ماں کے نام

ہفتہ,10 مئي 2008
58 دفعہ پڑھا گیا

mother's love
یہ کامیابیاں، یہ عزت، یہ نام تم سے ہے
خدا نے جو دیا ہے مقام تم سے ہے
تمہارے دم سے ہے کھلے میرے لہو میں گلاب
میرے وجود کا سارا نظام تم سے ہے
کہاں بصارتِ جہاں اور میں کم سِن و ناداں
یہ میری جیت کا سب اہتمام تم سے ہے
جہاں جہاں ہے میری دُشمنی، سبب میں ہوں
جہاں جہاں ہے میرا احترام، تم سے ہے
سید وصی شاہ۔

اس تحریر پر تبصرہ کریں

اردو اور ترقی

ہفتہ,3 مئي 2008
137 دفعہ پڑھا گیا

افتخار اجمل صاحب کی یہ تحریر پڑھنے کے بعد میرا ارادہ تھا کہ وہاں تبصرہ کیا جائے، لیکن تبصرے کے طویل ہونے کے باعث میں نے مناسب یہی خیال کیا کہ اس پر ایک علیحدہ سے تحریر لکھوں ۔
اردو پر معترض ہونے والے زیادہ تر افراد کا تانہ ایک ہی بات پر ختم ہو جاتا ہے کہ اردو میں آج کی ترقی کے حوالے سے اصطلاحات کے نام نہیں ہیں، اس حوالے سے اردو دوسری زبانوں کے الفاظ اپنانے پر مجبور ہے ۔ ایسا اعتراض کرنے والے صرف ظاہری صورت دیکھتے ہیں اور زبانوں کے ارتقاء پذیری کے طریقہ کار کو یکسر نظر انداز کر دیتے ہیں ۔ دُنیا کی تاریخ میں مختلف ادوار میں مختلف قومیں اپنی ترقی کے عروج پر رہی ہیں، زمانہ قدیم میں یونانی ثقافت اپنے عروج پر تھی، تب اُس وقت کی دیگر زبانوں میں یونانی کے الفاظ بکثرت استعمال ہوئے ۔ بعد میں رومن حکومتوں نے اپنا عروج دیکھا تب دیگر زبانوں میں رومن الفاظ بکثرت استعمال ہونے لگے ۔ اسی طرح ساتویں صدی عیسوی کے بعد ایشیاء،افریقہ اور جبوبی یورپ میں مسلمانوں کے عروج کے ساتھ عربی الفاظ اِن علاقوں میں کثرت سے استعمال ہونے لگے، اور آج بھی انگریزی جو آج ترقی یافتہ زبان کہلاتی ہے وہ ان رومن، یونانی اور عربی اور بہت سی دیگر زبانوں کے ماخذ والے الفاظ استعمال کرتی ہے، جیسے الجبرا کا ماخذ عربی زبان ہے، لیکن جب اُسے انگریزی میں استعمال کیا جاتا ہے تب وہ ایک انگریزی لفظ سمجھا جاتا ہے، اسی طرح کیمرہ کا ماخذ عربی لفظ کمرہ ہے لیکن جب بھی کیمرہ کا لفظ استعمال کیا جاتا ہے اُسے انگریزی کا لفظ ہی سمجھا جاتا ہے ۔ ویسے ایک نوٹ کیمرہ کا تصور سب سے پہلے ابن الحیثم نے اپنی کتاب، کتاب المناظر میں بیان کیا تھا ۔
اوپر بیان کئے گئے حقائق سے یہ سمجھانا مقصود تھا کہ زبان نہیں قوم ترقی کرتی ہے، اور ترقی یافتہ اقوام کی زبان کو ہی ترقی یافتہ زبان کی سند حاصل ہوتی ہے ۔اس کے علاوہ کسی بھی مُلک میں سرکاری زبان اُس خطے میں اُس زبان کے پھلنے پھولنے میں مدد فراہم کرتی ہے، جب رومن ایمپائر کے تحت آدھی دنیا تھی انہوں نے سرکاری خط و کتابت کے لئے رومن کا استعمال کیا، عرب جہاں گئے وہاں انہوں نے عربی کو ہی سرکاری زبان کا درجہ دیا، اسی طرح برطانوی کالونیوں میں انگریزی ہی سرکاری زبان ٹھہری ۔ اس طرح کرنے سے آہستہ آہستہ سرکاری زبان کے الفاظ غیر محسوس طریقہ سے روزمرہ میں معمول بنتے گئے ۔ ہاسپیٹل یا ہسپتال سے پہلے بھی برصغیر میں مطب تھے، اسکول سے پہلے یہاں مدرسے یا مکتب موجود تھے اور ڈاکٹر سے پہلے بھی یہاں طبیب اور حکماء موجود تھے ۔ لیکن جب سرکاری دستاویزات میں آخری اصطلاحات کی بجائے انگریزی الفاظ کا استعمال ہوا اور عوام ان سے آہستہ آہستہ روشناس ہونے لگے تب یہی الفاظ معمول بنتے گئے ۔
اب ہم اردو کی تاریخ پر نظر دوڑائیں، تو اس زبان کے آغاز اور عروج کے زمانہ میں ہی برصغیر میں انگریزوں کا دور شروع ہو گیا، جِس سے اردو میں سرکاری زبان جو کہ انگریزی تھی کی ملاوٹ ہونا نا گزیر تھا ۔انگریزوں کے دور کے اختتام کے بعد پاکستان میں اردو کو قومی زبان کا درجہ تو دے دیا گیا، لیکن ہنوز سرکاری دستاویزات اور سرکاری زبان انگریزی ہی ہے ۔ میرے لئے تو یہ بات ایک انتہائی احمقانہ سوچ ہے، جس ملک کے ستر فی صد لوگ انگریزی زبان پر دسترس نہیں رکھتے اُس ملک کا آئین اور قانون انگریزی زبان میں ہے ۔ اب اگر ہم اعتراض کرتے ہیں کہ اردو جدید تقاضوں پر پورا نہیں اُترتی تب ہم اپنے آپ کو الزام دے رہے ہیں کہ اپنی زبان کو آگے بڑھانے کی صلاحیت ہم میں نہیں تھی ۔ورنہ ایسے نامساعد حالات میں بھی اردو زبان ترقی کرتی رہی ہے ۔ اور اب بھی اگر ایک پنجابی کو ایک پٹھان سے بات کرنے کے لئے ایک ذریعہ کامیابی سے فراہم کر رہی ہے ۔
دوسرا اعتراض ہے محبان اردو سے، میرے خیال میں کچھ اردو سے محبت کرنے والے کافی انتہا پسند واقع ہوتے ہیں ۔ ایک ترقی یافتہ زبان کی نشانی یہ ہوتی ہے کہ اُس زبان میں وقت کے ساتھ بدلنے کی صلاحیت موجود ہو، اُس میں یہ صلاحیت ہو کہ دوسری زبانوں کے الفاظ باآسانی اُس میں سما سکیں ۔ اگر آج ہم اس بات پر مُصر رہیں کہ غالب والی اردو ہی لکھی اور پڑھی جائے تو میرے خیال میں یہ اردو پر احسان نہیں بلکہ اُسے پیچھے دھکیلنے کی کوشش ہو گی ۔ اگر مطب کی بجائے ہسپتال روزمرہ میں مستعمل ہے ، تو ہمیں ہسپتال استعمال کرنے میں ہچکچاہٹ نہیں بلکہ فخر ہونا چاہیے کہ یہ اردو زبان کا لفظ ہے جس کا ماخذ انگریزی زبان ہے ۔ہم بڑی آسانی سے کوزہ کے لئے گلاس کا استعمال کر سکتے ہیں، اور چاہیں تو دریا کو گلاس میں بند کر سکتے ہیں ۔

اس تحریر پر تبصرہ کریں

بہار آئی

جمعرات,1 مئي 2008
142 دفعہ پڑھا گیا

Spring in New York
بہار آئی تو جیسے اِک بار
لوٹ آئے ہیں پھر عدم سے
وہ خواب سارے، شباب سارے
جو تیرے ہونٹوں پہ مر مٹے تھے
جو مٹ کہ ہر بار پھر جئے تھے
نکھر گئے ہیں گلاب سارے
جو تیری یادوں سے مشکبو ہیں
جو تیرے عشاق کا لہو ہیں

