اِک تیرا پیار

Thursday,2 July 2009
از : جہانزیب  
زمرات : پنجابی

تبصرہ کریں
30 مشاہدات

جنگ اخبار

Monday,22 June 2009
از : جہانزیب  
زمرات : کمپیوٹر

8 تبصرے
108 مشاہدات

روزنامہ جنگ

روزنامہ جنگ


روزنامہ جنگ کی سائٹ گوگل کی مجوزہ “attack site” میں شامل ۔

شرعی ویڈیو

Sunday,5 April 2009
از : جہانزیب  
زمرات : مذہب, پاکستان

13 تبصرے
239 مشاہدات

ایک ویڈیو کیا نشر ہو گئی، لوگوں کا اسلام بدنام ہو گیا۔ دس دس بلاگوں پر اس سازش کو ایسے بے نقاب کیا گیا کہ کیسے امریکہ اور مغربی ممالک اس میں شریک ہیں کہ مجھے شبہ ہونے لگا کہ وہ تمام بلاگرز اس سازش میں برابر کے شریک تھے، جو اتنی تفاصیل سے صفحے کالے کر رہے ہیں ۔
میرے بھائی اگر آپ سمجھتے ہیں کہ اس ویڈیو کا مقصد اسلام کو بدنام کرنا تھا، تو آسان سا حل ہے ایک پیراگراف لکھو کہ میں مسلمان ہوں اور جو بربریت دکھائی گئی ہے میں اس کے خلاف ہوں، اور جن لوگوں نے یہ کیا ہے اُن کا میرے مذہب سے کوئی تعلق نہیں ۔ بجائے رات کو دیکھے خواب صبح بلاگ پر لکھنے سے اس کا اثر زیادہ ہو گا ۔ اور مجھے افسوس ہے کہ ان عقلمندوں کو یہ تو پتہ ہے کہ اس سے اسلام بدنام ہو رہا ہے لیکن اس کی مذمت کرتے زبانیں گنگ ہو جاتی ہیں ۔
ایک طرف ایک تحریر میں قرآن کی آیات پیش کی جاتی ہیں کہ کسی پر الزام لگانے سے ستر اسی کوڑوں کی سزا شریعت میں لاگو ہو جاتی ہیں اور اس سے اگلی تحریر میں لکھ دیتے ہیں کہ “بدکرادر خاتون” کو شرعی سزا دی ہے، پہلے تو جا کر آپ ستر اسی کوڑے کھائیں کہ جس خاتون کو جانتے نہیں اسے بدکردار کس بنیاد پر فرما دیا آپ نے؟
ایک طرف لہک لہک کر ہم دنیا کو قصے سناتے ہیں کہ جو عرب گھڑ دوڑ پر جنگیں چھیڑ لیتے تھے کیسے شریعت نے انہیں پرامن بنا دیا، مدینہ النبی کی ریاست کو مثالی ریاست بتاتے ہوئے آنکھوں سے آنسو جاری ہو جاتے ہیں، دوسرے سانس میں اس شریعت کے حق میں دلائل دینا شروع ہو جاتے ہیں، جس نے لاکھوں لوگوں کو بے گھر کر دیا، جس میں لاشیں کھمبوں پر لٹکائی جاتی ہیں ۔
اس طرح کی شریعت پر سجدہ شکر بجا لانے کے رویہ سے وہ وقت دور نہیں جب اسلام آباد میں آپ کی بیٹی کو سبزی لیتے جاتے کوئی سر بازار یوں لٹا کر کوڑے مارنا شروع کر دے ۔

