تبدیلی

Saturday,6 November 2010
از :  
زمرات : پاکستان, امریکہ, سیاست

صدر براک اوبامہ کی شخصیت کے سحر سے امریکی عوام آہستہ آہستہ نکل رہے ہیں، جس کا اندازہ حالیہ ہونے والے وسط مدتی انتخابات کے نتائج سے لگایا جا سکتا ہے، جس میں ریپبلکن پارٹی نے ہاوس میں اکثریت حاصل کر لی ہے ۔ اور بہت سے لوگ اب براک اوبامہ کو یک مدتی صدر کہنا شروع ہو گئے ہیں، حالانکہ یہ بات بعید از قیاس ہے، اس سے پہلے سابق صدر بل کلنٹن بھی انہی حالات سے گذر کر دوسری مدت کے لئے صدر منتخب ہو چکے ہیں، اور اس کے علاوہ فی الحال ریپبلکن پارٹی کے اندر سے ایسی کوئی شخصیت سامنے نہیں آ پا رہی جو براک اوبامہ کی ذاتی مقبولیت کے لئے خطرہ ہو، آ جا کر سارہ پیلن ہے جو فائدہ سے زیادہ تباہ کن ثابت ہو سکتی ہے، اسی کو مد نظر رکھتے ہوئے ریپبلکن پارٹی کے کرتا دھرتا سارہ پیلن کو ۲۰۱۲ سے پہلے غیر متحرک رکھنے کی تدابیر سوچ رہے ہیں ۔

لیکن اوبامہ تبدیلی کے دلکش نعرے کے ساتھ میدان میں آئے اور اپنی صدراتی مہم کے دوران پاکستانی افواج کے طرف سے خاطر خواہ اقدامات نہ کرنے کی صورت میں امریکی افواج کا بذات خود پاکستان میں آپریشن کا عندیہ دے کر اپنے خیالات کا واضح اظہار کر چکے تھے، مگر پھر بھی پاکستانیوں کو ان سے بہت سی امیدیں وابستہ تھیں، حیرت انگیز طور پر اپنی صدارتی مہم کے دوران اوبامہ بیرونی ممالک میں امریکہ سے زیادہ مقبول تھے ۔

امسال براک اوبامہ بحثیت امریکی صدر پہلے افغانستان گئے، اور اب ان کا حالیہ دورہ جاری ہے جس میں چار ایشائی ممالک کا دورہ جاری ہے ۔ پاکستان کے بارے میں یہ تبدیلی آئی ہے کہ پہلی دفعہ کوئی امریکی صدر ہندوستان تو جا رہا ہے لیکن پاکستان جو کہ خطہ کا اہم ملک ہے اور نیٹو ممالک کے بعد امریکہ کا سب سے بڑا اتحادی ہے کا دروہ نہیں کیا جا رہا، اس سے پہلے سابق صدر بل کلنٹن کے دور میں بدترین حالات میں جب ملک میں مارشل لا تھا اور جمہوری حکومت ختم کر کے پرویز مشرف چیف ایگزیکٹو بنے ہوئے تھے، تب بھی صدر کی جانب سے دونوں ممالک کا دورہ کیا گیا تھا ۔ حالانکہ اس وقت خیال کیا جا رہا تھا کہ مارشل لاء کی وجہ سے امریکی صدر پاکستان کا دورہ شائد نہیں کرِیں گے ۔ ویسے تو ڈیموکریٹ پارٹی ہمیشہ سے پاکستان کی نسبت ہندوستان کے زیادہ قریب تصور کی جاتی ہے، لیکن ان حالات میں جب دہشت گردی کے خلاف جنگ میں ایک اہم اتحادی، جسے سب سے زیادہ ڈو مور کا الاپ سنایا جاتا ہے کا دورہ نہ کرنا کیا مثبت تبدیلی ہے؟ کیونکہ تبدیلی مثبت اور منفی دونوں طرح کی ہو سکتی ہے اور پاکستان کے حوالے سے حالیہ تبدیلی مثبت بالکل بھی نہیں ہے ۔