اُبل پڑے ہیں عذاب سارے
ملالِ احوالِ دوستاں بھی
خمارِ آغوشِ مہوشاں بھی
غبارِ خاطر کے باب سارے
تیرے ہمارے
سوال سارے، جواب سارے
بہار آئی تو کُھل گئے ہیں
نئے سرے سے حساب سارے۔

فیض احمد فیض۔

اس تحریر پر تبصرہ کریں

تبصرے

جمعرات,1 مئي 2008
162 دفعہ پڑھا گیا

اگر کوئی مجھ سے پوچھے کہ ورڈپریس تھیم ٹمپلیٹ میں کونسا ٹمپلیٹ سب سے مشکل ہے، تو میرا جواب ہو گا تبصروں کا سانچہ ۔ اسی لئے میں نے اس سانچہ کو سب سے آخر میں بنانے کا فیصلہ کیا ہے ۔ تبصروں کے سانچہ کے لئے ہم ورڈپریس کے ڈیفالٹ تھیم کا سانچہ استعمال کریں گے ۔یہاں دو باتیں کہنا چاہوں گا، جب آپ کسی بنے بنائے سانچہ کو ورڈپریس تھیم میں ڈھالنے کی کوشش کریں گے تو زیادہ تر سانچوں میں تبصروں کا سٹائل نہیں بنایا گیا ہو گا، لیکن پھر بھی بہت سے تھیم ایسے ہوتے ہیں جن میں پہلے پیراگراف کا سٹائل دوسرے پیراگراف سے مختلف ہوتا ہے۔ ایسی صورت میں آپ پہلے سٹائل کو پوسٹ کا سٹائل اور دوسرے کو تبصروں کا سٹائل بنا سکتے ہیں ۔
ایک اور صورت یہ بھی ہے کہ پوسٹ اور تبصروں کا سٹائل ایک ہی رکھا جائے، لیکن سب سے بہتر یہی ہے کہ نئے سرے سے تبصروں کا سٹائل بنا لیا جائے ۔ ورڈ پریس کے ڈیفالٹ تھیم میں تبصروں کا سانچہ مندرجہ ذیل ہے ۔ پڑھنا جاری رکھیں >>

اس تحریر پر تبصرہ کریں

سنگل / پیج

منگل,29 اپريل 2008
84 دفعہ پڑھا گیا

جب آپ کسی بلاگ پر کسی تحریر کے عنوان پر کلک کرتے ہیں، تو سب سے اہم تبدیلی جو نظر آتی ہے کہ صرف ایک وہی تحریر اور اس پر ہونے والے تبصرہ جات نظر آنے لگتے ہیں، یہی کچھ حال پیج والے سانچہ کا ہے ۔ ہم انڈیکس فائل میں تبصرہ جات دکھانے والے ٹیگ کا استعمال کر کے تبصرہ دکھانے کا انتظام کریں گے، اور فائل کو ذیل کی طرح بنا لیں گے ۔

<?php get_header(); ?>
<div id=”right”>
<?php if ( have_posts() ) : while ( have_posts() ) : the_post(); ?>
<h2 id=”post-<?php the_ID(); ?>” class=”post-title”><a href=”<?php the_permalink(); ?>” rel=”bookmark” title=”<?php the_title(); ?>”><?php the_title(); ?></a></h2>
<p class=”entry”><?php the_content(”); ?></p>
<div class=”post-footer”><div class=”date”><?php the_time(’l,j F Y’) ?></div><div class=”author”><?php the_author_link(); ?></div><div class=”comment-count”><?php comments_popup_link(’پہلا تبصرہ کریں’, ‘ایک تبصرہ’, ‘% تبصرے’); ?><?php edit_post_link(’| ترمیم’, ”, ‘ | ‘); ?></div></div>
<div style=”float: right;”><?php next_post_link(); ?></div>
<div style=”float: left;”><?php previous_post_link(); ?></div>
<?php endwhile; ?>
<!–
<?php trackback_rdf(); ?>
–>
<?php else : ?>
<?php include (TEMPLATEPATH . ‘/404.php’); ?>
<?php endif; ?>