پاکستانی جرگہ

Tuesday,24 March 2009
از : جہانزیب  
زمرات : پاکستان

11 تبصرے
106 مشاہدات

افتحار چوہدری اپنے عہدے پر بحال ہو چکے ہیں، اور بطور چیف جسٹس انہوں نے اپنے کام کا آغاز کر دیا ہے ۔ پاکستانی لوگ بڑے “بھولے” ہیں، جو سمجھتے ہیں کہ شائد پاکستان میں دائر ہونے والے ہر مقدمہ کی سماعت چیف جسٹس خود کریں گے، اور اُن کے ساتھ انصاف ہو گا ۔ چیف جسٹس ایک شخص ہیں، جبکہ عدلیہ ایک پورا ادارہ ہے ۔ میرا ماننا یہ ہے کہ صرف چیف جسٹس کی بحالی سے عدلیہ آزاد نہیں ہو گئی، البتہ عدلیہ کی آزادی کی سمت یہ ایک اہم پیش رفت ضرور ہے ۔ آنے والے کل میں اگر چیف جسٹس حکومتی اقدامات کے سامنے ڈٹ جانے والا نہ ہوا تو ایک بار پھر یہ سفر صفر سے شروع ہو جائے گا ۔
انگریزی مقولہ ہے “ Power corrupts, absolute power corrupts absolutely” جس کی تشریح یوں ہو گی کہ اگر ہم ایک ہی ذات میں تمام طاقت کو مرکوز کر دیں تو امکان یہی ہے کہ وہ ذات اس طاقت کا غلط استعمال کرے گی ۔ اس کا توڑ مغرب میں یہی کیا گیا ہے کہ اختیارات کی تقسیم یوں ہو کہ بجائے ایک شخص کو اختیارات سونپنے کے ادارے کو اختیارات دئے جائیں ۔ اگر صدر کو سب سے بڑا عہدہ دیا جاتا ہے تو ساتھ ہی سینیٹ یا پارلیمنٹ کی صورت میں اس پر قدغن لگا دی گئی ہے کہ قوانین کے لئے ان سے منظوری ضروری ہے۔ اسی طرح عدالت کو اگر اختیارات دئے گئے ہیں، ساتھ ہی ان اختیارات کو تقسیم کر کے جیوری کو سونپ دیا گیا ہے، جہاں فیصلے جیوری کرتی ہے اور اس فیصلے کی روشنی میں جج قانون کے مطابق سزا یا جزا سناتا ہے ۔

