچہ ڈيٹ پر جاتا ہے ايسی بھي بات نہيں ہے۔اصل ميں صرف پاکستان ہی نہيں دنيا بھر کے ممالک ميں جو بڑے شہر ہيں وہ باقي تمام ملک کي نسبت آزاد خيالي يا دوسرے الفاظ ميں ماديت پرستی کي طرف رجھان رکھتے ہيں۔ مثلا آپ نيو يارک کي مثال لے ليں جہاں کہ فيملي سسٹم تقريبا ختم ہو چکا ہے مگر جب آپ نيو يارک سے باہر نکليں تو امريکہ ميں لوگ فيمليز کے ساتھ رہ رہے ہيں۔ اسی طرح پاکستان ميں سوا چند بڑے شہروں کے ايک مخصوص طبقہ کے آپکو ايسا کہيں نظر نہيں آتا ہے۔ اگر کچھ پاکستانی جو شراب پيتے ہوں اسکا مطلب يہ نہيں کہ ہماری پوری ثقافت ہی ايسے ہو گئی ہے۔ ليکن مسلہ يہ ہے کہ ان چند لوگوں کي اجارہ داری قائم ہو چکی ہے ملک ميں۔ ہمارا اپنا قصور بھي ہے اس ميں کہ انکے خلاف سب باتيں کريں گے ليکن جب وقت آئے گا تو انہيں کو ووٹ ديں گے اور خود يہ کہہ کر کنارہ کش ہو جاتے ہيں کہ سياست دان برے ہيں۔
    دوسرا مسلہ کہ آپ مذہب اور سياست کو الگ کرنے کی بات کر رہی ہيں۔ جبکہ ميرے خيال ميں ايسا صيح نہيں ہے۔ مذہب کے اصولوں سے اگر ہم اچھی زندگی گزار سکتے ہيں تو اس کے اصولوں کو سياست ميں کيوں لاگو نہيں کر سکتے ہيں۔ اور اگر آپ کو سيکولر نظام اچھا لگتا ہے تو دنيا ميں کس ملک ميں سيکولر نظام نافذ ہے۔ چليں آپ امريکہ ميں رہتی ہو کيا پٹرياٹ ايکٹ کو ايک مخصوص مذہب کے ماننے والوں کے خلاف استعمال نہيں کيا گيا اور جا رہا ہے؟ ايک طرف تو يہ کہا جاتا ہے کہ يہاں بولنے پر کوئی پابندی نہيں ہے اور ايک طرف کچہ مذہب کے لوگوں کو انکے بولنے پر ديس نکالا دے ديا جاتا ہے۔ 

    Posted جہانزيب

  19. Anonymous says:

    kisi danishwar ne kaha hai: “In theory, theory and practice are the same. In practice, they’re not.” islami jamhooriyat sunnay mein buhat accha lagta hai. mein ye sabit kerne ki koshish naheen ker rahi ke koi aik nizam doosre per foqiyat rakhta hai ya kisi aik nizam ko dunya bhar mein nafiz hona chahiye. har mulk ki apni zarooriyat hoti hain. america jaise mulk mein jahan tarha tarha ke mulkon aur mazahib ke log hon wahan secular nizam he behtareen hai. pakistan, jahan 97% abadi musalmanon ki hai, wahan islami jamhooriyat nafiz kerne main koi burai naheen AGAR mulk ko chalane walay sahi hon. pk mein jab sayasat aur mazhab ko mila dete hain to phir taqat ko apne maqasid ke liyay istamal kiya jata hai. phir islam ki bhee koi aik interpretation to naheen hai. aik maslak walay agar iqtidar mein aaein ge to baqi sab ka jeena haram ker dein gay. aur jamhooriyat ki to hamaray han bat hi chorain. aise mein kya sayasi islam ka ghalat istamal naheen ho ga? aur phir jab aap danday kay zor per islam nafiz kerain ge to awam ka dil uchat naheen ho ga? islam mein jab koi compulsion naheen hai to phir hukoomat kyoon zor zabardasti se saron per dopattay urhaey?

    bat sari aa jati hai ke kis kay hath mein taqat hai. aap ne patriot act ki bat ki. kya ye taqat ka ghalat istamal hai? han, bilkul. laikin is se ye sabit naheen hota ke america ka secular nizam chalta hi naheen. mazhab aur hukoomat ko alag ker dene ka ye matlab naheen ke qom ladeen ho gaee, is ka suboot aap america mein dekh hi rahay hain. log apni zati zindagi mein jo bhee yaqeen kerte hon, chahay wo abortion ho ya same-sex marriage, aap ko buhat se aise log milain gay jo buhat mazhabi hain laikin phir bhee abortion or same-sex marriage ban naheen kerwana chahtay.

    shayad mere pakistani saqafat ke baray mein jo khayalat hain wo ghalat hon, laikin mera khayal hai aap ki baray shehron wali bat india per bhee lago hoti hai. wahan bhee baray shehron mein zindagi chhotay motay gaaon se buhat mukhtalif ho gi.

    itni taqreer to main ne jhar li laikin mere pas maslay ka koi hal naheen hai. hukoomati nizam chahay kuchh bhee ho, jab tak asal jamhooriyat naheen aaey gi tab tak iqtidar ke bhookay log hukoomat mein aatay rahay gein, aur chahay wo secular nizam ho ya islami, apni taqat ka ghalat istamal zaroor kerain gay. (ab aap kahain ge ke america mein to jamhooriyat hai phir yahan ka president aisa gadha kyoon hai, to is ka bhai mere pas koi jawab naheen hai.)  