<!– comments start here –>
<div id=’comment-box’>

<?php comments_template(); ?>

</div>

پڑھنا جاری رکھیں >>

اس تحریر پر تبصرہ کریں

سرچ/آرکائیو

منگل,29 اپريل 2008
81 دفعہ پڑھا گیا

جب کوئی صارف آپ کے بلاگ پر کچھ تلاش کرتا ہے تو تلاش کے نتائج دکھانے کے لئے سرچ والا سانچہ استعمال ہوتا ہے ۔ اسی طرح جب کوئی مخفوظات دیکھنا چاہے یا کسی زمرہ میں تحریریں دیکھنا چاہے تو اس مقصد کے لئے آرکائیو والا سانچہ استعمال ہو گا ۔ ہم نے ابھی انڈیکس فائل کو سرچ اور آرکائیو کی فائل میں کاپی پیسٹ کیا تھا، ہمیں اُس میں صرف ایک تبدیلی کرنا ہے ، جو مندرجہ ذیل ہے ۔

<p class=”entry”><?php the_content(”); ?></p>

کی بجائے ہم ذیل کا استعمال کریں گے ۔

<p class=”entry”><?php the_excerpt(”); ?></p>

انڈیکس والے صحفہ میں مکمل تحریر نظر آ رہی تھی، لیکن ٹیگز کو بالا طریقہ سے بدلنے کے بعد سرچ اور آرکائیو میں تحریر اختصار کے ساتھ نظر آئے گی ۔

اس تحریر پر تبصرہ کریں

ورڈپریس انڈیکس

پير,28 اپريل 2008
101 دفعہ پڑھا گیا

انڈیکس فائل بلاگ کے مرکزی صحفہ کو دکھاتی ہے، جب بھی کوئی صارف آپ کے بلاگ کا پتہ لکھتا ہے تو جو صحفہ بنتا ہے وہ اسی فائل کی مدد سے ترتیب پاتا ہے ۔ ہمارے سانچہ میں سب سے اوپر ہیڈر پھر پوسٹ، اس کے بعد سائیڈبار اور سب سے آخر میں فٹر تھا۔ ہم اسی ترتیب سے انڈیکس فائل کو ترتیب دیں گے، لیکن یہاں بجائے ہم ٹیگز دوبارہ سے لکھیں، ورڈپریس تھیم کے ٹیگز کی مدد سے پہلے بنائی گئی فائلوں کو صرف ایک ٹیگ کی مدد سے یہاں ظاہر کر دیں گے ۔ سب سے پہلے ہیڈر کو
بلانے کے لئے ذیل کا ٹیگ استعمال ہوتا ہے ۔

<?php get_header(); ?>

اوپر والا ٹیگ لکھنے سے ہمارا بنایا ہوا ہیڈر کا پورا سانچہ یہاں ظاہر ہو جائے گا۔ اس کے بعد پوسٹ والا حصہ آتا ہے جِسے ہم نے پہلے مکمل نہیں کیا تھا ۔ یہ کام اب ہم یہاں کریں گے ۔ ایچ ٹی ایم ایل کی انڈیکس فائل کھول کر اُس میں پوسٹ کو ظاہر کرنے والا حصہ ہم یہاں چسپاں کر لیتے ہیں جو مندرجہ ذیل ہے ۔ پڑھنا جاری رکھیں >>

اس تحریر پر تبصرہ کریں

سائیڈ بار سانچہ ۔

ہفتہ,26 اپريل 2008
124 دفعہ پڑھا گیا

اب ہم دوبارہ سے ایچ ٹی ایم ایل کی انڈیکس فائل کا جائزہ لیتے ہیں،انڈیکس فائل میں سب سے پہلے ہیڈر ہے، جہاں ہیڈر ختم ہوتا ہے وہاں فوراً نیچے پوسٹ شروع ہو جاتی ہے، جہاں پوسٹ ختم ہوتی ہے اُس کے نیچے سائیڈبار شروع ہو جاتی ہے اور سب سے نیچے ہیڈر ۔یعنی ہیڈر، پوسٹ،سائیڈبار، فُٹر ۔ مگر ضروری نہیں کہ ہر سانچہ میں یہ ترتیب ایسے ہی ہو، کچھ سانچوں میں ہیڈر کے فورا بعد سائیڈبار پہلے آتی ہے اور پوسٹ اُس کے بعد ہوتی ہے ۔ لیکن جو بھی ترتیب سانچہ میں ہے اُس کو یاد رکھنا بہت اہم ہے ۔
ترتیب کے حساب سے ہم پہلے پوسٹ والے سانچہ کو بنانا چاہیے تھا، لیکن اُس کو ہم آخر کے لئے رہنے دیتے ہیں اور کیوں؟ یہ آپ کو بعد میں پتہ چلے گا۔ اب ہم انڈیکس فائل سے سائیڈ بار کا کوڈ کاپی کر کے سائیڈ بار والی فائل میں چسپاں کریں گے ۔ جو کہ مندرجہ ذیل ہے ۔ پڑھنا جاری رکھیں >>