انصاف سب کے لئے۔

انصاف سب کے لئے۔


اب پاکستان میں عدالتی نظام سے متعلق شکایات کا جائزہ لیں، تو سب سے پہلی شکایت انصاف میں تاخیر ہے، خاص طور پر سول کیسز بعض اوقات دہائیوں تک لمبے ہو جاتے ہیں، میرے اپنے ننھیال کی زمین کے تنازعہ کا فیصلہ تقریباً دس سال سے زائد عرصہ میں ہوا، وجہ ہائیکورٹ لاہور میں تھی، جہاں پورے پنجاب سے ایسے ہی مقدمات ایک جگہ اکٹھے ہوئے تھے، اور بعض اوقات ایک “پیشی” کے بعد اگلی تاریخ کئی کئی مہینے بعد کی ملتی تھی، اور اس تاریخ پر پھر لاہور جا کر عدالت حاضر ہونے پر اگلا فریق موجود نہ ہونے پر کئی ماہ بعد کی ایک اور تاریخ ۔ اب اس کا جائزہ یہاں کے تناظر میں لیا جائے، نیویارک شہر پانچ شہروں کو مِلا کر بنتا ہے، اور ہر شہر کی اپنی سپریم کورٹ ہے ۔ اب اگر آپ کو کسی عدالتی کاروائی کا سامنا ہے تو آپ کا فیصلہ اپنے شہر میں ہی نپٹا دیا جائے گا، اس کے خلاف اگر اپیل کرنی ہے تو بھی اس کا فیصلہ اسی شہر کی عدالت میں ہی مکمل ہو گا ۔ صرف کسی وفاقی مقدمہ کی صورت میں شائد آپ کو اپنے علاقہ سے باہر کسی عدالت میں جانا پڑے ۔ ان شکایات کے ازالہ کے لئے ضروری ہے کہ کم از کم پاکستان میں ہر ضلع میں ہائیکورٹ قائم کی جائیں، اور ہر ضلع کا فیصلہ اسی ضلع کی عدالت میں ہو نہ کہ لاہور، کراچی،کوئٹہ، پشاور یا اسلام آباد ۔ اس سے عدالتوں پر مقدمات کا بوجھ بھی تقسیم ہو جائے گا اور مقدمات نمٹانے کی رفتار بھی تیز رفتار ہو گی ۔
دوسری عام شکایت جج حضرات و خواتین کی کرپشن ہے، یہ کرپشن رشوت کی وجہ سے بھی ہو سکتی ہے، اور ججوں کو ڈرا دھمکا کر بھی کی جاتی ہے ۔پاکستان کا مسلہ یہ ہے کہ آزادی تو حاصل کر لی ہے، لیکن پولیس اور عدالتوں کے قوانین وہی ہیں جو ایک غلام ہندوستان پر نافذ کئے گئے تھے، یا انہی قوانین کی بنیاد پر نئے قوانین اخذ کئے گئے ہیں، جن کا مقصد عوام کو کی خدمت سے زیادہ انہیں دبا کر رکھنا تھا، عدالتوں میں مرضی کے جج لگوا کر مرضی سے کسی کو باغی قرار دے کر فیصلے لینا تھا، اور یہی آج تک چلتا آ رہا ہے ۔ اس کا حل صرف ایک ہے کہ ہم اپنی عدالتوں میں پنچائت یا جرگہ نافذ کریں ۔ اس سے پہلے کہ آپ جرگہ یا پنچائت کا نام سن کر ہتھے سے اکھڑ جائیں، یہ تحریر پڑھنا مفید ہو گا ۔ خود غور کریں کہ ایک جج کی بجائے جب ایک مقدمہ کے ثبوت پندرہ سے اکیس افراد کے سامنے پیش کئے جائیں گے، تو کیا ایک فرد کو کرپٹ کرنا مشکل ہے یا پندرہ افراد کو؟ جب پندرہ افراد بھی انجانے ہوں، عام لوگ ہوں، جنہیں ثبوت دیکھ کر یہ فیصلہ کرنا ہو کہ یہ جو شخص جس نے کسی راہ جاتی عورت کو لوٹا ہے، اگر میں اسے چھوڑ دوں گا تو کل کو میری بہن، میری بیٹی، ماں یا بیوی اس کا شکار ہو سکتی ہے ۔ آپ کیا کہتے ہیں وہ عام بندہ اسے رشوت لے کر چھوڑ دے گا؟ میرا ایسا خیال نہیں ہے ۔ میرا یہ یقین ہے کہ پاکستان میں فوری طور پر عدلیہ کو حقیقی معنوں میں آزاد کروانے کی ضرورت ہے، اور غریب آدمی کو انصاف فراہم کروانے کے لئے ضروری ہے کہ غریب آدمی کو عدلیہ کا لازمی جزو بنایا جائے ۔ ہمارے حکمران کبھی نہیں چاہیں گے کہ حقیقی معنوں میں عدلیہ آزاد ہو، اس کے لئے بھی تحریک عوام کو چلانا ہو گی، نہیں تو کیا پتہ اگلا چیف جسٹس افتحار چوہدری جیسا ہو کہ ڈوگر جیسا؟

Facebook | Ringaza Scam

03-07-2009
Posted By : Jahanzaib  
Filed Under : English

One Responded
40 مشاہدات

I’m pissed at Facebook and it’s stupid application known as “IQ challenge”.
Those of you who use facebook must be aware of this so called “IQ Challenge” by some of your friends.I had never tried it before, but was keep getting this challenge from friends to beat their score.Today i have received this challenge again with punch line “two of your friends think you are dumb”(which i now admit), out of curiosity i decided to take the challenge, there were ten dumb questions and in the end it asks your cellphone number to send your result.
I entered my number and received a text message with four digit pin code to enter into field at website to know my score, upon doing that i received another text message which said ” i will be charged $9.99″ on my phone bill, WTF? WHY? i never signed up for any service, and i was not even informed prior to charge that i’ll be charged for that?
but now in my account it says “i will be charged for $9.99 next month same date automatically”, so i started looking for any option to unsubscribe from the service and failed to find any, in text message it did have option to STOP service, by sending text message STOP to 75744, i did so, and received another text message that i’m unsubscribed from this service.
Guess what these text messages are considered premium messages and cost $4.99 each, which makes my total after taxes to $20.05.
Upon googling i found that many people are being gypped by this scam on facebook, what worries me more is ,even after unsubscribing from this service my account page it keeps saying it will recharge next month.
CBS did report on this scam last year, and i wonder why is this still part of Facebook?

If you think you’ve been a victim of a cell phone scam:

According to the FCC, Consumers may submit a general complaint to the FCC at: fccinfo@fcc.gov. If someone has questions or needs assistance filing a complaint, Consumer and Mediation Specialists are available Monday through Friday, 8 a.m. to 5:30 p.m. ET. Call Toll Free: 1-888-CALL-FCC (1-888-225-5322) voice, 1-888-TELL- FCC (1-888-835-5322) TTY.