حالانکہ پاکستان کو یہ کہہ کر تسلی دی جا رہی ہے کہ اگلے سال ملیں گے اور تب ہندوستان نہیں جائیں گے ۔ لیکن سوال یہ ہے کہ آیا پاکستان سے اس طرح قطع نظر کرنا حکومت پاکستان کی کوتاہی ہے یا امریکہ کی ہٹ دھرمی؟

عید مبارک

Friday,10 September 2010
از :  
زمرات : نیو یارک, میری زندگی, مذہب, امریکہ

آج خیر سے پورے امریکہ میں اکھٹی عید ہے ۔ اس خوشگوار موقع پر میری طرف سے سب بلاگ پڑھنے والوں کو عید مبارک اور میری عیدی سیلاب فنڈ میں جمع کروانا نہیں بھولئے گا ۔

تماش بین

Saturday,21 August 2010
از :  
زمرات : پاکستان

کسی نے شاعر نے کہا تھا “ظلم پھر ظلم ہے بڑھتا ہے تو مٹ جاتا ہے” یہ کیسا اندھیر ہے جس کا اخیر ہی نہیں ہو رہا ۔ جس امت کا منشور ہی برائی کو روکنا ٹھہرایا گیا تھا، ہاتھ سے زبان سے وہ امت تماش بین بن گئی ۔ اور جو قومیں ظلم ہوتا دیکھ کر تماش بین بن جاتی ہیں اں کی بربادی کا تماشہ دنیا دیکھتی ہے ۔
اتنی بے حسی دو نوجوانوں کو سرعام قتل کر دیا جائے اور کوئی روکنے والا موجود نہیں، سب تماشا دیکھنے والے ۔ جس دین نے دشمنوں کی لاشوں کو بھی حرمت بخشی اس کے پیرو اپنے ہی امت کے لوگوں کی میتوں کو سربازار رسوا کرنے لگ گئے ہیں ۔ جو مثالیں تو عمر رضی اللہ تعالی عنہ کی دیں کہ اگر ایک کتا بھی بھوک سے مر جائے تو عمر اس کا جوابدہ ہے، وہ دو انسانوں کی بے بسی کا تماشا دیکھنے لگیں ۔ اس سے بڑا ظلم اور کیا ہو گا؟ ایسے ہی حالات کے بارے میں قانون قدرت ہے کہ ایسی قوموں پر کسی دوسرے گروہ کو مسلط کر دیا جاتا ہے ۔
بٹر کے مکینو، کیا ایک بھی خدا خوفی رکھنے والا تم میں موجود نہیں رہا؟ ایسا ظلم کمایا ہے تم لوگوں نے کہ تمہاری پوری بستی بھی اجڑ جائے تو غم نہیں ۔ وحشت اور بربریت کا ایسا الم ناک مظاہرہ کہ وحشی بھی لرز اٹھیں، انسان اتنا بے رحم کیسے ہو سکتا ہے؟
میری اللہ سے التجا ہے کہ اس ظلم کے کمانے والوں کو دنیا میں عبرت کا نشان بنا دے اور آخرت میں ذلیل و رسوا کرے ۔

باشعور قوم

Wednesday,11 August 2010
از :  
زمرات : پاکستان, سیاست, سیاست

ایک ہندو واقف کار نے مجھ سے سوال کیا  “کیا وجہ ہے کہ پاکستان کے دیگر علاقوں کی بہ نسبت پنجاب کے رہنے والے ہندوستان کے زیادہ مخالف ہیں؟” میں نے اسکا جواب دیا کہ شائد پنجاب والوں نے تقسیم کے دوران سب سے زیادہ فسادات کا سامنا کیا تھا، اور میرے والد کی نسل تک کے افراد نے  اپنی آنکھوں سے اجڑے ہوئے خاندان دیکھے تھے ۔ جس کا ردعمل ناگزیر تھا ۔