اس تحریر پر تبصرہ کریں

ہیڈر فائل کی تیاری

جمعتہ المبارک,25 اپريل 2008
107 دفعہ پڑھا گیا

یہاں سے ہم اپنا اصل کام یعنی سانچہ کو توڑنا اور ورڈپریس کے قابل بنانا شروع کریں گے ۔سانچہ کو تورٹے وقت سب سے اہم بات جس کا خیال آپ کو رکھنا ہو گا، وہ یہ ہے کہ جو سلیکٹر ٹیگ جیسے ڈِوو ٹیگ شروع ہوگا، اُس کو بند بھی لازمی کرنا ہے علاوہ ازیں کہیں کوئی ٹیگ دوبار نہیں آنا چاہیے۔ اس لئے انڈیکس سے کاپی کرتے وقت یہ بات ذہن میں رکھیں کہ آپ نے کہاں تک کا کوڈ کاپی کر کے نئی فائل میں پیسٹ کیا ہے ۔ایک چھوٹی سی غلطی پورا سانچہ تباہ کر کے رکھ سکتی ہے، اس لئے کوشش کریں کہ غلطی ہو ہی نہیں ۔
اب ہم اپنی انڈیکس فائل کو دیکھتے ہیں،صحفہ کے ہیڈ ٹیگ کے ختم ہونے تک سب کچھ ہم کاپی کریں گے، باڈی ٹیگ کے فوراً نیچے ہمیں ہیڈر نام کا سلیکٹر نظر آ رہا ہے جس کے اندر دو مختلف کلاسز ہیں ایک لوگو کی دوسری مینوبار نام کی اضافی طور پر سرچ نام کی ایک کلاس بھی موجود ہے، اس کے بعد یہ تمام سلیکٹرز ایک ایک کر کے بند ہو رہے ہیں ۔ فوراً بعد ہی پیج نام کا ایک سلیکٹر ہے،اس سلیکٹر کے درمیان میں پورا صحفہ یعنی پوسٹ اور سائیڈبار موجود ہیں ۔ ہم اس سلیکٹر تک سب کچھ کاپی کر کے اس ہیڈر فائل میں پیسٹ کر دیں گے ۔ ذیل میں دیکھیں پڑھنا جاری رکھیں >>

اس تحریر پر تبصرہ کریں

انڈیکس فائل نمونہ

جمعرات,24 اپريل 2008
152 دفعہ پڑھا گیا

اگر آپ کے پاس ایک عدد پسندیدہ سانچہ موجود ہے، تو اُس میں ایک انڈیکس نام کی فائل موجود ہو گی ۔ اب ہر ایک کی پسند علیحدہ ہوتی ہے تو مجھے اندازہ نہیں ہے کہ آپ کے پاس کونسا سانچہ ہے ۔ سمجھانے کے مقصد کے لئے یہاں میں ایک بہت ہی سادہ سی قسم کی ایک انڈیکس فائل تیار کریں گے، اور اُس کے مطابق ورڈپریس تھیم تیار کریں گے ۔آپ کے پاس یہ فائل کچھ اور ترتیب میں ہو سکتی ہے لیکن تھیم بنانے کا طریقہ پھر بھی وہی ہے ۔صرف آپ کو سلیکٹرز کا دھیان رکھنا ہے کہ کونسا سلیکٹر صحفہ میں کس چیز کو ظاہر کر رہا ہے ۔ ذیل میں میری تیار کردہ انڈیکس فائل ہے جَسے ہم تھیم میں بدلیں گے ۔ پڑھنا جاری رکھیں >>

اس تحریر پر تبصرہ کریں