Or check out the FCC’s cell phone scam information page here.

پہلی نظر میں ۔

Thursday,26 February 2009
از : جہانزیب  
زمرات : پاکستان

8 تبصرے
81 مشاہدات

میرا ایک دوست پاکستان سے امریکہ آیا، اور باہر نکلتے ہی سب سے پہلے جس کالے امریکی کو اُس نے دیکھا، اُس نے گلے میں جوتے لٹکا رکھے تھے ۔امریکہ میں رہنے والوں کے لئے یہ کوئی اچنبھا کی بات نہیں۔ خاص طور پر نوجوان لڑکے لڑکیاں اسکول، کالج جاتے اپنی جِم کلاس کے جوتے گلے میں ڈالے گھومتے نظر آ جاتے ہیں ۔
لیکن سُنی سنائی باتوں کے بعد اُس کا باہر نکلتے ہی ایسا دیکھنے سے اُس نے یہ بات ذہن نشین کر لی کہ کالے امریکی بدتمیز اور بد اخلاق ہیں، جنہیں کسی قسم کا ہوش نہیں اور گلے میں جوتے لٹکائے پھرتے ہیں ۔ مطلب انگریزی کہاوت “First impression is last impression” کے مطابق اس نے ذہن میں یہ بات بٹھا لی ۔
لیکن کسی سیاح جو پاکستان آئے، پر “First Impression” کس قسم کا پڑے گا ۔ لاہور، اسلام آباد اور کراچی تینوں ہوائی مستقر پر میں جا چکا ہوں ۔آپ کا سامان دھکیل کر لے جانے والوں کی آپسی جنگ شروع ہوجاتی ہے (اب یہ صورتحال قدرے بہتر ہے) ۔ باہر نکلتے ہیں فقیروں کا جم غفیر آپ کے گِرد ہو جاتا ہے، اور یہ کوئی عام فقیر نہیں، ائیرپورٹ فقیر ہیں جن میں ڈھٹائی کوٹ کوٹ کر بھری ہوئی ہے، دھتکارنے پر پیچھے نہیں ہٹتے، آپ کی قمیص کا دامن یا ہاتھ پکڑ کر چھوڑنے کا نام نہیں لیتے، اور اگر جان چھڑانے کے لئے کسی ایک کو کچھ دے دو، تو قطار میں لگا اگلا فقیر زیادہ شدومد سے پیچھے پڑ جاتا ہے ۔

خود ہی سوچیں کہ باہر والے پاکستانیوں کو فقیر کیوں نہیں سمجھیں گے اپنے First Impression کی بنیاد پر؟