پھر ہمارے ملک کی “باشعور” جماعت کے ادنی کارکن کے انہی اہل پنجاب کی طرف اشارہ کر کے ” جو لوگ سوئے تو ہندوستان کا حصہ تھے اور جاگے تو پاکستان کا حصہ، انہیں پاکستان کا مطلب کیا معلوم؟” جیسے سنہرے ارشاد پڑھنے کا بھی اتفاق ہوا ۔ جن پر لعنت بھیج کر میں اپنے کاموں میں مصروف ہو گیا ۔

لیکن اس “باشعور طبقہ” کے افراد  بے سروپا باتوں کا کوئی موقع ہاتھ سے نہیں جانے دیتے، اور مجبور کرتے ہیں کہ ان کی تاریخ ان کے منہ پر دے ماری جائے ۔ خاور کے بلاگ کی تحریر پر تبصرہ فرماتے ہوئے “باشعور قوم” کے  ایک فرد نے جو تبصرہ کیا ہے، اسے بلاگستان میں ایک کلاسیکی تبصرہ کا درجہ حاصل ہے ۔ جس تبصرے کا آغاز تحریر کو متعصب قرار دینے سے ہوا، اُسکا پیٹ صرف تعصب ہی سے بھرا گیا ہے اور اختتام اس بات پر کہ میرا تو کسی تنظیم سے تعلق نہیں بلکہ ہم تو حق کو حق کہنے والے ہیں، اسی موقع کی مناسبت سے پنجابی میں محاورہ ہے “رووے یاراں نوں لے لے ناں بھرواں دے” ۔

تو میرے باشعور قوم کے فرد جب آپ کے اجداد درختوں میں اُلٹا لٹک کر رات بسر کیا کرتے تھے، اس وقت ہمارے ہاں کئی تہذبیں جنم لے چکی تھیں جنہیں آپ گندھارا، ہڑپہ اور موہنجو دڑو کے نام سے شائد پہنچانتے ہوں گے ۔ جب آپ کے اجداد کو قبیلہ کی “ق” کا بھی علم نہیں تھا ہمارے ہاں شہر بسائے جا رہے تھے جسے آپ دریائے سندھ کی تہذیب کے نام سے شائد جانتے ہوں ۔ لیکن شائد آپ کے علم کی وسعت یہاں تک پہنچنے سے قاصر ہو، یا حقیقت میں ان زمانوں تک جاتے وقت  آپ کی نسل ہی کہیں بیچ میں روپوش ہو جاتی ہو، کیونکہ اس وقت تک آپ کے اجداد لکھنے سے بھی قاصر تھے ۔ تو جس شعور کی باتیں آپ کر رہے ہیں وہ آپ کے آباء نے ہمارے آباء سے مستعار لیا ہے ۔