    Posted Anonymous

  20. MH says:

    that last comment was mine, by the way.

  21. Anonymous says:

    منزہ۔ آپ صيح کہہ رہی ہيں کہ پريکٹکل ميں تھيوری اور پريکٹکل ميں فرق ہوتا ہے۔ ليکن يہی تو ميں کہتا ہوں کہ ہم نے اسلامی جمہوريت کو عملي شکل ميں ديکھا کب ہے؟ صديوں سے تو اسلامي نظام کہيں قائم ہي نہيں ہوا ہے مگر ہم اسکے لاگو ہونے پر اور اسکے نقصانات پر بے تکن بول سکتے ہيں۔ جو ہم نے کبھي ديکھا ہی نہيں اسکے خلاف کيسے بول سکتے ہيں۔ يا اگر ہم نے ديکھا ہے بلکہ ديکھا نہيں صرف سنا ہے طالبان کا نافذ کردہ اسلام جس ميں اسلام سے زيادہ اپنی علاقائی قدروں کا زيادہ تحفظ کيا جا رہا تھا۔اسلامي نظام کے خلاف جو ہم دالائل سنتے ہيں زيادہ لا ديني عناصر کا پروپيگنڈہ ہوتا ہے جن کو اسلام کے بارے ميں خود کچھ نہيں پتا ہوتا۔
    دوسری بات آپ کی کہ زبردستی کرنا تو قرآن ميں کہہ ديا گيا ہے کہ دين کے بارے ميں کوئی زبردستی نہيں۔ البتہ اگر کوئی قانون ہے يہ نہيں کہ ايک اسلامي رياست کا قانون بلکہ کسي بھي رياست کا قانون تو اسکو لاگو کرتے وقت حکومت کو زبردستی کرنا پڑتا ہے اور اسکا ايک ڈر رکھنا پڑتا ہے نہيں تو وہ نافذ نہيں ہو سکتا۔ اس کی مثال کہ اگر مجھے ٹکٹ کا ڈر نہيں ہو تو ميں بے دريغ گاڑی بھگاؤں ٹريفک قوانين کا احترام بھی نا کروں ليکن مجھے اس بات کا ڈر ہے اور اس وجہ سے ميں قانون شکنی نہيں کرتا۔  

    Posted جہانزيب

  22. Anonymous says:

    deeni muamlat mein dar hukoomat ka naheen Allah ka hona chahiyay. main manti hoon kay aik islami mulk kay rahnuma kay ooper mulk ke her bashinday ki zimmaydari hoti hai aur us se poocha jaey ga ke tumhary zer-e-hukoomat ladeenee kyoon berhi, waghaira waghaira. sawal to yehi hai kay kis tarha daur-e-hazir mein islami hukoomat ko kamyab banaya jaey. iran ki misal sab ke samnay hai. wahan jab hukoomat itni sakhti se shariat per amal kerwati hai to logon mein baghawat ka jazba paida hota hai. yehi bat meri samajh mein naheen aati ke agar kaheen khilafat bhee qaim kerne ki koshish ki gaee to uski shakal kya ho gi. 

    Posted munazza

  23. Anonymous says:

    منزہ انسانی فطرت ہے کہ وہ اسي چيز سے خوف زدہ ہوتا ہے جو اس کے سامنے ہو۔ اللہ کا ڈر اگر ايسے ہی پيدا ہو کے انسان سيدھے کام کرنے لگ جائے تو يہ جو اتنا بجٹ پوليس وغيرہ کا ہے اسکی ضرورت نہيں ہوتی بلکہ اللہ کے ڈر سے سب سيدھے کام ہوتے 

    Posted جہانزيب

  24. Anonymous says:

    itni fazool aur baykaar sites dekhta kon hai 

    Posted Anonymous

  25. Anonymous says:

    ye site hai………….hhahahahahaha

    jis ne banayi hai …us ko tu sharam se doob merna chahiye

    Miss

  26. Anonymous says:

    kitni kaali siyaa site hai………black

  27. Anonymous says:

    اتني بے کار سائٹ ديکھتا کون ہے؟
    آپ نا صرف ديکھ رہي/رہے تھے بلکہ تبصرہ بھي کر رہے تھے۔
    يہ سائٹ ہے؟
    نہيں يہ ايک بلاگ ہے 😀
    جس نے يہ سائٹ بنائي ہے اسے شرم سے ڈوب مرنا چاہيے۔
    جي اچھا۔ اب اگلي دفعہ فرمائش کے ساتھ نام لکھنا نا بھولئے گا۔
    کتني کالي سياہ سائٹ ہے۔
    جي دنيا اس رنگ کو گرے کہتی ہے آپ کو رنگوں ميں امتياز بھي سيکھ لينا چاہيے اب۔
    اور شکريہ اپنا اور ميرا وقت برباد کرنے کا 

    Posted جہانزيب

  28. Anonymous says:

    parhny mein yahan replies ayee thee..oper sy neechy tak parhty parhty mujhy hansi aa gayi ha 

    Posted tashfeen

تبصرہ کیجئے

اس بلاگ پر آپ کے تبصرہ کی حوصلہ افزائی کی جاتی ہے
اگر آپ اپنے تبصرہ کے ساتھ تصویر لگانا چاہتے ہیں، تو یہاں جا کر تصویر لگائیں ۔