ظالم لوک

Tuesday,24 February 2009
از : جہانزیب  
زمرات : میری زندگی

8 تبصرے
67 مشاہدات

ہمارے گاؤں میں ایک گھر ہے، جن کے دو بیٹے ذہنی معذور عرف عام میں پاگل تھے ۔ بڑا لڑکا کچھ کم جبکہ چھوٹا لڑکا نسبتاً اِس معذوری کا زیادہ شکار تھا ۔ اس کا اصل نام تھا خالد لیکن گاؤں بھر میں “خالو جھلا” کے نام سے پکارا جاتا تھا ۔ مجھ سے تقریباً کوئی دس پندرہ سال عمر میں بڑا تھا ۔ سارا دِن خالو جھلا گاؤں کی مختلف گلیوں میں بچوں کی “انٹرٹینمنٹ” کا سامان بنا رہتا تھا، نوجوان لڑکے اسے بچوں کی طرح تنگ تو نہیں کرتے تھے، لیکن اُس سے ٹھٹھے لگاتے تھے، کوئی گزر رہا ہوتا تو اُسے کہتے خالو اِسے یہ کہو، اور خالو جھلا وہ کہہ دیتا، جس پر قہقہے لگائے جاتے ۔
خاص طور پر بچوں کی مشق ستم، جس میں وہ اُسے تنگ کرتے اور جب وہ گالیاں دیتا تو دور کھڑے دانت نکالتے رہتے ۔یا اُسے تنگ کر کے بھاگتے تو وہ ان کے پیچھے گلیوں میں دوڑیں لگاتا رہتا ۔ البتہ پاگل ہونے کے باوجود خالو پانچ وقت مسجد میں نماز ضرور پڑھتا تھا، اور میاں صاحب(پنجاب میں مسجد امام کو میانڑا اور گھرانے کو میانڑے کہا جاتا ہے ) نے اس کے مسجد آنے پر بھی اعتراض جڑ دیا، لیکن لوگوں نے ان کی بات پر خاص کان نہیں دھرے ۔
اب کی بار پاکستان جانے پر گاؤں میں خالو جھلا کہیں نظر نہیں آیا، نہ اُس کی اتنی اہمیت تھی کہ کسی سے اُس کا پوچھا جاتا ۔ ہمارے یہاں موجودگی کے دوران میرے ایک چچا کی وفات ہو گئی تھی، اُن کی قبر پر فاتحہ پڑھنے کے لئے قبرستان کا رُخ کیا تو قبرستان میں ایک قبر کے گِرد احاطہ کر کے جھونپڑی نما عمارت بنی ہوئی تھی، جس پر مختلف رنگوں کے جھنڈے لگے ہوئے تھے اور وہاں کچھ خواتین و حضرات قبر پر دُعا (منتیں) مانگ رہے تھے ۔ چچا زاد سے پوچھا یہ کِس کی قبر ہے؟ تو اُس نے بتایا کہ یہ خالد کی قبر ہے، لوگ یہاں آ کر منتیں مانگتے ہیں اور دو سال سے چھوٹا سا عُرس بھی مناتے ہیں ۔
اور میں سوچ رہا تھا کیسی قوم ہیں ہم، زندہ لوگوں کو پتھر مارتے ہیں، اور مر جانے پر انہیں پیر بنا لیتے ہیں ۔

غلط اور صحیح

Monday,23 February 2009
از : جہانزیب  
زمرات : میری زندگی

7 تبصرے
50 مشاہدات

غلط کام کبھی کیا نہیں اور کوئی کام صحیح ہم سے ہوتا نہیں

بیلن ٹائم

Saturday,14 February 2009
از : جہانزیب  
زمرات : میری پسند

7 تبصرے
54 مشاہدات

خود منہ بولتی تصویر :D

ویلینٹائن نہیں بیلن ٹائن

ویلینٹائن نہیں بیلن ٹائن

الجہاد فی النار

Wednesday,11 February 2009
از : جہانزیب  
زمرات : امریکہ

7 تبصرے
60 مشاہدات

آسٹریلیا کے جنگلوں میں آگ لگی، بہت سے دائیں بازو کے بلاگز اور ویب سائٹس اور ریڈیو اسٹیشنز نے ملبہ ایک بار پھر مسلمانوں پر گرا دیا ہے ۔
اِن دائیں بازو کے حامیوں سے اگر مسلمان کی تعریف پوچھی جائے تو شائد کچھ یوں ہو گی ” ایسا شخص جو دن میں چوبیس گھنٹے، ہفتہ میں سات دِن اور سال میں تین سو پینسٹھ دِن غیر مسلموں کو قتل کرنے کے منصوبہ جات تیار کرتا رہتا ہے” اور مسلمان کی خصوصیات میں “ہر مسلمان دنیا کے دوسرے مسلمانوں کو نام سے جانتا ہے”، ” تمام مسلمان عربی پر عبور رکھتے ہیں” اِس لئے تمام دہشت گرد ویب سائٹ پر عربی میں ہدایات لکھی ہوتی ہیں، پھر جتنے مغربی ممالک میں مسلمان آباد ہیں وہ ایک “جامعہ منصوبہ بندی کر کے یہاں آباد ہوئے ہیں” ۔
اور سب سے زبردست، ماڈریٹ مسلم صرف وہ ہے، جو قرآن کی تعلیمات کو خاطر میں نہ لاتا ہو ۔ باقی جتنے مسلمان قرآن کی تعلیمات کو حق، سچ مانتے ہیں وہ مسلمان، دہشت گرد کے سِوا کچھ اور نہیں ہو سکتے ۔
ویسے یہ نام نہاد دائیں بازو کی قوتیں، مغربی طالبان ہیں، اور اِن کی ہرزہ سرائیوں کے شر سے اللہ آسٹریلیا میں مقیم مسلمانوں کو مخفوظ رکھے ۔