اب دیکھیں نہ جس زبان پر آپ اتنا فخر کرتے ہیں، اس کا آغاز بھی انہیں علاقوں سے ہوا جہاں پنجابی بولی جاتی تھی، کہنے والے تو آپ کی زبان کو جدید پنجابی بھی کہتے ہیں ۔ اب اس باشعور قوم کے بارے میں میں کیا عرض کروں جس کو نہ صرف پاکستان کا تصور  “جاہل قوم” کے فرد نے دیا بلکہ نام اور قومی ترانہ تک اسی “جاہل قوم” کے افراد نے دیا ۔
آپ کے اجداد کا الم ناک باب جو ہجرت کے نام منسوب ہے اور جسے آپ کسی موقع پر استعمال کرنے سے دریغ نہیں کرتے، تاریخ انہیں پنجاب کے فسادات کے نام سے جانتی ہے، اور جن ۲۰ لاکھ کا رونا آپ روتے ہیں ان کی اکثریت پنجابی تھی، جو اپنا سب کچھ لٹا کر یہاں آ گئے تھے ۔ ان میں سے کسی کا ماموں، پھوپھی، تائی اور نانی وہاں موجود نہیں ہے ۔ آپ کے اجداد چونکہ باشعور تھے اس لئے آدھے خاندان وہاں اور باقی جہازوں اور ریل پر بیٹھ کر یہاں بہتی گنگا میں ہاتھ دھونے مطلب کلیم حاصل کرنے  اس غرض سے یہاں آئے تھے کہ بعد میں سب کچھ دوبارہ ٹھیک ہو جائے گا ۔ اسی وجہ سے آپ کی باشعور جماعت کا ایک مشن “کھوکھرا پار” کھلوانا ہے  تاکہ عزیزوں سے رابطہ بحال ہو جائے ۔ جن کو آپ مشورہ نما طعنہ “احسان مانو انکا کے انہوں نے تمہیں گھر بیٹھے ہی آزادی دلوادی” دے رہے ہیں، وہ سب تو اپنا سب کچھ لٹا کر یہاں آئے تھے، پورے پورے خاندان میں ایک آدمی یہاں تک پہنچ پایا تھا ۔ آپ یا آپ کے اجداد نے ان پر کونسا احسان عظیم کیا ہے؟

وضاحت: یہ تحریر خالصتاً تعصب پر مبنی ہے، اور اس مقصد کے تحت لکھی گئی ہے کہ شائد “باشعور لوگ” اپنے گریبانوں میں جھانک سکیں ۔ ہر انسان میں تاریک اور روشن دونوں پہلو موجود ہوتے ہیں، اسی طرح یہ دونوں مجھ میں بھی موجود ہیں، البتہ تاریک پہلووں کو منظر عام پر اس نہج سے پیش کرنا کہ ان میں فخر کی جھلک ہو کبھی میرا مقصود نہیں رہا ۔ اس تحریر سے بلاشبہ بہت سے ہجرت کر کے آنے والوں کی دلشکنی ہو گی اور میں اس سلسلے میں ان سے معذرت خواہ ہوں ۔ تحریر کا اصل محرک جند مخصوص افراد ہیں جو کہ سیاسی مقاصد کے لئے ہجرت کا نہ صرف پرچار کرتے ہیں بلکہ اس کی بنیاد پر دیگر طبقہ کو کم تر اور اپنے احسان مند ثابت کرنے کی ہر ناچار کوشش کرتے ہیں ۔ میری درخواست ہے کہ تحریر کو پڑھنے کے بعد متعلقہ تبصرہ پڑھ لیا جائے، تا کہ تحریر کا اصل محرک اور سیاق و سباق سمجھنے میں آسانی ہو ۔

کیا کہیے گا؟

Monday,12 July 2010
از :  
زمرات : پاکستان, مذہب, امریکہ

ایرک ہولڈر امریکہ کے اٹارنی جنرل ہیں، امریکی حکومت کے اقدامات پر قانونی مشورہ جات اور ان کی پیروی کرنا ان کے فرائض منصبی میں شامل ہے ۔ ان کے پاس جعلی ڈگریوں اور ان سے نپٹنے جیسے اہم مسائل تو نہیں آتے لیکن دہشت گردی کے خلاف جنگ اور اس پر امریکی حکومت کے موقف جیسے چھوٹے چھوٹے مسائل درپیش رہتے ہیں، حالانکہ دونوں طرح کے واقعات میں ہر فریق کو خوش بھی رکھنا ہوتا ہے، جو بذات خود ایک علیحدہ درد سری ہے ۔

صدر اوبامہ کے اقتدار سنبھالنے کے بعد سے امریکی حکومت نے دہشت گردوں سے نپٹنے کے لئے ایک نئی حکمت عملی اختیار کی ہے، دہشت گردوں کو کسی مذہب سے نتھی کئے بغیر صرف دہشت گرد کہنے پر زور دینا اس حکمت عملی کا ایک حصہ ہے ۔ اور اس بارے میں استدلال یہ ہے کہ دہشت گرد ایک بہت چھوٹا گروہ ہے جو خود کو مذہب کے لبادے میں لپیٹ کر اپنے دائرہ کار کو مذہبی بنیادوں پر بڑھانا چاہتے ہیں، جبکہ حکومت کی طرف سے نادانستگی میں انہیں مذہب سے جوڑ کر ایک طرح سے ان لوگوں کی مدد کی جا رہی ہے، ایک دہشت گرد کو بنیاد پرست مسلم دہشت گرد کہنے سے کسی حد تک باقی مسلمان اسے مختلف انداز سے دیکھنے لگتے ہیں، اور دہشت گرد جس مقام یعنی کہ مسلمان حلقوں میں پذیرائی کے لئے تگ و دو کر رہے ہیں، اس کے زیادہ قریب ہو جاتے ہیں ۔

اس کے برعکس قدامت پرست حلقوں کی جانب سے یہ استدلال کیا جاتا ہے، کہ جب تک ہم دشمن کو صیحیح سے پہچان نہیں لیتے اس کے خلاف اقدامات کیسے کئے جا سکتے ہیں؟ دہشت گردوں کے اقدامات کے پیچھے ایک واضح سوچ اور فکر ہے جو کہ بنیاد پرست اسلام ہے، اور دشمن کی درست شناخت کے لئے بنیاد پرست اسلام کہنا درست قدم ہے، اور ساتھ یہ بھی کہ یہ درست ہے کہ سب مسلمان دہشت گرد نہیں نہ ہی ان سے ہمدردی رکھتے ہیں لیکن یہاں ہم بنیاد پرست اسلام کی بات کر رہے ہیں نہ کہ سب مسلمانوں کی ۔ سب مسلمان ہمارے دشمن نہیں ۔

اس ضمن میں ایک دلچسپ صورتحال اس وقت پیدا ہوئی جب ٹائمز اسکوائر کار بم کے ناکام منصوبہ کے بعد ایرک ہولڈر ہاوس جوڈیشری کمیٹی کے سامنے پیش ہوئے، لیمر سمتھ جو قدامت پسند ہیں وہ بار بار ہولڈر کو بنیاد پرست اسلام کہنے پر اکساتے رہے، ایرک ہولڈر ہر دفعہ سوال کو ٹالتے رہے ۔ اس مکالمے کی ویڈیو ملاحظہ فرمائیں ۔

اب کم وبیش ایسی ہی صورتحال سے پاکستان بھی دوچار ہے، کہ آیا یہ جو دہشت گردی کہ نئی لہر اٹھ رہی ہے اسے ہم کیا کہیں؟ طالبان، پاکستانی طالبان کہ آیا پنجابی طالبان یا صرف دہشت گرد؟ کم و بیش اس سلسلہ میں دونوں جانب سے دئے جانے والے دلائل بھی امریکی دلائل سے ملتے جلتے ہیں ۔ لیکن یہاں تھوڑا سا فرق ہے۔ پہلا تو یہ کہ جو مسلمان امریکہ کے دہشت گردی کو بنیاد پرست اسلام سے جوڑنے کو اسلام کے خلاف سازش قرار دیتے ہیں اس صورت میں دہشت گردوں کو قومیت سے ملانے کی کوشش کیسے کر رہے ہیں؟ دوسرا یہ کہ امریکہ میں جس شدومد سے قدامت پرست حلقے دہشت گردی کو مذہب سے جوڑنے میں کوشاں نظر آتے ہیں، پاکستان میں اس کے بر خلاف لبرل حلقے اسی ضمن میں زیادہ کوشاں ہیں ۔
اس سے تو یہ نتجہ اخذ کیا جا سکتا ہے کہ پاکستانی لبرل بھی امریکہ میں قدامت پرست ہیں ۔

عبداللہ دیوانہ

Saturday,10 July 2010
از :  
زمرات : میری پسند, موسیقی

نوٹ : یہاں لفظ شادی استعمال کیا گیا ہے، اسے بلاگ سُنا اور سمجھا نہ جائے ۔
شادی کسی کی ہو دل اپنا گاتا ہے :D

ماحول کا اثر

Thursday,8 July 2010
از :  
زمرات : پاکستان, اردو

آپ اسی کی دہائی میں پاکستان میں پیدا ہوئے ہوں، اور لفظ خلاصہ سے نامانوس ہوں، ممکن ہی نہیں ۔ سونے پر سہاگہ کے مصداق دوران تعلیم اگر کسی ایسے استاد کے ہتھے چڑ جائیں جو ایک عدد خلاصے کے ادیب بھی ہوں، تو کیا کہنے ۔ جماعت نہم میں ہمارے ایک استاد تھے، انہوں نے بھی ایک عدد خلاصہ چھپوایا ہوا تھا، ظاہر سی بات ہے نصاب کی کتابوں کے علاوہ ان کا لکھا ہوا خلاصہ خریدنا بھی شاگرد پر قرض تھا، اور امتحانات میں خلاصہ سے اقتباسات پیش کرنے پر اضافی نمبر ملنے کے مواقع یقنی تھے ۔ وہ ہمیں اردو پڑھاتے تھے ۔ چند جملے خلاصہ میں ایسے تھے کہ ردوبدل کے بغیر ہی ہر جگہ بخوبی استعمال کئے جا سکتے تھے ۔

ایک جملہ جس کا استعمال میں نے ہر بڑے انسان پر مضمون لکھنے سے لے کر غالب کے اشعار کی تشریح لکھتے وقت، ہر مقام پر اتنا کیا ہے کہ ابھی تک خواب میں مجھے اس کی بازگشت دیکھائی دیتی ہے، جملہ کچھ یوں تھا “ہر ادیب اور شاعر اپنے ماحول اور گردوپیش کا عکاس ہوتا ہے” چاہے غالب کے شعر کی تشریح ہو یا الطاف حیسن حالی پر مضمون لکھنا ہو، یہ جملہ تمام مقاصد پورا کرتا ہے ۔

میں نے زندگی میں کبھی کسی لڑکی کو نہیں چھیڑا، وجہ میری شرافت نہیں بلکہ اس چھترول کا خوف تھا جو عموماً ہمارے علاقہ میں ایسے مواقع پر ہو جانے کا اندیشہ رہتا تھا ۔ بعد میں پنجاب میں ہر بڑے شہر اور حتی کہ کراچی میں دوران قیام اس بات کا اندازہ ہوا کہ کم و بیش ہر جگہ اس چھترول کا خوف کسی نہ کسی حد تک موجود ہے ۔ بحثیت قوم ہمارے ہاں ایسے مواقع پر خواتین کے خدائی مددگار نمودار ہو جاتے ہیں، ان کا جوش دیدنی ہوتا ہے ۔ پنجاب یونیورسٹی سے فارغ التحصیل افراد سے اس “دبڑ کٹ” کی زیادہ تفصیلات سنی جا سکتی ہیں ۔

اب اردو بلاگستان کو دیکھ لیں، ایک خاتون فرانس سے ایک تحریر لکھتی ہیں ۔ تحریر پر ایک تبصرہ نگار امریکہ سے تبصرہ کرتا ہے، جبکہ اُس تبصرے کا جواب کینیڈا سے موصول ہوتا ہے، اور یوں ایک نئی کہانی چل پڑتی ہے ۔ خلاصے کی بات بلاگستان کے لئے بھی درست لگتی ہے کہ “پر ادیب اور شاعر اپنے ماحول اور گردوپیش کا عکاس ہوتا ہے” ۔

جنت براستہ خود کش جیکٹ

Monday,5 July 2010
از :  
زمرات : پاکستان, مذہب, سیاست

اولیاء کرام سے عقیدت برصیغر میں بسنے والے مسلمانوں میں رچی بسی ہے، اسی عقیدت کی بدولت تقریباً ہر علاقہ میں صوفیاء کے مزار اور خانقاہیں مل جاتی ہیں ۔ اجمیر شریف سے لے کر بھٹ شاہ تک لوگ ان صوفیاء کی محبت کا دم بھرتے ہیں ۔ اسی عوامی پذیرائی کی بدولت ہمارے ایک “بھائی” کو بھی پیر بننے کا شوق چرایا تھا اور عباسی شہید اسپتال میں دوران علاج پتوں پر معجزاتی طور پر ان کے نقوش ابھر آئے تھے وہ علیحدہ بات ہے کہ ڈبہ پیروں کی طرح بعد میں انہیں علاقہ سے فرار ہونا پڑا، بہرحال یہ لطیفہ نہیں حقیقت ہے۔

لاہور نے مغلوں سے لے کر رنجیت سنگھ تک مختلف ادوار میں کئی شاہی دربار دیکھے ہیں، لیکن جو مقام لاہور میں داتا دربار کو حاصل ہے، باقی دربار اس کی گرد کو بھی نہیں چھو سکے۔ اسی داتا دربار میں بد بختوں نے کتنے ہی معصوم لوگوں کی جان لے لی ۔ اس سے بڑا بھیانک مذاق کیا ہو گا کہ جس شخص کی تعلیمات امن کا درس دیتی ہوں وہاں بربریت کی انتہا کر دی جائے ۔

لیکن ٹھہرئے، سوالات تو ذہن میں بہت سے اٹھتے ہیں ،لیکن سب سے اہم سوال یہ کون لوگ ہیں؟ کچھ لوگ بتاتے ہیں کہ دراصل دو عدد “قوموں” کے درمیان یہ تخریب کار چھپے ہیں، جبکہ قرائن بتاتے ہیں کہ یہ بلا تخصیص علاقہ کراچی سے خیبر تک موجود ہیں، اور ایک نظریہ پر متفق ہیں ۔ دوسروں کو پکا سچا مسلمان بنانے کا نظریہ، ان کے نظریے ہیں شائد خود مسلمان بننا شامل نہیں کیونکہ اس طریقہ سے جنت کمانے کے لئے کافی محنت کی ضرورت ہے ۔ مسلمان بننے کے لئے حقوق العباد کو ادا کرنا مقدم جبکہ دوسروں کو مسلمان بنانے کے لئے صرف ایک خود کش جیکٹ کی ضرورت ہے ۔ شارٹ کٹ سے متاثرہ قوم میں جنت کے شارٹ کٹ کے طریقہ ایجاد کر لیا ہے ۔

نوٹ: ڈیٹا بیس کی خرابی کی وجہ سے اس تحریر کے تمام تبصرے خذف ہو گئے ہیں۔ معذرت

یکیاں

Wednesday,23 June 2010
از :  
زمرات : اردو

یک سطری باتیں کرنے میں گزرے ہوئے دانشوروں کو کمال حاصل ہے، زندہ دانشوروں کو شائد مختصر بات کرنے میں الجھن ہوتی ہے یا پھر جب تک وہ گزر نہیں جاتے لوگ ان کو دانشور کا درجہ دینے کو تیار نہیں ہوتے ۔ آپ اس پر تحقیق کر لیں جتنے اقوال زریں آپ پڑھتے ہیں، ان کے خالق اپنے خالق سے جا ملے ہوتے ہیں ۔
البتہ ایک بات طے ہے کہ ان سب اقوال میں آسانی سے بہت ہی گہری بات کہہ دی جاتی ہے کہ پڑھنے والا دیر تک عش عش کرتا رہ جاتا ہے، اور جب بھی عش عش کرنے والی بات کی مثال دینے کا پوچھا جائے تو مجھے وارث شاہ کا ایک شعر ہی ہمیشہ یاد آتا ہے، وہی ادھر ایک دفعہ پھر یہاں چھاپ دیتا ہوں ۔
وارث مانڑ نہ کر وارثاں دا
رب بے وارث کر ماردا ای۔

لیکن اب اردو بلاگستان میں بھی ایسے دانشور پیدا ہو گئے ہیں جو یک سطری تبصرے سے زیادہ زخمت گوارہ نہیں کرتے ۔ اپنے تئیں یک سطری تبصروں کے ان دانشوران کے تبصرے “یکی” [پنجابی۔ اس کی اردو ایجاد نہیں ہوئی] کے سوا کچھ نہیں ہوتے ۔ ان کے تبصروں کی سب سے خاص بات تبصرہ کردہ تحریر سے میل نہ کھانا بلکہ اس تحریر کے تبصروں پر تبصرے ہونا ہے بلکہ تبصروں کی بجائے تبصرہ نگاروں پر تبصرے کرنے کا رجحان، دانشوران میں زیادہ پایا جاتا ہے۔ بالفرض محال اگر آپ کے پاس پانچ منٹ سوچنے کا وقت ہے تو “تنی منٹی” آپ کو اندازہ ہو جائے گا کہ تبصرہ اصل میں ایک اعلی نسل کی “چول” کے سوا کچھ نہیں تھا ۔ تبصرے کا مقصد صرف دوسرے فریق کو زچ کرنا تھا ۔

لیکن یہ حیرت کا دور ختم ہونے سے پہلے ہی اس یک سطری “چول” پر چھ سو چونسٹھ الفاظ پر مشتمل ایک عدد تبصرہ وارد ہو جاتا ہے اور جواب آں غزل کی صورت میں ایک “چوندی چوندی” یک سطری “چول” پھینک کر کمپیوٹر کے سامنے بیٹھا بلاگی دانشور منہ پھاڑ کر قہقہہ لگاتا ہے۔ مجھے یک سطری دانشوران کی نسبت چھ سو چونسٹھ الفاظ والے تبصروں پر دکھ ہوتا ہے، کیونکہ یک سطری دانشوران کی مثال ایسے دیکھنے والے کی طرح ہے جو دیکھ کر کچھ نہیں دیکھتا اور سن کر بھی کچھ نہیں سنتا، جس تبصرے کا مقصد ہی زچ کرنا مقصود ہو اُس پر اپنی توانائیاں ضائع کرنے کا فائدہ، کیونکہ پنجابی میں کہتے ہیں کچھ لوگوں کا “کاں” ہمیشہ چٹا ہی رہنا ہے، لہذا تسی احتیاط کرو۔ کیچڑ سے بچ کر چلنے سے ہی کپڑے صاف رہ سکتے ہیں “چھال” مارنے سے نہیں ۔

بھیانک غلطی

Wednesday,2 June 2010
از :  
زمرات : اردو

میری گذشتہ تحریر پر تبصرہ کرتے ہوئے ہندوستان سے شعیب نے گوگل مترجم میں ایک غلطی کی نشاندہی کی تھی، جو غلطی سے زیادہ کسی کی شرارت معلوم ہوتی ہے ۔ یہ شرارت گوگل میں کام کرنے والے کسی ہندوستانی کی بھی ہو سکتی ہے یا Contribute better translation کا استعمال کرتے ہوئے ایک سے زیادہ لوگوں کی اجتماعی کوشش کا نتیجہ بھی ہو سکتا ہے ۔
Screenshot
تفصیل یوں ہے کہ اگر آپ گوگل پر اردو میں “پاکستان”، “کراچی” اور “افغانستان” لکھ کر ہندی میں ترجمہ کریں تو ہندی میں ان تمام الفاظ کا ترجمہ “بھارت” لکھا آتا ہے ۔ کسی بیچارے کی معصوم خواہش ۔